سماج میں جوائنٹ فیملی سسٹم
ہمارے سماج میں جوائنٹ فیملی سسٹم (مشترکہ خاندانی نظام) کا رواج ہے ۔ اس سسٹم کےسبب مسلم سماج وسوسائٹی میں ہزاروں مسائل اٹھ کھڑے ہوگئے ہیں جن کا یہاں احاطہ کرنا بہت مشکل ہے۔ ان میں سے چند اہم مسائل اور ان کا تدارک پیش کیاجاتاہے۔
(1) ساس و سسر کی خدمت کا مسئلہ
(2) ساس وبہو کے تنازعات
(3) دیور و بھابھی کا رنگین فسانہ
(4) غیرمحرم سے بے پردگی
(5)فیملی ممبرس اور رشتہ داروں کے درمیان ناچاقی
(6) مالی نظام کی گربڑی
(7)والدین کا اولاد کے درمیان عدم مساوات(نتیجہ میں اولاد کی نافرمانی ملتی ہے)
(8) اولاد کی ترقی میں رکاوٹ
(9) صالح معاشرہ کی تشکیل میں رخنہ
(10) سماج پہ برے اثرات(طلاق،غیبت،بے پردگی،خیانت،تنازع،استہزاء،عدم تعاون وغیرہ) کا سبب رئیسی
ان جیسے ہزاروں مسائل نے مسلمانوں کے عائلی نظام کو نہ صرف درہم برہم کررکھاہےبلکہ صالح معاشرے کی بساط ہی الٹ دی ہے ۔ میرے خیال سےجوائنٹ سسٹم کی وجہ برصغیرکا ہندوانہ ماحول ہے جس کے عائلی قانون میں مشترکہ خاندانی نظام پایا جاتا ہے۔
اسلام میں اس سسٹم کی نظیر نہیں ملتی ، اس لئے اسلامی روسے خاندانی اشتراکی سسٹم نہ چلانے میں ہی عائلی مسائل کا حل ، خاندان کے ہرفرد کی بھلائی اور ان سب کی ترقی کا رازمضمر ہے ۔
قرآن و حدیث کے بے شمار دلائل ہمارے جوائنٹ فیملی سسٹم کے خلاف ہیں ۔ چند دلائل ملاحظہ ہوں۔
(1) پردے سے متعلق سارے نصوص اس پہ دلالت کرتے ہیں کہ ہمارا گھریلو نظام الگ الگ ہوتاکہ جہاں خواتین کی عفت وعصمت محفوظ رہے وہیں گھرمیں اخوت سے لیکر عدل وانصاف تک کی میزان قائم رہے۔
(2) اللہ کا فرمان ہے : وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ (الاحزاب : 33)
ترجمہ : اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو، اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو۔
اس آیت میں عورت کو اپنے گھر یعنی شوہر کے گھر کو لازم پکڑنے کا حکم دیا گیاہے ۔
(3) نبی ﷺ کا فرمان ہے : إياكم والدخولَ على النساءِ . فقال رجلٌ من الأنصارِ : يا رسولَ اللهِ ! أفرأيتَ الحموَ ؟ قال : الحموُ الموتُ(صحيح مسلم:2172)
ترجمہ : اجنبی عورتوں کے پاس جانے سے بچو، ایک انصاری نے عرض کیا: یا رسول اللہ حمو(دیور) کے بارے میں آپ ﷺکا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا کہ حمو(دیور) تو موت ہے۔
یہ حدیث بتلاتی ہے ایسا عائلی نظام صحیح نہیں ہے جس میں دیور و بھابھی کا اختلاط ہوکیونکہ دیور عائلی نظام کے لئے موت ہے۔
(4) نبی ﷺ کی متعدد ازواج مطہرات تھی جنہیں ایک چولہے پہ جمع کیاجاسکتا تھاکیونکہ ان سب کا شوہر ایک ہی تھا پھر بھی سب کا رہن سہن ،اکل وشرب اور سازوسامان الگ الگ تھا۔
(5) اگر اسلام میں جوائنٹ فیملی کا تصور ہوتا تو گھریلو اعتبار سے سب کے الگ الگ حقوق کا بیان موجود ہوتا جبکہ ہم دیکھتے ہیں اسلام میں ساس ،سسر،بہو،نند،دیور، بھابھی ، جیٹھ وغیرہ کے حقوق کاالگ سے ذکر نہیں ہے۔
(6) اسلام میں شادی کے بعد سے عورت کی کفالت کا ذمہ دار اس کا شوہرہوتا ہے ۔ اس لئے شوہر کے ذمہ ہے بیوی کی رہائش، خوراک اور پوشاک کا بندوبست کرے۔
Comments
Post a Comment