قوموں کے عروج وزوال کے اسباب پر ایک تجزیاتی مضمون

قوموں کے عروج وزوال کے اسباب پر  ایک تجزیاتی مضمون

ہر  علوم و فنون کی اپنی ایک جگہ اور اس کی اہمیت ہے اس کے درجات و مراتب ہیں قوموں کے عروج و زوال کا تعلق علوم و فنون سے کبھی نہیں رہا ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حکومت کئی ہزار مربع میل پر تھی لیکن کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو علوم فنون جس سے مراد دنیاوی علوم و فنون ہیں اس میں مہارت تھی ۔لیکن جب فتوحات بڑھیں اور دیگر علوم و فنون کی ضرورت پڑی آپ نے ایسے لوگوں کی خدمات بقدر ضرورت حاصل کی ۔ حضرت معاویہ نے لشکری بیڑے کو تیار کروایا ہاسپٹل بنوایا جب ضرورت ہوئی ۔ جب ضرورت بڑھی تو بیت الحکمت کی بھی تعمیر ہوئی ۔لیکن تب تک عروج کا ایک زمانہ بیت چکا تھا
میرا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ علوم و فنون حاصل نہ کئے جائیں بلکہ میری مراد صرف اتنی سی ہے کہ ہم نے اصل کو فرع بنا دیا اور فرع کو اصل ۔
ایک صاحب نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ علوم دنیا کے بغیر علوم دینیہ کی خدمات بے معنی ہیں تب میں نے ان سے سوال کیا تھا کہ ہمارے اکابر ہند خصوصا اکابر دیوبند کے پاس تو فنون موجودہ نہیں تھے تو کیا ان کی خدمات کو بے معنی سمجھا جائے ان کے آثار کو مٹا دیا جائے ۔اسے کس پلڑے میں رکھا جائے ۔ بس حقیقی بات یہ ہے عروج و زوال کے جو اسباب قرآن نے بیان کئے اس کو یا تو ہم نے سمجھا ہی نہیں یا سمجھ کر نظر انداز کردیا ۔ حضرت شیخ الہند نے طویل اسارت کے بعد کیا بیان کیا تھا یہی نا کہ قرآن کی تعلیم اور اتحاد امت پھیلنا چاہئیے ۔
جب جب قوموں نے غیرت ایمانی خدا ترسی عدل و انصاف   کا ہاتھ چھوڑا ۔قرآن و احادیث کی تعلیمات سے منھ موڑا ۔احساس کمتری کا شکار ہوئے شجاعت کو کھویا تمام علوم و فنون ہونے کے باوجود ہم ذلیل و خوار ہوئے ہمیں اپنا تشخص بچانا محال ہوا ۔کیا آج پہلے کے مقابلہ میں دنیاوی علوم و فنون کے حامل افراد کی کمی ہے ہرگز نہیں پہلے کے مقابلے میں آج بہت زیادہ ہیں لیکن ہر میدان پر ہر محاذ پر ناکامی ہاتھ لگ رہی ہے شیرازہ بندی کے باوجود شیرازہ بکھر رہا ہے کیونکہ جو چیز ہمیں بہادر بناتی تھی ۔جواب دہ بناتی تھی ۔ ہماری تشجیع و تشویق کرتی تھی ۔ جس کے اثرات سے پتھر دل بھی موم ہوجاتے تھے ۔ سوختہ جانوں میں بہار آجاتی تھی ۔ بغیر کسی فنی کدو وکاوش کے اسلام کی باد بہاری چلنے لگتی تھی ۔چہرہ پر نگاہ جاتی اور حلقہ بگوش اسلام ہوجاتے ۔ اسی لئے علماء نے لکھا ہے کہ علوم دینیہ اصل ہیں باقی سب فنون ہیں اور فنون کا تعلق ضروریات و حاجات سے ہوتا ہے ۔
اتنے ہی پر اکتفا کرتا ہوں اللہ کرے میں کچھ سمجھا پایا ہوں ۔
اے طائر لا ہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
۔ہم کس کو ترجیح دیتے ہیں یہ ہمارے اوپر منحصر ہے ۔ کل بھی ہم جب فتح یاب ہوتے تھے تب بھی اسی وجہ سے کہ اللہ کا خوف اس کے احکام کی پاسداری کا پاس و لحاظ تھا اسی لئے تو تین سو تیرہ ہوکر بھی باطل کو ہرایا تھا اور آج انہیں چیزوں کے فقدان کی وجہ سے دنیا کی دوسری بڑی قوم  ہوکر بھی ذلیل و خوار ہیں ۔
اس کے لئے اندلس کی تاریخ شاہد ہے آپ دیکھیں اندلس کا زوال ہوا تو اس کے پس پردہ کیا اسباب تھے ۔ کتنے ماہرین وہاں موجود تھے ۔ جامعہ زیتونہ قرطبہ سے علوم کا آبشار نکلتا تھا ۔مسلم حکمرانی بھی تھی ۔کیا کچھ نہیں تھا لیکن کیوں سب کچھ ختم ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لمحہ فکریہ ہے
شفیع اللہ اعظمی قاسمی

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن