استاذ حالی ایک واعظ شاعر؟!
🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺
*استاذ حالی ایک واعظ شاعر؟!*
*حضرت حالی کے متعلق عموما یہ سمجھا جاتا یے؛ کہ آپ کی شاعری حسن بیان،لطف زبان،بے روح وبے جان اور تخیل میں رعنائی وطرز بیان میں زیبائی سے بالکل عاری ہے؛حالانکہ یہ تمام جرحیں جھنجھلاہٹ و غیر تحلیلی نتیجے کا عکس ہیں،جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے،آپ کا صرف یہ ایک مصرعہ ملاحظہ کیجئے اور ذہن پر زور دے کر خیال کیجئے؛ کیا یہ دعوی بے بودہ نہیں؟:*
*تعزیر جرم عشق ہے،بے صرفہ محتسب*
*بڑھتا ہے اور ذوق گنہہ یاں سزا کے بعد*
*اس شعر کو پڑھئے اور بار بار پڑھئے،زبان پر شیرینی اور حالی کی رنگین بیانی سے لطف اندوز ہوئیے،اور استاذ مرحوم پر بے نمکی وبے اثری اور روکھے پن کے تصور کو صاف کرتے جائیے۔اسی زمین پر دوشعر اور پیش ہیں، ملاحظہ فرمائیں:*
گر درد دل سے پائی بھی اے چارہ گر شفا
مدت ہے دل کی موت نظر اس شفا کے بعد
مدت سے تھی دعا کہ ہوں بدنام شہر شہر
بارے ہوئی قبول بہت التجا کے••••••• بعد
* واقعہ یہ یے کہ عاشقی میں بجز رسوائی وبدنامی کے اور رکھا کیا ہے،لیکن ایک عاشق کا کمال یہ ہے؛ کہ وہ زمانے بھر کی رسوائی سے غمزدہ نہیں ہوتا؛ بلکہ اس سے خوش ہوکر اسی کی طلب وجستجو میں نکل پڑتا ہے۔*
حقیقت یہ ہے کہ حضرت حالی شوخی وطراری اور عریانی و فحاشی سے دور اور سنجیدگی ومتانت کے پیکر ہیں،ظرافت ایسی؛ کہ ہنسی بھی آئے تو پہلے منہ پر رومال رکھ لیں،اداسی وغمگینی ان کی شاعری کا لازمہ،ادب ولحاظ کا دامن کبھی ان سے چھوٹتا نہیں،ہر لفظ نیچی نظروں،شرمیلی نگاہوں کے ساتھ،لیکن کلام میں حلاوت اس درجہ کے پڑھتے جائیے اور دل ہی دل میں محظوظ ہوتے جائیے:
*دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا*
*سینے میں داغ ہے کہ مٹایا نہ جائے گا*
یہ خواہ معمولی مطلع معلوم ہوتا ہے؛لیکن ان گلکارئوں کو دیکھئے:
*تم کو ہزار شرم سہی،مجھ کو لاکھ ضبط*
*الفت وہ راز ہے،کہ چھپایا نہ جائے گا*
راضی ہیں ہم کہ دوست سے ہو دشمنی مگر
دشمن کو ہم سے دوست بنایا نہ جائے گا
پھر بڑھتے بڑھتے وہ یہاں تک پہنچ جاتے ہیں کہ:
*کیوں چھیڑتے ہو ذکر نہ ملنے کا رات کے*
*پوچھیں گے ہم سبب تو بتایا نہ جائے گا*
آپ زبان کی مہارت و متانت کا اندازہ لگا سکتے ہیں،"کجا می نماید کما می زند" کے باوجود کسی طرح صراحت کی روادار نہیں،آگے کہتے ہیں:
*ملنا ہے آپ سے تو نہیں حصر غیر پر*
*کس کس سے اختلاط بڑھایا نہ جائے گا*
*حضرت حالی کے ان غزلیہ اشعار پر ایک نظر ڈالئے، اور کہئے! کہ کیا اب بھی انہیں صرف ایک واعظ شاعر کا طعنہ دینا مناسب ہے؟یہ تو چند نمونے ہیں ورنہ کہاں سے شروع؛کہاں ختم ہو،یہ وہ داستان ہے جو سنائیں تو سنتے ہی جائیں اور شرماتی نظروں سے،ظرافت کا چوغہ اوڑھے ہوئے،نگاہیں نیچی کرتے ہوئے مسکراتے جائیں،آخر میں چند اشعار اور ملاحظہ فرمائیں:*
ہے جستجو خوب سے خوب تر کہاں
اب ٹھہرتی یے دیکھئے جا کر نظر کہاں
ہیں دور جام اول شب میں خودی سے دور
ہوتی ہے آج دیکھئے ہم کو سحر کہاں
یا رب اس اختلاط کا انجام ہو بہ خیر
تھا اس کو ہم سے ربط مگر اس قدر کہاں
اک عمر چاہئے کہ گوارا ہو نیش عشق
رکھی ہے آج لذت زخم جگر کہاں
ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اور
عالم میں تجھ سے لاکھ سہی تو مگر کہاں
*حالی نشاط نغمہ ومے ڈھونڈتے ہو اب*
*آئے ہو وقت صبح رہے رات بھر کہاں*
✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392
Comments
Post a Comment