بخدمت جناب شاہنواز بدر صاحب وفقہ اللہ لما یحبہ ویرضاہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بخدمت جناب شاہنواز بدر صاحب وفقہ اللہ لما یحبہ ویرضاہ
از قلم : حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب دامت برکاتہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
’’تازہ ترین گروپ‘‘پر گاندھی میدان کی عظیم الشان اور تاریخی کانفرنس کے سلسلے میں جو تیز و تند تبصرے کیے گئے، انہیں پڑھنے کا موقع ملا ، ارباب فکرونظر کی طبع آزمائی بھی کیا خوب شئے ہے دل آزاربھی،جگر فگار بھی!اللہ پاک نے زبان و قلم کی نعمت سے اس ناچیز کو بھی نوازا ہے، مگربزرگوں نے بچپن سے یہ سکھایا ہے کہ ملّت کو کبھی انتشار اور افتراق میں مبتلا نہ کرنا، نہ اپنے قلم سے نہ اپنے قدم سے ،اس لئے ’’طنز دلخراش‘‘اور’’ہجو ملیح‘‘ کو بھی’’شیر مادر‘‘ کی طرح پی جانے اور’’صبر جمیل‘‘ کی راہ پر چلنے کی کوشش زندگی کا شیوہ بھی ہے شعاربھی! بہت پہلے ایک بزرگ نے یہی نصیحت کرتے ہوئے یہ پیارا شعر سنایا تھا
؎
تلخ و شیریں بے تکلف جس کو پینا آگیا
پینا تو پینا مے کشو! اس کو جینا آگیا
آج بھی بجائے جواب یا تنقید و تنقیص کے آپ سے اور تنقید کے نام پر کردار کشی کرنے والے مخلص احباب سے چند سوال کرنا چاہتا ہوں۔
*(۱) ڈاکٹر خالد انور کو کانفرنس کا کنوینر کہا گیا کیا یہ بات درست ہے؟*
*(۲) خالد انور صاحب کو حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کی سفارش پر (جیسا کہ آپ نے لکھا ہے) ایم ایل سی کا ٹکٹ دیا گیا اس کا کیا ثبوت ہے؟*
*(۳) امارت شرعیہ جیسے مضبوط اور سو سالہ قدیم ادارے اور امیر شریعت جیسے مقبول اور مستحکم عالم و قائد(جو22؍ سال تک ایم ایل سی اور دو بار ڈپٹی چیئرمین رہے اور جنہیں نائب وزیر اعلیٰ کی کرسی بھی پیش کی گئی) کو ایک شخص کے ایم ایل سی بنانے کے لئے تین مہینے تک دن رات ایک کرنا پڑا،پندرہ سے بیس لاکھ مسلمانوں کو گاندھی میدان میں تپتی ہوئی دھوپ میں جمع کرناپڑا ، کیا یہ بات کوئی صحیح الدماغ انسان قبول کرسکتاہے؟*
*ٍ(۴) سودے بازی کی بات چھپ چھپاکر کی جاتی ہے یاعلی الاعلان؟ حضرت امیر شریعت جو عمر کی آٹھویں دہائی میں ہیں اور 53, سالہ تجربات جن کی جھولی میں ہیں ،انہیں سودا ہی کرناتھاتووہ کیاایسی کمزور پلاننگ کرتے کہ جس کے لیے سودا کیا جارہاہے جلسے کی نظامت اس کے سپردکردیتے؟*
*(۵) خالدانور کوسیٹ دلاکر کیافائدہ ؟سیٹ دلانی ہی تھی تواپنے بیٹے ،دامادیاکسی رشتہ دارکودلواتے یہ کیابیوقوفی ہے کہ ایسے شخص کے لیے سودا کیاجارہا ہے، جو نہ تو بیٹا ہے نہ داماد، نہ دور قریب کارشتہ دار ،نہ شاگردنہ مرید!امیر شریعت کابیٹا فہدرحمانی توپوری کانفرنس کے دوران ایک ادنیٰ رضا کار کی حیثیت سے سخت دھوپ میں شرکائے جلسہ کی راحت رسانی کاکام کرتا رہا ،اپنی قیام گاہ سے پیدل جلسہ گاہ تک آیااور جلسہ گاہ سے پیدل واپس گیا۔*
*(۶) بے بنیادباتوں کو بنیاد بناکر ملت اسلامیہ کی مختلف تحریکات کونقصان پہونچانا، اور ملک و ملت کی بیش بہا خدمات انجام دینے والوں کی کردارکشی کرنا ،یہ تعمیری تنقید ہے یا اس کی آڑ میں اپنے جذبات بغض وعناد کی تسکین کاسامان ؟*
*(۷) خالد انور کے وزیر اعلیٰ سے پرانے تعلقات ہیں، اگر وزیر اعلیٰ نے کانفرنس کے اثرات کوختم کرنے اوراس کے پیغام کو ملیا میٹ کرنے کے لیے بروقت ایک قدم اٹھایا تو کیا یہی دانشمندی ہے کہ ہم بھی ’’دانا دشمن ‘‘کے نادان دوست بن جائیں،اور اس کے سر میں سرملانے لگیں؟*
*(۸) خالدانور کے ایم ایل سی سیٹ کے ذریعے نہ مسلمانوں کودھوکہ دیاگیا نہ یہ سودے بازی ہے،مگر امارت شرعیہ جیسے عظیم و قدیم ادارے اور امیر شریعت جیسی لائق احترام ہستی کو ’’ایک ایم ایل سی سیٹ‘‘پر قربان کردینے کی کوشش ضرور کی جا رہی ہے،اور ایسے رکیک اورغیر مہذب جملے کہے اور لکھے جارہے ہیں کہ جس کی وجہ سے شرافت کو منھ چھپانا پڑ رہا ہے، اور انسانیت کوشرمساری کے مرحلے سے گذرنا پڑ رہا ہے،کیا یہ راہ عمل درست ہے اور یہ طریقہ صحیح ہے ?*
*(۹) کانفرنس کی عظیم کامیابی، کارکنان کی غیر معمولی محنت، مسلمانان بہارواڑیسہ ،جھارکھنڈ کے غیر معمولی جذبات ایمانی اور باشندگان پٹنہ کی لائق تحسین میزبانی کے اعتراف اور کانفرنس کے اثرات وثمرات پر اظہار خیال کے بجائے ایک غیر متعلق چیزپر زور قلم و بیان صرف کرنااور مثبت پہلوؤں کو نظر انداز کرکے صرف منفی پہلوؤں کی تلاش تعمیری رویہ ہے یا کچھ اور ؟ملت کے حق میں مفید ہے یامضر؟تنقیدہے یا تنقید کے پس پردہ غلط ذہنیت کی عکاسی و ترجمانی ؟*
*(۱۰) کانفرنس میں صرف جذباتی باتیں کہی گئیں،کوئی پیغام نہیں دیاگیا،صرف خوشامداورمدح سرائی کی گئی ،ان باتوں کا حقیقت سے کتناتعلق ہے؟ فقیر نے بھی آدھاگھنٹہ کانفرنس میں کچھ عرض کیاتھا غلطی کی نشاندہی فرمائی جائے،تا کہ آئندہ کے لیے صحیح رخ اور رویہ اختیار کیاجائے۔*
*(۱۱) مولانا ابو طالب رحمانی مسلم پرسنل لا بورڈ کے معزز رکن ہیں اور مقبول مقرر!انہیں پیشہ ور مقرر کہنا کہاں تک درست ہے ؟کیااختلاف کی بنیادپر کردار کشی جائز ہے؟*
*(۱۲) ایک بے بنیاد اور واہیات بات کی وجہ سے امیر شریعت جیسے عالم ،بزرگ ،سید زادہ کو ضمیر فروش ،دین فروش ،ملت فروش کہناشرافت اور دینداری ہے یا غیر شریفانہ عمل اورخیانت؟*
یہ چند سوالات ہیں جوآپ کے اور آپ کے واسطے سے ان تمام احباب کی خدمت میں پیش ہیں، جنہوں نے ’’تعمیری تنقید ‘‘کا ’’گراں قدرفریضہ ‘‘انجام دیاہے،مذکورہ بالاسوالات میں کچھ ایسے ہیں جو آپ کی کہی یالکھی باتوں سے متعلق نہیں ہیں،مگر چوں کہ ’’گروپ‘‘میں آئے اوران پرکوئی باز پرس نہیں کی گئی یا ان کی تقلید اورتردید نہیں ہوئی،اس لیے انہیں بھی اس خط میں لکھ دیاہے۔
؎
غالب رکھیو اس تلخ نوائی میں مجھے معاف
کہ آج کچھ درد میرے دل میں سواہوتاہے
مجھے امید ہے کہ مجھے ان سوالوں کاجواب ضرور ملے گا۔
محمد عمرین محفوظ رحمانی
Comments
Post a Comment