پی لیا خون تم نے بچوں کا
*پی لیا خون تم نے بچوں کا*
_اسماعیل کرخی_
تم مہذب ہو، با ادب بھی تم
اہلِ قوت ہو اہلِ منصب ہو
تم تمدن کے ہو علم بردار
تم محافظ ہو سارے عالم کے
جنگ بندی کے تم سپہ سالار
تم ہو انسانیت کے ٹھیکے دار
تم تو انصاف کے پجاری ہو
شرم تم کو مگر نہیں آتی
جنگ بچوں سے لڑ رہے ہو تم
تم مسیحا بنے بھٹکتے ہو
دکھتی رگ پر تمہارا قبضہ ہے
تم ہو تعلیم یافتہ لیکن
جنگ بچوں سے پھر بھی لڑتے ہو
تم نے اقصی کا خوں کیا لیکن
شام کا خون بھی کیا پھر بھی
تم نے افغان کو جلا ڈالا
تم نے عراق پر ستم ڈھایا
دیکھو لبنان اب بھی زخمی ہے
مصر پر آگ تم نے برسائی
جبکہ تم با ادب، مہذب ہو
تم نے ہر ظلم ڈھادیا پھر بھی
سارا عالم جلا دیا پھر بھی
تم مہذب ہو، تم مہذب ہو
خون پینا بھی ہے بھلی تہذیب
ہاں تمہیں آج یہ مبارک ہو
پی لیا خون تم نے بچوں کا..
ہاں وہی بچے، جو مدرسوں میں
روٹیاں سوکھی سوکھی کھاتے ہیں
جن کے بوسیدہ پیرہن پر بھی
داغ تھے اور نہ کوئی دھبّا تھا
تم نے اُنکو لہو سے رنگ ڈالا
جن کے ہاتھوں میں صرف قرآں ہے
جن کے لب پر نبی کا فرماں ہے
جو نہیں جانتے کہ بم کیا ہے
ظلم کیا ہے بھلا سِتم کیا ہے
وہ جو راتوں میں اُٹھ کے روتے ہیں
اپنے رب کے حضور سر بسجود
ساری انسانیت کے حق کے لئے
اشک اپنے بہا بہا کر کے
رب سے کہتے ہیں اے خداے احد
ساری انسانیت کو راہ دکھا
ساری انسانیت کو حق پہ چلا
ساری انسانیت پہ رحمت کی
بارشیں بھیج سب کو خوش کردے
وہ جو خود رو رہے ہیں دیکھو اُنہیں
ہیں مناجات اُنکی سب کے لئے
شرم تم کو مگر نہیں آتی
پی لیا تم نے خوں اُنہیں کا آج.
جو نہیں جانتے کہ بم کیا ہے.
*اسماعیل کرخی ندوی*
امریکی دہشت گردوں نے ڈراون حملے کے ذریعہ افغانستان کے ایک مدرسے کی تقریب کے دوران سو سے زائد معصوم بچوں کو شہید کردیا، اساتذہ اور سرپرستوں کی بڑی جماعت بری طرح زخمی ہے، جبکہ کئی شہید ہوچکے ہیں، لیکن کم ضرف میڈیا خاموش ہے.. آج کسی میں ہمت نہیں کہ امریکہ کو دہشت گرد کہے جس نے معصوم بچوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بنایا، آج کوئی ملالہ نظر نہیں آرہی جسے ملال ہو کہ مدرسے کے سو سے زائد معصوم پھول زندگی کی جنگ ہار گئے، اور نہ ہی اقوام متحدہ حرکت میں آئی، یہ سب تو دور آج سب گونگے ہوگئے، سب کی بنائی چھن گئی، ہر ایک کی قوتِ سماع سلب ہوگئی.. اور یہ تو تاریخ گواہ ہے کہ پچاس سالوں سے دہشت گردی کا ٹیگ داڑھی اور ٹوپی والوں کو بطور جبری تحفہ عنایت کیا گیا ہے، جس کا جی چاہے جتنے مسلمانوں کو مارے الزام انہیں داڑھی ٹوپی والوں کے سر ہے.... یہ بے چارے پیدا ہی اسی.لئے ہوے ہیں...
Comments
Post a Comment