پھولوں کا جنازہ
پھول دیکھے ہیں جنازوں پہ اکثر ناصر
آج میری آنکھوں نے پھولوں کے جنازے دیکھے
کیفیت ایمان سے سرشار والدہ نے اپنے لخت جگر، نور نظر اور جان سے عزیز بیٹے کو چند سال کی عمر میں ہی اپنے آپ سے جدا کردیا تھا، بچہ قرآن پڑھے گا، حافظ بنے گا، عالم بنے گا یہ سوچ کر ہی والدہ جذبہ ایمان سے سرشار ہوجاتی تھی، دل خوش ہوتا، آنکھوں میں چمک پیدا ہوتی اور سر فخر سے بلند ہوجاتا۔
جمعرات کو بچہ گھر آتا، ماں خوشی مناتی، بچے کی پسند کا کھانا بناتی اور پھر اس سے ڈھیر ساری باتیں کرتی، باتوں ہی باتوں ميں اس سے معلوم کرلیتی کتنے پارے ہوئے، کہاں سبق پہنچا اور مدرسے میں کیسی زندگی گذر رہی ہے، کہیں مسکراتی کہیں ہنستی اور بعض باتوں سے فکرمند بھی ہوجایا کرتی لیکن پھر جمعہ آتا دل پر پتھر رکھتی اور اپنے بچے کو مستقبل کا حافظ قرآن دیکھ کر خوشی خوشی وداع کردیتی تھی۔
آج تو بچہ حافظ ہورہا تھا، ماں کی مراد اور باپ کی تمنا پوری ہورہی تھی، بہن سسرال سے خوشی خوشی آئی تھی، خالہ ماموں اور ان کے بچے بھی آئے تھے، پھوپی اور چچاؤں کی اولاد بھی موجود تھی، سب خوش تھے، سب انعام لیکر آئے تھے، کوئی کپڑے لایا، کسی نے پیسے دینے کا ارادہ کیا اور بہت سوں نے تو ہار ڈالنے کا پروگرام بھی بنایا تھا، سب ننھے حافظِ کلام پاک کے والدین کو فخر سے دیکھ رہے تھے، مبارکباد دے رہے تھے، بچے کی تعریف کر رہے تھے اور بچے کے مستقبل کے لیے نصیحتیں بھی کر رہے تھے۔
لیکن پھر اچانک واویلا تھا، رونا چلانا تھا خوشی ماتم میں بدل گئی تھی، ہر انسان کی آنکھوں سی آنسوں ٹپک رہے تھے، ماں کی چیخوں اور باپ کی آہوں نے سبھی کا کلیجہ چیر کر رکھ دیا تھا، خبر ملی تھی کہ امریکی ڈرون نے امن کے قاصد، سفید لباس اور سفید پگڑی میں ملبوس ننھے ننھے پھولوں کی زندگی ایک جھٹکے میں ختم کردی تھی، خوشی سے چمکتے دمکتے چہرے خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے، کسی کا سر نہیں تھا، کسی کا بازو غائب اور کسی کا پاؤں کٹا ہوا تھا، کچھ ایک جھٹکے میں ختم ہوگئے، کچھ تڑپے، کچھ چلائے اور کچھ چیخے بھی تھے لیکن پھر خاموشی سناٹا اور بھاگ دوڑ، چیخ و پکار تھی، ہر باپ ادھر ادھر اس امید میں بھاگ رہا تھا کہ شاید اس کا لخت جگر زندہ ہو، ابھی اس کے نور نظر میں سانس باقی ہو لیکن وہاں تو نعشوں کے سوا کچھ نہ ملا، خون میں لت پت پھول تھے اور معصوم پھول مرجھائے ہوئے پڑے تھے۔
پھول دیکھے ہیں جنازوں پہ اکثر ناصر
آج میری آنکھوں نے پھولوں کے جنازے دیکھے
یہ کسی ایک گھر کی کہانی نہیں ہے بلکہ ان سیکڑوں گھروں کے دردناک قصے ہیں جن گھروں کے چراغ آج امریکہ نے بجھادئے ہیں، ان خاندانوں کی غمناک کہانیاں ہیں جن خاندانوں کے پھول آج افغانستان میں بن کھلے ہی مرجھا گئے ہیں، جن معصوموں کو مسل دیا گیا ہے، اور جن بے خطاؤں کو روند دیا گیا ہے۔
ان کی خطا کیا تھی؟ ان کا قصور کیا تھا؟ ان کا گناہ کیا تھا؟ یہی نا کہ وہ مدرسے میں پڑھتے تھے؟ وہ قرآن کے حافظ بنے تھے؟ اللہ کا نام لیتے تھے اور وہ مسلمان تھے؟
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جاجا کے تھانے میں کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں
آخری بات والدین کو صبر کرنا چاہیے کہ اللہ نے انہیں ایک ساتھ دو دو سعادتیں عطا فرمائی ہیں، حفظ کلام پاک اور شہادت جیسی فضیلت ایک ساتھ ملی ہیں۔ اور سب کو دعا کرنی چاہیے کہ اللہ والدین اور سبھی پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ظالم و جابر امریکہ کو اس کے کیے کی بڑی سے بڑی سزا عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین
Comments
Post a Comment