ہمیں معاف کردینا اے افغان کے پھولوں

ہمیں معاف کردینا اے افغان کے پھولوں

محمد سعد حسینی

ہمیں معلوم ہے کہ تم جنت میں خوش ہو . کل تو تم سفید کپڑوں میں ملبوس سر پر سفید تاج سجائے صبح سویرے گھر سے نکلے تھے کہ ہم شام کو آئنگے تو ہم کو ہار پہنانا . ماں کو کہ رہے تھے کہ آج مجھے میرا من پسند کھانا کھلانا .تمہیں یاد ہے نا کہ تم نے ننھی بہن سے وعدہ کیا تھا کہ شام کو آؤنگا تو تمہارے لئے بھی تحفہ لاؤنگا اور ہاں ابا سے تو تم آج اپنی کئی سالوں کی خواہش کا اظہار کر دیا تھا کہ مجھے ایک سائکل چاہئے میرے سب دوستوں کے پاس ہے اب تو میں بھی حافظ بن گیا ہوں مجھے بھی چاہئے اور یاد کرو آج ابا نے وعدہ کیا تھا کہ شام کو تمہارے گھر آنے سے پہلے ہی تمہاری سائکل آجائے گی . تم آج کتنا خوش تھے آج جب تم مدرسہ پہنچے تو سب تمہارا ہی انتظار کر رہے تھے اور سب کی توجہ کا مرکز تم ہی تھے آج تو تم کو سب نے گلے لگا کر مبارکبادی دی اور یاد کرو تمہارے استاذ کے آنکھوں سے آج آنسوں جاری ہوگئے خوشی کے آنسوں کہ اب تم انکو جنت میں اپنے ساتھ لےجاؤگے . تمہیں وہ پل تو اچھے سے یاد ہے نا جب تم نے أولائك هم المفلحون کی تلاوت کی تو سارا مجمع خوشی سے جھوم اٹھا . اس لمحہ کو یاد کرو جب تمہیں سند دی جارہی تھی اور تم اسکو ہاتھ ہاتھ میں لئے بار بار دیکھ رہے تھے اور خوش ہورہے تھے کہ امی کو دکھاؤںگا ابو کو دکھاونگا چھوٹی بہن کو تو سمجھانا بھی پڑے گا کہ یہ سند ہے کہ میں حافظ بن گیا ہوں . اب میں بھی محلہ کی مسجد میں تراویح پڑھاؤنگا اور سب مجھے بھی حافظ جی کہ کر پکاریں گے . اور تم گھر جانے ہی والے تھے لیکن یہ کیا اچانک آوازیں آنے لگیں کہ بھاگو ڈرون طیاروں سے حملہ ہورہا ہے . تم سوچ رہے ہوگے کہ ہم پر کیوں حملہ !! ہمارا کیا گناہ ہے . ہم تو معصوم ہیں ہم تو بے قصور ہیں ہمارا کیا جرم ہے ؟؟ لیکن نہیں تمہارا ایک جرم ہے کہ تم مسلمان ہو . تمہارے سروں پر ٹوپی ہے . تمہارے سینوں میں قرآن ہے تم اسلام کے سچے سپاہی ہو .
یہ ہے تمہارا جرم . یہ ہے تہمارا گناہ . اور اسکی سزا تم کو تمہاری موت اور شہادت کی شکل میں دی جارہی ہے . تم کو دہشت گرد کہا جارہا ہے اور تمہارے لئے اس دنیا میں کوئی جگہ باقی نہیں ہے
تم یہ سوچ رہے ہوگے کہ کیا ان کو تمہاری معصوم سی صورت نہیں دکھتی تو سن لو تمہارا یہ معصوم صورت ہونا ہی تمہارا جرم ہے اور دیکھوں تم خون میں لت پت کتنے خوبصورت لگ رہے ہو . اور وہ دیکھوں جنت کے فرشتے تمہارا استقبال کر رہے ہیں اور تمہیں خوش آمدید کہ رہے ہیں . تم یہ سوچ رہے ہوگے کہ ہمارے دینی اور ایمانی بھائیوں کے 50 ممالک ہیں وہ سب ہماری شہادت پر متحد ہوکر اسکے خلاف آواز اٹھائنگے اور ہمارے خون کے ایک ایک قطرے کا بدلہ لیئنگے اور ہماری ماں کے آنسوں پوچھ کر انکو دلاسہ دلائیں گے اور ہمارے والد کے کندھوں پر ہاتھ رکھیں گے اور انکا سہارا بنیں گے تم ایسا ہی سوچ رہے ہو نا لیکن یہ سب تمہاری خوش فہمی ہے
تمارے عربی بھائی تو شام میں اپنے ہی بھائیوں کا قتل عام 10 سالوں سے کر رہے ہیں اور مصری بھائی تو سب قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں اور تم سوچ رہے ہوگے کے خادم الحرمین تمہاری مدد کریں گے لیکن وہ دیکھوں وہ تو اسرائیل میں ہیں اور کہ رہے ہیں کہ یہودیوں کو فلسطین میں اپنے حق کی حفاظت کا اختیار ہے اگر تم یہ سوچ رہے ہو کہ ہندوستان کے مسلم بھائی آئنگے تو وہ دیکھوں وہ تو مسلکوں میں بٹ گئے ہیں وہ تو تنظیموں کے لئے کام کر رہیں ہیں وہ تو جلسوں کی زینت بن گئے ہیں اور وہ تو بےچارے فسادات میں مارے جارہے ہیں

اس لئے میرے افغانی معصوم بھائیوں ہمیں معاف کرنا

محمد سعد حسینی

دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن