کیا سے کیا ہوتا سعودی عرب!

✍ *{رأي اليوم}*
٢١ رجب المرجب ١٤٣٩ھ (پیر)

*کیا سے کیا ہوتا سعودی عرب!*

ایک اسرائیلی اسکالر اور جرنلسٹ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک تصویر پوسٹ کی ہے، جس میں محمد بن سلمان اور ان کے بھائی: خالد بن سلمان نظر آ رہے ہیں۔ اس نے تصویر پر تبصرہ کیا ہے کہ محمد بن سلمان کا آئندہ دو مہینوں میں ہی سعودی عرب کے بادشاہ کے طور پر انتخاب عمل میں آ جائے گا۔۔۔

ایک اسرائیلی یہودی اس یقین اور اعتماد کے ساتھ پیش گوئی کر رہا ہے کہ محمد بن سلمان دو ماہ بعد بادشاہ بن جائیں گے اور ان کے بھائی: خالد بن سلمان ان کے ولیِ عہد ہوں گے۔۔۔ مشرقِ وسطیٰ اور بہ طور خاص سعودی عرب میں چل رہے موجودہ حالات اور تغیرات کو دیکھتے ہوے یہ کوئی حیرت انگیز واقعہ نہیں ہے؛ کیوں کہ محمد بن سلمان اپنے ولیِ عہدی کے دور میں مستقل ایک "معتدل" اور دنیا کے لیے "روادار" نیا اسلام پیش کر رہے ہیں‌، جو ناجائز ریاست: اسرائیل اور ظالم صہیونیوں سمیت ہر ایک کو اس کا حق دے۔۔۔ ایسا لگتا ہے عربوں نے سعودی عرب کی زیرِ قیادت، اسرائیل کی ریاست کو تسلیم کر لیا ہے۔
عربوں اور تمام مسلمانوں کے لیے اس سے بڑی ہزیمت و شکست اور عار و شرم کی بات کوئی نہیں!!

پوری امتِ مسلمہ کے لیے مسئلۂ فلسطین سے بڑا اور سنگین مسئلہ اور اِن ظالم یہودیوں سے بڑا اور خطرناک دشمن کوئی دوسرا نہیں، جنھوں نے خدا کی مقدس اور بابرکت سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔۔۔ سعودی عرب، مسلمانوں کا مرکز، ان کا روحانی محور، اور ان کے دین و شریعت کی جائے نزول ہونے کے باوصف، امت کے سب سے عظیم مسئلے سے رفتہ رفتہ علیحدگی اختیار کر رہا ہے!!

وہ ملک، جو کبھی دین و شریعت میں اپنی پختگی، دینی معاملات پر عمل درآمد کرنے اور اللہ کی حدود کو نافذ کرنے میں برتی جانے والی سختی کے لیے مشہور تھا، آج نیا "روادار" اور "معتدل" اسلام تخلیق کرنے لگا ہے اور اس نئے "معتدل" اسلام کو ان خطوں میں متعارف کرانے کے دعوے کرنے لگا ہے، جہاں اس کا دینی، سیاسی اور تہذیبی اثر و رسوخ ہے!!

ہم؛ بل کہ درست یہ ہے کہ ہمارے قائدین اپنے دوست اور دشمن میں تمیز اور فرق کرنے سے عاجز ہوگئے ہیں؛ چناں چہ برادر ملک: قطر تو عرب ممالک کا دشمن قرار پایا ہے اور ناجائز ریاست: اسرائیل سچا دوست بن چکا ہے یا بننے ہی والا ہے۔۔۔ اخوان المسلمون ایسی تنظیم اور کئی علم و دین کے ماہر علمائے کرام، ہمارے بغض و عتاب کے مستحق قرار پائے؛ جب کہ ماسونیت نامی شیطانی تنظیم کے لیے کام کرنے والے یہودیوں اور عیسائیوں پر ہم محبت کے ڈورے ڈالنے لگے ہیں!!
کیا اس سے بڑی بھی کوئی ذلت و رسوائی رہ گئی ہے؟ امتِ مسلمہ کے لیے یہ نہایت ہی عظیم خسارہ ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں!!

شریعتِ اسلامیہ، سنتِ مطہرہ، دینِ حنیف اور اس کے متعدد شعائر کے اندر مسلمانوں کی قیادت کا دعویٰ کرنے والا سعودی عرب ہی آج ان کی گفتار و کردار: ہر قسم کی بے حیائیوں اور برائیوں کی جانب رہ نمائی کرنے لگا ہے۔۔۔ آگے کیا کیا گل کھلنے باقی ہیں، کسے معلوم؟ مجھے تو اب اس سے امتِ مسلمہ کے حق میں کسی خیر کی امید بالکل بھی نہیں!!

سادہ لوح مسلمان، لندن اور واشنگٹن کے بازار میں یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاتھوں نہایت معمولی داموں میں اپنی غیرت کا سودا کر رہے ہیں اور اپنی آبرو اور اراضی، ان مکار اور مردود یہود کے ہاتھوں چند کوڑیوں میں بیچنے کو مجبور ہیں!!

یقیناً یہ ایک ایسی شرم ناک شکست ہے، جس کی مثال جدید تاریخ میں نہیں ملتی۔ معاملہ تب زیادہ سنگین اور شرم ناک بن جاتا ہے، کہ امت کو اس ذلت و خواری سے دوچار کرنے والا کوئی اور نہیں؛ خود سعودی عرب ہی ہے۔

اے میرے پروردگار! تو ہی مددگار ہے، تجھی پر بھروسہ ہے اور تجھے ہی اپنا دکھڑا سناتے ہیں! اے سارے جہانوں کے رب!

★★★★★★★★★★★★
✍ *استاذِمحترم: مولانا نصیرالدین صاحب قاسمی دامت برکاتہم*
استاذ شعبۂ عربی ادب: مدرسہ خادم الاسلام بھاکری، جودھپور راجستھان

ترجمہ: نیک محمد 9001835816

Millatmedia.com

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن