مولانا سالم قاسمی کا انتقال اسلامی دنیا کے لئے بڑا جھٹکا ہے: مفتی تقی عثمانی

مولانا سالم قاسمی کا انتقال اسلامی دنیا کے لئے بڑا جھٹکا ہے: مفتی تقی عثمانی

خطیب الاسلام کی وفات پر راہل گاندھی، سشما سوراج ، ملائم سنگھ ، شاہنواز حسین، خالد سیف اللہ رحمانی، غلام نبی آزاد، آشو ملک، سید احمد بخاری سمیت ملک وبیرون ملک سے تعزیتوں کا سلسلہ جاری
دیوبند؍حیدرآباد؍لکھنو؍نئی دہلی۔ ۱۵؍اپریل: (رضوان سلمانی؍نمائندہ خصوصی) دارالعلوم وقف کے صدر مہتمم اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سینئر نائب صدر مولانا سالم قاسمی کے انتقال کی خبر سے پورا علاقہ غمگین ہے ان کے انتقال کی خبر جیسے ہی ملک میں پھیلی تو قرب وجوار کے علاوہ دور دراز سے لوگ آخری دیدار اور نماز جنازہ میں شرکت کی غرض سے دیوبند پہنچنے۔ مولانا کی نماز جنازہ ان کے صاحبزادہ مولانا سفیان قاسمی نے دارالعلوم دیوبند کے احاطہ مولسری میں پڑھائی، نماز جنازہ میں ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور مولانا سالم قاسمی کو قاسمی قبرستان میں مولانا قاسم نانوتویؒ اور قاری محمد طیبؒ کے درمیان سپرد خاک کیا گیا۔ خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمی کے سانحہ ارتحال کے بعد آج بھی سیاسی جماعتوں کے اہم لیڈران اور علماء کی جانب سے تعزیتی پیغامات کاسلسلہ جاری رہا۔ ملک کی بڑی ہستیوں نے اپنے تعزیتی پیغام میں مولانا کے علمی اور مذہبی کاموں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے ایک عالم دین ہی نہیں بلکہ ایسی ہستی کو کھودیا جو بیرون ممالک میں بھی ہندوستان کا وقار بلند کرتے تھے ۔ تفصیل کے مطابق خطیب الاسلام مولانا سالم قاسمی کے انتقال کے بعد آج بھی تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری رہا، مرکزی وزیر، وزیر خارجہ سشما سوراج نے مولانا سالم کے صاحبزادے مولانا سفیان قاسمی کو بذریعہ فون تعزیتی پیغام دیا ، جب کہ کانگریس کے قومی صدر راہل گاندھی نے بھی بذریعہ فون ہی مولانا سفیان قاسمی سے تعزیت پیش کی ، ایم ایل سی آشو ملک دیر رات ہی سماج وادی پارٹی کے رہنما ملائم سنگھ یادو کا تعزیتی پیغام لے کر ان کی رہائش گاہ پر پہنچے تو کانگریس کے احمد پٹیل، پاکستان کے عالم دین مفتی تقی عثمانی، کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد ، بھاجپا کے سابق کابینہ وزیر شاہنواز حسین، دیوبند بی جے پی اسمبلی رکن کنور برجیش نے بھی بذریعہ فون اپنی تعزیت پیش کی، جب کہ بہار کے کانگریس ممبر پارلیمنٹ مولانا اسرار الحق قاسمی ، سابق اسمبلی رکن عمران مسعود، سہارنپور اسمبلی رکن مسعود اختر، ایم ایل سی آشو ملک وغیرہ دیر رات ہی دیوبند مولانا کی رہائش گاہ پر پہنچے اور نماز جنازہ میں شرکت کی۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ تعلیم کے تئیں مولانا سالم کا جنون حد تک تھا اور انہوں نے بیرون ممالک میں تعلیم کے نمائندے کی حیثیت سے ملک کاوقار بلند کیا ہے جو ایک مثال ہے۔ کانگریس کے قومی صدر راہل گاندھی اور احمد پٹیل نے اپنے پیغام میں کہا کہ مولانا سالم قاسمی نے اپنے علم سے دنیا کو روشن کیا اور اپنی سادگی سے وہ ہر کسی کو چھولینا ان کا سب سے بڑا فن رہا ہے ۔ سماج وادی پارٹی کے رہنما ملائم سنگھ یادو نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا نے اپنے لئے کبھی کچھ نہیں مانگا وہ علم کے بے تاج بادشاہ تھے جن کی کمی برسوں تک محسوس کی جاتی رہے گی۔ پاکستان شرعی عدالت کے سابق جسٹس مفتی تقی عثمانی نے مولانا سالم قاسمی کے ذریعہ تعلیم کے تئیں کئے گئے کاموں کو سنہرا باب بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس سادگی کے ساتھ انہوں نے اپنی زندگی گزاری ایسا کرنے والا اس دور میں شاید ہی کوئی ہو ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا علم کے وہ سمندر تھے جن کے پاس بیٹھنے والا بھی علم کی خوشبو سے شرابور ہوجاتا تھا۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ مولانا کا انتقال اسلامی دنیا کے لئے ایک بڑا جھٹکا ہے۔ تنظیم علماء ہند کشمیر کے صدر مدرسہ عربیہ شمس الہدیٰ سرینگر کے مہتمم سید احمد بخاری قاسمی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ ہمیشہ مولانا کی سرپرستی حاصل رہی ہے وہ ایسے باکمال شخص ہی نہیں بلکہ شخصیت تھے جن کے مواعظ حسنہ سے لوگ مستفید ہوتے رہے ہیں، وہ سلسلہ قاسمی کے عظیم سپوت ، علوم اسلامی کے شارح وترجمان اور نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں دارالعلوم کی ایک شناخت وپہچان اور دیوبندی مکتب فکر کی علامت تھے ۔مفتی طارق نے اپنے پیغام میں کہا کہ مولانا مرحوم ایک ایسی شخصیت تھے جن کا خلا پُر ہونا مشکل ہے ، مرحوم ایک زمانہ تک علمی خدمات کے لئے جانے جائیں گے۔ ان کے علاوہ پاکستان کے ممتاز مناظر اسلام مولانا الیاس گھمن، انگلینڈسے مولانا یوسف متالا، سعودی عرب سے شیخ عبدالعزیز عمار ، ہندوستان کی سرکردہ شخصیات میں مولانا رابع حسنی ندوی، مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، عالم فن خطاطی کے ماہر مولانا طارق بن ثاقب وغیرہ کے پیغامات موصول ہوئے ہیں، وہیں سماجی و سیاسی شخصیات وغیرہ کے علاوہ ڈاکٹر انورسعید ، ڈاکٹر اختر سعید، مولانا ارشد فاروقی، مولانا مزمل حسین، سید وجاہت شاہ، نسیم انصاری ایڈوکیٹ، اسعد جمال فیضی وغیرہ کے علاوہ سینکڑوں شخصیات کی جانب سے مولانا سفیان قاسمی کو تعزیتی پیغامات بذریعہ ٹیلی فون اور بذریعہ خط موصول ہورہے ہیں۔  خانوادۂ قاسمی کے چشم وچراغ، متکلم اسلام، استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ کی وفات ملت اسلامیہ کے لئے بہت بڑا خسارہ اور علمی دنیا کے لئے ایک عظیم نقصان ہے، وہ نہ صرف ایک مقبول خطیب، باکمال استاذ، صاحب نظر مصنف اور زمانہ شناس مفکر تھے؛ بلکہ اپنی خاندانی روایات اور بلند اخلاق واوصاف کے حامل تھے، وہ اپنی قائدانہ صلاحیت، خلوص، انکساری اور زبان وقلم کے اعتدال کی وجہ سے ملت اسلامیہ کے تمام حلقوں میں مقبول تھے؛ اسی لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تاسیس کے وقت سے ہی وہ اس کے رکن تھے، اور ایک عرصہ سے نائب صدر کے عہدہ پر فائز تھے، وہ مسلم مجلس مشاورت کے بھی صدر تھے، دارالعلوم وقف دیوبند کے صدر مہتمم ہونے کے علاوہ دارالعلوم ندوۃ العلماء (لکھنؤ) جامعہ مظاہرالعلوم وقف سہارنپور اور ڈھیر سارے اداروں کی مجلس انتظامی کے رکن رکین تھے، اسلامی فقہ اکیڈمی انڈیا جیسے علمی وتحقیقی ادارہ کے وہ حین حیات سرپرست تھے، فکر رسا اور زمانہ آگہی کی وجہ سے ان کے مشوروں کو بڑی وقعت کی نظر سے دیکھا جاتا، اس حقیر کے لئے یہ ایک ذاتی نقصان بھی ہے؛ کیوں کہ اس کو دارالعلوم دیوبند میں جن اساتذہ سے کسب فیض کا شرف حاصل ہوا، ان میں تنہا وہی باقی رہ گئے تھے، اللہ تعالیٰ ان کی بال بال مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور جو خلاء پیدا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے پُر ہونے کی صورت پیدا ہو جائے۔دارالمبلغین کے استاد تفسیر و حدیث حضرت مولانا عبدالباری فاروقی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ خطیب الاسلام حضرت مولانا سالم قاسمی صاحب رحمۃاللہ علیہ عظیم ترین شخصیت کے حامل تھے ۔آپ سے عرب و عجم نے خوب استفادہ کیا ۔آل انڈیا یونایٔٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ کے قومی صدر و رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل قاسمی نے ملت اسلامیہ کے لئے ایک عظیم سانحہ قرار دیا  ہے۔ انہوں نے کہا کہ یقینا قحط الرجال کے اس دور میں حضرت ہم سب کے لئے شجر سایہ دار کی حیثیت رکھتے تھے۔ وہیں ممبئی کے دارالعلوم عزیزیہ،میرا روڈمیں آج حضرت مولانا محمد سالم قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے لئے قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا اور اس کے بعد ایک تعزیتی اجلاس زیر صدارت مولانا محمد شرافت حسین مظاہری (صدر المدرسین) منعقد ہوا۔اس اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے مولانا محمد عارف عمری استاد دار العلوم عزیزیہ نے کہا کہ حضرت والا کی خاندانی نسبت بانی دار العلوم دیوبند سے ہے اور اس ادارے نے دین اسلام کی جو لا زوال خدمت انجام دی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔مولانا شرافت حسین مظاہری نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ حضرت مولانا نے اپنی پوری زندگی مذہبی تعلیم کے حصول اور اس کی تعلیم میں بسر کی جو ایک مومن کا مقصود اصلی ہے۔تحفظ شریعت فاؤنڈیشن حیدرآباد ‘تلنگانہ کے صدر نشیں مفتی تنظیم عالم قاسمی نے دارالعلوم وقف دیوبندکے صدر مہتمم اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر حضرت مولانا محمد سالم صاحب قاسمی کے انتقال پر اپنے گہرے دکھ اور رنج و الم کا اظہار کرتے ہوے اسے اس صدی کا اندوہناک حادثہ  قرار دیا ہے۔انہوں نے آج اپنا تعزیتی بیان جاری کرتے ہوے کہا کہ مولانا کی وفات سے علم و فن کا روشن ستارہ اور علماء دیوبند کاآفتاب غروب ہوگیا ۔

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن