پریس کانفرنس یا مچھلی بازار

*پریس کانفرنس یا مچھلی بازار*
     
      ۳ اپریل کو ممبئی میں مسلم پرسنل لا بورڈ کی کامیاب خواتین ریلی کے خلاف کچھ نام نہاد اصلاح پسندوں نے پریس کانفرنس منعقد کی ' اعلان تو ٹیسٹا سیتلواد اور رام پنیانی کے نام کا بھی ہوا تھا مگر یہ دونوں موجود نہیں تھے ـ
    کانفرنس کیا تھی " چوں چوں کا مربہ " تھی ' جتنے لوگ تھے سب کی اپنی ڈفلی اپنا راگ والا معاملہ تھا ' کوئی مسلمانوں کو طلاق بدعت چھوڑ کر  " قرانی طریقہ " اپنا نے کی صلاح دے رہا تھا ' ایک صاحبہ ہر طرح کی طلاق پر پابندی کی بات کررہی تھیں ' ایک  " شہرت یافتہ ناکام صحافی "
پرسنل لا بورڈ کو خود تحلیل ہوجانے کا مشورہ دیتے ہوئے فرمارہے  تھے کہ مسلم پرسنل لابورڈ مسلمانوں کا نمائندہ نہیں ہے ' جب ان سے پوچھا گیا کہ مسلمانوں کا نمائندہ کون ہے تو  فرمایا نہیں معلوم۔ ہمیں صرف یہ معلوم ہے کہ پرسنل لا بورڈ نمائندہ نہیں ہے ' ویسے خوشی کی بات تو یہ ہے کہ انھیں کچھ معلوم تو ہے ـ
   کانفرنس میں موجود اسلامی زبانوں سے نابلد چند انگریزی کتابیں پڑھ کربقلم خود اسلامی اسکالربن جانے والی خاتون نے  فرمایا  کہ طلاق مخالف بل میں تین طلاق پر تین سال کی سزا ذیادہ ہے ایک سال ہونا چاہیئے نیز اس بل میں جو تین طلاق کو دیوانی معاملے سے نکال کر فوجداری قانون میں شامل کیا گیا ہے وہ بہت مناسب ہے ' وہیں ایک صاحب نے  کہا کہ مودی حکومت کاطلاق کو کرمنلائز کرنا غلط ہے ـ ایک دوسرے صاحب نے فرمایا  کہ قانون جس قوم کے لئے بن رہاہے اس میں اس قوم کے نمائمندوں کامشورہ بھی شامل ہونا چاہیئے اسی کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی معاشرے کی اصلاح(شوشل ریفارم) اس معاشرے کے اندر سے ہو تو بہتر ہے۔ چونکہ ان صاحب کی بات کسی حد تک معقول تھی شاید اسی لئے پریس کانفرنس کی نظامت کرنے والے " نامعقول شخص " نے انھیں دوبارہ بولنے کا موقع ہی نہیں دیا ـ
   کانفرنس کا آغاز اور نظامت  بھی ملک شام کے ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کے قاتل درندے بشاراسد کے غلامِ بےدام اور پراسرارشخصیت کے حامل اسی نامعقول آدمی نے کی تھی اور سب سے ذیادہ بورڈ کےخلاف ہرزہ سرائی بھی اسی نے کی ' اس نے کہا کہ بورڈ نے جھوٹ بولا ہے ' بورڈ نے سپریم کورٹ میں مسلمان عورتوں کی بے عزتی کی ہے ' بورڈ کو معافی مانگنی چاہیئے ' حلانکہ کڑوڑوں مسلم عورتوں کے احتجاج کو مردوں کے دباو کا نتیجہ بتا کر وہ خود اور کانفرنس میں موجود کئی دوسرے اسپیکر بھی باربار مسلمان خواتین کی توہین کررہے تھے ـ
   عجیب منظر تو جب ہوتاتھا جب نامہ نگاروں کے سوال پر جواب دینے کے لئے  ایک دوسرے سے مائک چھیننے کی ہوڑ مچی ہوئی تھی اور  ایک سوال کے الگ الگ جواب آتے تھے ـ
   غرض یہ پریس کانفرنس آخر میں ایسا مچھلی بازار بن گئی تھی جہاں ہر بیچنے والا کہیں سڑ نہ جائے اس خوف سے جلد از جلد اپنی مچھلی بیچ دینا چاہتا تھا ـ

( محمود دریابادی )

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن