وہ جس نے دوستوں سے بھی دشمنی کی۔(محمد علی جوہر)

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺

   *وہ جس نے دوستوں سے بھی دشمنی کی۔(محمد علی جوہر)*

    *آزادی ہند کی لڑائی میں مسلمانوں کے کردار پر کچھ عرض کرنا یا دلائل و شواہد کے ذریعہ اسے ثابت کرنا؛ سورج کو شمع دکھانے کے مترادف ہے،لیکن ان میں ایک نام ایسا ہے جو بہت سے مجاہدین آزادی پر فوقیت رکھتا ہے،جس کے نام ہی سے گوری چمڑی پر رعشہ طاری ہوجاتا تھا،جب وہ بولتا تھا تو نہ صرف ہندوستان کے انگریز ؛بلکہ لندن اور آکسفورڈ کے ماہرین بھی ہمہ تن گوش ہوجاتے تھے،اور اس کے دلائل اور جوش بیان پر داد دئے بغیر نہ رہتے، جس موضوع پر آواز اٹھاتے، صفوں میں تہلکہ مچا دیتے،یہی حال ان کی تحریروں کا تھا بھی تھا،خود انگریزی زبان پر فاضلانہ اور محققانہ تحریر پیش کرتے ؛کہ ہر کوئی ان کی ادبیت اور نغمگی و سرور اور جنون کا دیوانہ ہوجاتا، باقاعدہ انگریزی رسائل بھی شائع کئے "کامریڈ اور ہمدرد "نامی؛جن کے بلند ترین معیارکا ہر پڑھا لکھا قائل تھا،خود زندگی میں نہ جانے کتنے غم برداشت کئے،اپنے پرایوں کی دشمنی مول لی، مسلم جماعتوں سے بھی دل برداشتہ ہوئے،جیل خانہ اور طوق وسلاسل کا بوجھ بھی اٹھایا،اپنی دو دو جوان بیٹیوں کو مٹی کی گود میں بھی سلایا؛ بلکہ ان کے ساتھ اپنے دل اور جگر خون کو بھی دفن کردیا؛لیکن ہر حال میں امت مسلمہ کیلئے کڑھتا رہا اور اپنے آپ کو تپاتا رہا؛ کیونکہ اس نے اپنا عقیدہ یہ بتلا دیا تھا کہ:*
*سب کھو کے تیری راہ میں،میں دولت دنیا*
*سمجھا کہ کچھ اس کے سوا بھی میرے لئے ہے*
        یہی آپ کی آپ بیتی کا ایک ٹکڑا تھا۔
کیا ڈر ہے جو ہو ساری خدائی بھی مخالف
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لئے ہے
    اور اس شعر کو بھی بار بار کہا کرتے تھے:
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے*
*یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لئے ہے*
     *جس کو دنیا محمد علی جوہر کے نام سے یاد کرتی یے، ذہانت، ناموری اور اعلی تعلیم وتعلم میں آپ کا خاص حصہ تھا،جسے آپ نے خاصة امت مسلمہ کیلئے استعمال کیا،آپ آکسفورڈ گئے وہاں ہندوستان اور مسلمانوں کی نمائندگی کی، خلافت عثمانیہ کو بچانے کی خاطر بیرونی دورہ کیا، ریشمی رومال اور تحریک خلافت میں جوش وولولہ کے ساتھ شریک ہوئے،یہی وجہ ہے ؛کہ آپ کا نام صرف دیندار طبقہ تک محدود نہیں رہا ؛بلکہ مریدین و معتقدین کی طویل قطار اور جدید تعلیم یافتہ گروہ کے اندر بھی "رفارمر"کی حیثیت سے معروف بلکہ بہت معروف ہوئے،اور ندی کے دو کناروں کو ایک کرنے والوں میں سر فہرست قرار پائے، اور ایسی شہرت،دماغ اور صفات وکمالات پائی؛ کہ ویسی شخصیت کسی خوش نصیب قوم کو ہی ملتی ہے،جس کے سینہ میں ہر کلمہ گو کیلئے یکساں درد تھا،کسی بھی خطہ کا اور کسی بھی گوشہ کے مسلم کو اگر کوئی کانٹا چبھے،تو یہ محمد کا شیدا تڑپ اٹھتا تھا،سچ کہئے تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا حقیقی دردمند اور امت محمدی کا بن داموں غلام تھا۔*
   زندگی کی تمام تگ و دو کا ماحصل اسلام کی برتری اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی فوقیت کے سوا کچھ نہ تھا،یہی وجہ ہے کہ اللہ نے انہیں ۶ /جنوری ۱۹۳۱ء کو قابل رشک موت سے سرفراز فرمایا، اور غریب الوطنی (لندن)کی موت نصیب ہوئی جسے شہادت کا مقام دیا جاتا ہے،لیکن اس سے بڑھ کر دفن ہونے کا اعزاز کہان ملا؟اللہ اللہ اس جگہ پر جہاں انبیاء، صدیقین و شہدا کی سرزمین ہے،جو سلیمان،داود کا قبلہ، موسی،عیسی کا قبلہ اور نبی القبلتین کا پہلا قبلہ صلی اللہ علیہ وسلم،اسی لئے اقبال نے مرثیہ میں کیا خوب کہا ہے:
*خاک قدس اور ابہ آغوش تمنا در گرفت*
*سوے گردوں رفت زا راہے کہ پیغمبر گزشت*
    آفریں ایسی زندگی اور موت پر،اس کی زندگی کا معراج سب نے دیکھا؛ لیکن اس سے کہیں بہتر اور اعلی معراج روحانی ہوگی اور یقینا ہوگی جس نے زندگی میں ہی یہ کہ دیا تھا۔
*ہر رنگ میں راضی بہ رضا ہوتو مزا دیکھ*
*دنیا ہی میں بیٹھے ہویے جنت کی فضا دیکھ*
    تو وہ دنیا وما فیھا سے کیا واسطہ رکھتا،اس نے تو اپنی بیٹی کی مرض وفات میں بھی یہی کہا ؛کہ اسے پڑھ کر بھی دل بوجھل ہو جاتا ہے،ہے کوئی جو ایسا ایمان و عقیدہ کا مالک ہو؟۔
*تیری صحت ہمیں مطلوب ہے لیکن اس کو*
*نہیں منظور تو پھر ہم کو بھی منظور نہیں*
 
     ✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

مولانا عبداللہ کاپودروی کی مختصر سوانح