مولانا محمد سالم قاسمی کی وفات ایک تاریخ کا خاتمہ ہے!مولانا ارشد مدنی
مولانا محمد سالم قاسمی کی وفات ایک تاریخ کا خاتمہ ہے!
دارالعلوم وقف میں منعقدہ تعزیتی نشست سے مولانا ارشد مدنی اور مولانا سفیان قاسمی کا خطاب
دیوبند۔ ۱۵؍مارچ: (رضوان سلمانی) فکر ولی اللّٰہی کے سرخیل، علوم نانوتویؒ کے محافظ و امین، فکر قاسمی کے ترجمان، حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ کے جانشین خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحبؒ کی رحلت پر دارالعلوم وقف دیوبند کی اطیب المساجد میں ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیاگیا، جس میں سرکردہ شخصیات نے اپنے تأثرت پیش فرمائے،چنانچہ دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب علیہ الرحمہ کے جانشین حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ گھنا سایہ دار درخت جس کے تلے ہم پناہ لئے ہوئے تھے، اب ہمارے سروں سے وہ اٹھ گیا، آج ہم اور پوری ملت اسلامیہ اپنے ایک عظیم مربی سے محروم ہوگئی، اس موقع پر ہم اور آپ سب ہی تعزیت کے مستحق ہیں، انھوں نے کہا کہ حضرت کا ایک امتیازی وصف نرم مزاجی اور بردباری تھی، سخت سے سخت حالات میں بھی ان کی پیشانی پر کبھی پریشانی کے آثار نظر نہیں آئے، کسی پریشانی کے موقع پر اگرکسی کو متفکر دیکھتے تو فرماتے کہ کیا تم اللہ کی رحمت سے پر امید نہیں ہو، ہر موقع پر توکل علی اللہ مومن کا ایک بڑا ہتھیار ہے، انھوں نے کہا کہ اب حضرت علیہ الرحمہ ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن ان کی علمی میراث، ان کے خطبات و مواعظ، فرمودات و ارشادات باقی ہے، ان کی روشنی میں ہمیں مستقبل کے لئے لائحۂ عمل تیار کرنا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کی رحلت ایک ایسا ناقابل تلافی خسارہ ہے جس کی بھرپائی مستقبل قریب میں نظر نہیں آتی آپ کی شخصیت علم و عمل کے اعتبار اپنی گوناگوں خصوصیات کے اعتبار سے امتیازی حیثیت کی تھی وہ حضرت حکیم الاسلامؒ کے علوم ظاہری و علوم باطنی کے حقیقی ترجمان تھے،، انہوں نے کہا کہ فتنے اٹھتے ہیں لیکن بڑوں کی برکات ان کی توجہات سے دب جاتے ہیں اور سرچھپالیتے ہیں، یقینا حضرت کی بابرکت شخصیت سے یہ امت بہت سے فتنوں سے محفوظ تھی، زمانۂ اختلاف میں بھی انھوں نے کبھی اختلاف کو موضوع نہیں بنایا بلکہ ان کی بابرکت شخصیت سے وہ اختلاف اور وہ تمام احوال ختم ہوئے، انھوں نے ایک لالہ زار علمی چمن آباد کیا ہے، اب ان کے اس لگائے ہوئے چمن کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے، حق تعالیٰ اس ادارے کو ترقیات عطاء فرمائے، نگہبانی فرمائے اور جو علمی میراث چھوڑ کر گئے ہیں اس کی حفاظت فرمائے اور آپ کا فیض تاقیامت جاری رہے۔ دارالعلوم وقف دیوبند کے شیخ الحدیث و صدرالمدرسین حضرت مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا حضرت علیہ الرحمہ کی پوری زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے، حق تعالیٰ نے حالات و مصائب کے مقابلے کا جو حوصلہ انہیں عطاء فرمایا تھا اس کے آگے کوہ ہمالیہ کا قد بھی چھوٹا نظر آتا ہے، کتنا بھی سخت سے سخت مرحلہ ہو حضرت علیہ الرحمہ صبر و تحمل کے پیکر نظر آتے، ان کی زبان، ان کی نگاہ، ان کا قلم، ان کی زبان محتاط ہوتی، ان کی زبان سے کبھی عیر معیاری لفظ نہیں سنا گیا۔طیب ٹرسٹ کے چیئر مین اور حضرت علیہ الرحمہ کے چھوٹے صاحبزادے جناب حافظ عاصم قاسمی صاحبؒ نے کہا کہ حضرت نانوتویؒ کے قائم کردہ علمی مراکز کی ایک کڑی دارالعلوم وقف دیوبند ہے جو حضرت علیہ الرحمہ کی ایک عظیم یادگار اور ایک ایسا شجرطوبیٰ ہے جس سے لوگ تا قیامت مستفیض ہوتے رہیںگے، انھوں نے کہا کہ خانوادۂ قاسمی سے ہمارا نسبی اور آپ کا روحانی رشتہ ہے؛ لہٰذا اس رشتہ کی مناسبت سے ہم اور آپ سب تعزیت کے مستحق ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تشریف لائے جناب ڈاکٹر عبید اقبال عاصم صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج علمی دنیا اپنے ایک عظیم باپ سے محروم ہوگئی اور پوری برادر قاسمی افسردہ اور نوحہ کناں ہے، یقینا حضرت علیہ الرحمہ کی وفات ایک عظیم ملی خسارہ ہے، دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ حدیث مولانا مفتی محمد عارف قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حق تعالیٰ نے حضرت علیہ الرحمہ کو عظیم علمی و خاندانی نسبتوں اور وجاہتوں کے ساتھ گونا گوں خصوصیات و امتیازات سے بھی نواز تھا، آپ جہاں جاتے وہاں نمایاں و ممتاز نظر آتے، ہر مجلس میں آپ میر مجلس ہوتے، دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ مولانا نسیم اختر شاہ نے کہا کہ یہ سخت غم و اندوہ کا موقع ہے کہ فکر قاسمی کو لے کر چلنے والی شخصیت علوم نانوتویؒ کے ترجمان ہمارے درمیان سے جدا ہوگئے، ان کی وفات ایک تاریخ کا خاتمہ ہے، وہ ایک تاریخی اور قابل قدر شخصیت تھی، جہاں ان کا نام لیا گیا ادب سے لیا گیا، علاوہ ازیں اس موقع پر دیگر حضرات نے بھی اپنے تأثرات پیش فرمائے، تعزیتی نشست سے قبل قرآن خوانی وایصال ثواب کا اہتمام کیا گیا،اخیر میں حضرت خطیب الاسلامؒ کے نبیرۂ محترم حجۃ الاسلام اکیڈمی دارالعلوم وقف دیوبند کے ڈائریکٹر مولانا ڈاکٹر محمد شکیب قاسمی نے اپنی طرف سے اور اپنے خاندان کی طرف سے ان تمام حضرات کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مسلسل قرآن خوانی، ایصال ثواب اور دعائوں کا اہتمام کیا اور یہ سلسلہ تاہنوز جاری ہے۔نشست کا اختتام مولانا سفیان قاسمی کی دعاء پر ہوا، حضرت علیہ الرحمہ کی رحلت پر جہاں ایک طرف تعزیتی نشستوں اور ایصال ثواب کا اہتمام جاری ہے وہیں دوسری جانب عظیم علمی ، ملکی، ملی، سماجی وسیاسی شخصیات کی جانب سے تعزیتی پیغامات بھی موصول ہورہے ہیں؛ چنانچہ اسی ضمن میں پاکستان کے معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی، مولانا الیاس گھمن، انگلینڈسے مولانا یوسف متالا، سعودی عرب سے شیخ عبدالعزیز عمار ، ہندوستان کی سرکردہ شخصیات میں مولانا رابع حسنی ندوی، مولانا اسرار الحق قاسمی، مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی وغیرہ کے پیغامات موصول ہوئے ہیں، وہیں سماجی و سیاسی شخصیات میں سشما سوراج، راہل گاندھی، احمد پٹیل، ملائم سنگھ یادو،غلام نبی آزاد، سیدشاہنواز حسین، وغیرہ کے علاوہ سینکڑوں شخصیات تعزیتی پیغامات بذریعہ ٹیلی فون اور بذریعہ خط موصول ہورہے ہیں۔
Comments
Post a Comment