ظالم باطل کا وقت ختم
🌹 *ظالم باطل کا وقت ختم*🌹
*ظُلم جب حد سے گُزرتا ھے تو مِٹ جاتا ھے. قُندوز کے معصوم بچوں کا خون ضرور رنگ لائے گا. اس ظالمانہ امریکی ڈرون بمباری سے سب سے پہلا تاثُر تو یہ پیدا ھوا ھے کہ افغانستان میں امریکی موجودگی نا جائز ھے اور اُس کی ذلّت آمیز شکست پر مُہر ھے کہ اتنی طلملاھٹ اور مایوسی امریکہ کو ھونے لگی کہ معصوم بچّوں کو قرآن و حدیث کے علم حاصل کرنے والوں کے زندہ رھنے کے حق کو بھی چھیننا چاھتا ھے. یہ ھے وہ اصل مُجرم جو بچّوں سے ڈرتا ھے. ساری دنیا کے حقوق کے ادارے یو این او سمیت تمام دنیا کا میڈیا سب خاموش ھیں کیونکہ یہ قرآن و حدیث کا علم حاصل کرنے والے 150 معصوم بچّوں کی بموں سے شہادت کا معاملہ ھے اور سامنے امیریکہ جیسا فرعون ھے. اس باطل سے ڈرتے ھو. اُس خالق ومالک اللہٰ تعالیٰ سے نہی ڈرتے جو فرعون کو ڈھیل, موقع اور وقت تو دیتا ھے لیکن جب پکڑنے پر آتا ھے تو تمام لشکروں سمیت سکینڈوں میں غرق کر دیتا ھے اور پھر قیامت تک فرعون کا کوئی نام رکھنے پر بھی کوئی تیار نہی ھوتا. امریکہ نے بھی یہ ظُلم کرکے اپنے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی ھے انشاءاللہٰ.*
*افغانستان کی حقیقت یہ ھے کہ امریکہ, ناٹو اتحاد اور اسکے 64 حواری دنیا کی بدترین اور ذلّت آمیز شکست سے دوچار ھوئے ھیں. لیکن دنیا کےسامنے اقرار کرتے زمین میں گٙڑ جاتے ھیں. یہ اور بات ھے کہ ہر ذی ھوش اور باشعور انسان کو یہ حقیقت معلوم ھو گئی ھے . میڈیا پر پابندی کے باوجود ساری حقیقت جان چُکے ھیں کہ سارے اتحادی اپنی جان اور مال بچا کر ایک ایک کرکے افغانستان سے فرار ھو گئے ھیں. ایک امیریکہ صرف اکیلا بچا ھے اور اس کی عملداری بھی صرف کابُل کے چند علاقوں تک ھے. اور مثال بلکُل ایسی ھے جیسے شُتر مُرغ ریت میں سر دبا کر سمجھ رھا ھوتا ھے کہ میں محفوظ ھوں. جبکہ کابل کی کٹھ پُتلی حکومت اپنی حفاظت پر بھی قادر نہی ھے ستّر فیصد %70 افغانستان پر طالبان کی حکمرانی ھے.*
*ظالم اور جاھل باطل کو یہ بھی پتہ نہی ھے کہ اسلام ایسا مذھب ھے جو قیامت تک قائم رھنے کے لئے ھے. جب تک اسلام یا ایک بھی مسلمان رھے گا تو قیامت نہی آئیگی. آخری اللہ اللہ کرنے والے کے لئے بھی یہ نظام اللہ چلایئں گے اور جب وہ بھی نہ رھے گا تو قیامت آ جایئگی .اور جب جہاد شروع ھوتا ھے تو دین اسلام کو پھیلانا اللہٰ تعالیٰ اپنے ذمّے لے لیتے ھیں. جب مدینہ مُنّورہ سے جہاد شروع ھوا تو صرف چھ سال بعد 6 ھجری میں باطل صلاح حدیبیہ کرنے پر مجبور ھو گیا. جسے اللہ نے فتح مُبین قرار دیا. اور 8 ھجری میں مکّہ فتح ھوگیا جو ناممکن کام سمجھا جاتا تھا. اس افغان جہاد کی برکت سے ساری دنیا میں اسلام تیزی سے پھیل رھا ھے. ابھی حالیہ اس کا ثبوت یہ ھے کہ نائن الیون کے بعد جتنے لوگ اسلام میں داخل ھوئے اس سے پہلے کبھی نہی ھوئے تھے. اور اس وقت سب سے تیزی سے پھیلنے والا دین اسلام ھے. اور دنیا کی دو سُپر پاور کا جو انجام ھوا تیسری کا بدترین ھو گیا. قندوز کا سانحہ اسکا واضح ثبوت ھے کہ دنیا کا کوئی قانون بچوں کے قتل عام کا حُکم نہی دیتا لیکن صرف وہ جو انسانیت تو کیا جانوروں کی سطح سے بھی نیچے گر جائے. اور یہ اخلاقی گراوٹ شکست کی بد ترینیوں سے آتی ھے کہ کسی اور پر بس نہ چلا تو یہی صحیح سمجھا. اسی لیئے کہتے ھیں یہ وہ ظالم ھے جو بچوں سے ڈرتا ھے.*
*اِس دنیا سے تو سب نے جانا ھے کوئی پہلے کوئی بعد میں لیکن باطل یہ اچھی طرح جان لے کہ اللہٰ کے آخری نبیؐ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو مومن کے لئے قید خانہ بتایا ھے اور شہادت کو بہترین موت اور جنّت کا مُختصر ترین راستہ قرار دیا ھے, اسں آخری امتحان کے بعد اللہٰ کا اصل اکرام اور مہمان نوازی شروع ھوتی ھے. اور ہمیشہ ہمیش کی نا ختم ھونے والی مزیدار زندگی شروع ھوتی ھے. شہید کو اللّٰہٰ کا دیدار ھوتا ھے اِس کی روح جسم سے ایسے نکلتی ھے جیسے مکھن سے بال یا پانی کے مشکیزے سے پانی کا ایک قطرہ اور جیسے مشکیزے کو پتہ نہی چلتا ایسے جسم کو پتہ نہی چلتا روح کے نکلنے کا. پھر نہ میّت کو غُسل دینا شرعیت میں ھے نہ قبر کے سوال وجواب براہ راست اللہٰ کا دیدار اور ہمیشہ کی کامیابی ہمیشہ کی جنّت. ہر شہید حق یہ مقام حاصل کرتا ھے. قندوز کے معصوم بچوں نے بھی یہ مقام حاصل کر لیا. باطل کو یہ سمجھ نہی کہ اِسی کامیابی اور اسی مقام کو حاصل کرنا ہر مسلمان کی خواہش اور آرزو ھوتی ھے. جب ھی تو صحابہ کرامؓ فرمایا کرتے تھے ًارے جان لو ہمیں موت ایسے عزیز ھے ایسے پیاری ھے جیسے تمہیں شراب اور عورت"*
*اسی لیئے تو حضرت امام حُسینؓ نے کربلا میں اپنے کُنبے کے 72 تن قربان کر دیئے تھے خود اپنی جان سمیت کہ نانا کے دین میں تبدیلی نہ ھو. قال اللہ اور قال الرسول کے آوازیں ہمیشہ گونجتی رھیں. اور قیامت تک انکو کوئی روک نہ سکے گا چاھے جتنا زور لگا لے جیسا ظُلم کر لے. باطل سُن لے اور جان لے کہ*
*قتل حُسین اصل میں مرگِ یذید ھے.*
*اسلام زندہ ھوتا ھے ہر کربلا کے بعد*
Comments
Post a Comment