پیش آمدہ چیلینجیز اور ضرورت
🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺
*پیش آمدہ چیلینجیز اور ضرورت*
*اسلام کا رشتہ زمانہ کی تحدی وچیلینجیز کے ساتھ چولی دامن کا ہے،تقریبا ساڑھے چودہ سو سالوں میں ایک صدی کیا،ایک دہائی بھی ایسی نہیں گزری، جب اسلام کو کسی چیلینج کا سامنا نہ رہا ہو،داخلی وخارجی،فنی وفکری اور فوجی و عسکری سے لیکر؛حکومتی و قومی اور ملکی وبیرونی، غرص ہر قسم کے چیلنج نے اسلامی چوکھٹ پر دستک دی ہے؛لیکن زہے نصیب اسلام نے اپنی پوری وسعت قلبی اور فیاضی کا ثبوت دیتے ہوئے،ہمیشہ ایسے افراد تیار کئے جنہوں نے اسلامی اقدار وروایات اورعقائد کی حفاظت کی یے،جنہیں ایک مضبوط ومستحکم حکومت اور خلیفہ کی سرپرستی حاصل رہتی تھی،مگر عصر حاضر میں؛بلکہ گزشتہ پانچ سو صدیوں سے مسلمانوں کو ایسے چیلنجیز کا سامنا ہے،جن سے نبردآزما ہونے اور زمانے کے ساتھ اسلامی تعلیمات کی حجیت ثابت کرنے میں کہیں نہ کہیں ناکامی ثابت ہوئی ہے،عموما یہ پانچ قسم کے چیلنج ہیں-(۱)فکری وفلسفی میدان۔(۲)معاشی میدان۔(۳)سیاست کا میدان۔(۴)قانون کا میدان۔(۵)طبی میدان۔*
واقعہ یہ ہے کہ ان پانچوں مسائل کی ابتدا مسلمانوں کے زوال اور یوروپ اور امریکہ کے عروج کی بناپر وارد ہوئے ہیں،دراصل جب پندرہویں صدی عیسوی میں اندلس سے مسلمانوں کو بے دخل کر دیا گیا اور اس کے آخری بادشاہ ابوعبداللہ نے ہتھیار ڈال دئے،ایسے میں یوروپ نے وہاں کے علوم ومعارف سے خوب استفادہ کیا، اور نئی فکر اور جذبہ تحقیق نے سر اٹھایا،ایسے میں چار ایسے واقعات ہوئے جس نے یوروپ اور امریکہ کو عروج اور مسلمانوں کو خانہ خراب کا باشندہ بنادیا،سب سے پہلے انگلستان کا صنعتی انقلاب،دوسرے فرانس کا سیاسی واقتصادی انقلاب اور تیرے واسکوڈی گاما کا ہندوستان کو تلاش کرلینا اور چوتھے کولمبس کا براعظم امریکہ کی یافت کرلینا،یہ واقعات اگرچہ معمولی معلوم ہوتے ہیں؛ لیکن تاریخی اعتبار سے ان کی بڑی اہمیت ہے،اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے؛ کہ مغرب اسے خود اپنی نشاة ثانیہ (Renaissance) کا نام دیتے ہیں، اور پندرہویں صدی سے قبل کو تاریک دور( dark age )سے تعبیر کرتے ہیں۔
*حیرت کی بات یہ ہے کہ یوروپ جسے ظلمت کی تاریخ بتلاتے ہیں وہی مسلمانوں کے عروج اور بلندی واقبال کادور ہے،جب کے مسلمانوں کا شہرہ افق انسانی پر سورج کے مثل پورے آب وتاب کے ساتھ طلوع تھا،ہفت اقلیم مسلمانوں کے قدموں پر سر نگوں تھے،تو دوسری طرف یوروپ تعلیم وتربیت اور کلیسا کے ظلم وجور سے بےکس ومظلوم تھا،تعلیم وتعلم ان کے نزدیک گناہ تصور کیا جاتا تھا،بائیبل وغیرہ کا ترجمہ کرنا حرام گردانا جاتا تھا،تاکہ پاپائیت کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہ ہو؛حد تو یہ ہے کہ جان ہس اور جیرو جیسے افراد کو پڑھنے پڑھانے کے جرم میں نذر آتش کردیا گیا تھا،لیکن ہائے افسوس ! آج مسلمانوں کو ان ہی سے سامنا ہے،ہمارا ہی علم ہمارے ہی لئے چیلینج بنا ہوا ہے،ہماری ہی تحقیقتات کی موشگافیاں؛ ہم ہی سے سوال و جواب کر رہی ہیں،اور ہم ایسے زمانہ میں آگئے ہیں،جہاں نہ کوئی اسلامی حکومت ہماری سرپرستی کرنے کو ہے اور ناہی کسی اور دانا کی دانائی ہمارے کام آنے میں دلچسپی رکھتی ہے،ضرورت اس بات کی ہے؛کہ افراد سازی کے ساتھ مسائل پر توجہ دی جائے اور بروقت ان مسائل کا حل تلاش کیا جائے، یہ کسی فرد کا نہیں بلکہ پوری امت کے کرنے کا کام ہے،اگر یہ نہ کیا گیا تو پھر عظمت رفتہ کی واپسی دشوار معلوم ہوتی ہے*۔(دیکھئے:اسلام اور سیاسی نظریات۔از مفتی تقی عثمانی صاحب مد ظلہ)
✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392
05/04/2018
Comments
Post a Comment