دین کے کام میں آرڈر نہیں دیا جاتا بلکہ ماحول بنایا جاتا ہے

🌹🌹 دین کے کام میں آرڈر نہیں دیا جاتا بلکہ ماحول بنایا جاتا ہے۔ 🌹🌹

حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ ایک شادی کے سلسلے میں تھانہ بھون تشریف لے گئے تو خیال ہوا کہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت بھی کرلوں حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو معلوم ہوگیا کہ یہ فطرت سلیمہ رکھتے ہیں تو آپ (حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ) نے پوچھا کہ آپ کسی سے بیعت بھی ہوۓ یا نہیں تو آپ نے کہا نہیں حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ پھر مچھ سے بیعت ہو جاؤ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ میں اس شرط پر بیعت ہونگا کہ آپ مجھے ذکر وشغل کا حکم نہ فرمائیں گے حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں نے تو بیعت ہونے کو کہا ہے شغل کا تو میں نے کہا ہی نہیں اور وعدہ بھی فرمایا کہ آئندہ بھی نہیں کہوں گا حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بیعت فرمایا اور یہ فرمایا کہ دو تین روز یہاں ٹھہر جاؤ آپ وہیں تھانہ بھون میں تین روز گذارے جب رات کے وقت اڑھائی تین بجے دیکھا کہ سب لوگ اٹھ کر نماز تہجد ادا کر رہے ہیں تو حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کو شرم آئی اور انہوں نے بھی اٹھ کر نماز تہجد پڑھی پھر جب دوسرے لوگوں کو ذکر وشغل میں دیکھا تو آپ بھی ذکر میں مشغول ہو گئے دوسرے روز پھر یہی حالت رہی تیسرے روز خود بخود خوشی سے تہجد پڑھی اور ذکر وشغل میں مشغول ہو گئے اور پھر تیسرے روز حضرت کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ حضرت آپ نے تو سب کچھ ہی کرالیا حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں نے تھوڑا ہی کہا تھا میں نے وعدہ خلافی نہیں کی اب آپ جا سکتے ہیں تو اس پر حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے عرض کیا کہ اب تو میں نہیں جاتا چالیس روز وہاں ٹھہرے اور تھوڑے عرصہ کے بعد خلافت لے کر واپس ہوئے پس یہ عبادت پہلے ریاء تھی پھر عبادت ہوئی اور ساتھ ہی خلافت بھی مل گئی حضرت مولانا قاری طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ میرا اپنا مشاہدہ ہے کہ جب میری عمر آٹھ برس کی تھی تو ایک مرتبہ میرا گنگوہ جانا ہوا وہاں ذکر وشغل کا ماحول تو تھا ہی گنگوہ کی مسجد میں بہت سے دھوبی کپڑے دھوتے تھے وہ جب کپڑے کو مارتے تو لا الہ الااللہ بھی ساتھ کہتے تھے یہ ماحول کا اثر تھا ورنہ انکو پڑھنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا مقولہ مشہور ہے ہرچہ درکان نمک رفت نمک شد بس ماحول کا اثر یہی ہے جو نیک ماحول میں ہوگا اس کا بھی اثر ضرور ہوگا حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا بھی ایک ماحول تھا کہ جو بھی اس میں آتا وہ متأثر ہوئے بغیر نہ رہتا اور ان ماحول بھی بہت قوی تھا حتٰی کہ حضرات انبیاء علیہم السلام کے بعد انہیں کا درجہ تھا امت کا اجماع ہے کہ الصحابتہ کلھم عدول معصوم تو نہیں تھے لیکن محفوظ ضرور تھے امت کا اتفاق ہے کہ کوئی شخص کتنا ہی بڑا غوث اور قطب بن جائے لیکن ادنی صحابی کو نہیں پہنچ سکتا اس لیے کہ جو ماحول ان کو میسر آیا وہ کسی کو میسر نہ آسکا ایسے ماحول سے ابوجہل جیسا بدبخت ہی متأثر ہوئے بغیر رہ سکتاہے اور جبری طور پر تو وہ بھیج مومن تھا چنانچہ اپنے گھر میں کہتا تھا کہ بات ٹھیک ہے لیکن اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیں تو انکی غلامی کرنی پڑیگی اسی سے اس کو عار تھی بہر حال اگر ایک گھرانہ یہ عہد کرے کہ ہم گناہ چھوڑ دیں تو ان کے ماحول میں جو داخل ہوگا انہیں کی طرح ہو جائے گا

خطبات حکیم الامت

*✍💠سبـق آمـوز کہـانیــاں​​​​​​​💠*

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن