تین طلاق اور حلالہ کی شرعی حیثیت میں فرق

تین طلاق اور حلالہ کی شرعی حیثیت میں فرق
مولانا ندیم الواجدی
تعدد ازدواج اور حلالہ کے خلاف سپریم کورٹ میں جو درخواستیں داخل کی گئی ہیں ان پر سماعت شروع کرتے ہوئے عدالت عالیہ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کردیا ہے کہ وہ ان معاملات میں اپنا موقف واضح کرے، نفیسہ خان سمیت چار درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے کثرت ازدواج اور حلالہ کو غیر آئینی قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ شریعت ایکٹ ۱۹۳۷ء کی دفعہ ۲ آئین ہند کے آرٹیکل ۱۴، ۱۵، ۲۱ اور ۲۵ کے خلاف ہے، مذکورہ ایکٹ کثرت ازدواج اور حلالہ کو تسلیم کرتا ہے، جب کہ نکاحِ حلالہ تعزیرات ہند کی دفعہ ۳۷۵ کے تحت عصمت دری ہے، اور تعدد ازواج تعزیرات ہند کی دفعہ ۴۹۴ کے تحت ایک قابل سزا جرم ہے، درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ آئین ہند کی تمام تعزیرات تمام شہریوں پر یکساں طور پر لاگو ہونی چاہئیں، عدالت عظمی نے حیدر آباد کے رہنے والے محسن بن حسین کی درخواست پر کاروائی کرتے ہوئے نکاح متعہ اور نکاح مسیار پر بھی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔
تین طلاق پر عدالتی پابندی کے دوران ہی یہ اشارے مل گئے تھے کہ عدالت عالیہ تعدد ازدواج اور حلالہ جیسے موضوعات پر بھی غور کرنے والی ہے، اسی وقت سے ٹی وی چینلوں نے حلالہ کو لے کر ڈیبٹس شروع کردی تھیں، جو ابھی تک جاری ہیں، اس موضوع پر ایک ٹی وی سیریل بھی بن چکا ہے، جس میں مسلمان عورتوں کی خودساختہ بے بسی اور مظلومیت کے پس منظر میں شریعت کا کھلم کھلا مذاق اڑایا گیا ہے، حلالہ کے حوالے سے یہ بات مشہور کی جارہی ہے کہ یہ کوئی شرعی معاملہ ہے اور طلاق یافتہ خاتون کو ہر حالت میں اس مکروہ فعل سے سابقہ پڑتا ہے جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، اسلام میں حلالہ کی اس شکل کا جس کو میڈیا میں پیش کیا جارہا ہے کوئی تصور ہی نہیں ہے۔
جس عمل کو حلالہ کا نام دیا گیا ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے تو وہ اس پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی ہے، اب اگر وہ دونوں یعنی سابقہ میاں بیوی دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو اسی صورت میں کرسکتے ہیں کہ اس عورت کا نکاح کسی دوسرے سے ہوجائے،پھر وہ شوہر اس کو اتفاقاً طلاق دے دے، یا اس کی موت واقع ہوجائے، ان دونوں صورتوں میں وہ عورت پہلے طلاق یا وفات کی عدت گزارے گی پھر اگر وہ چاہے تو اپنے سابق شوہر سے نکاح کرسکتی ہے، یہ بات قابل غور رہنی چاہئے کہ یہاں اتفاقاً کی قید لگائی گئی ہے، یعنی اگر دوسرا شوہر اتفاقاً کسی وجہ سے اپنی بیوی کو طلاق دے دے یا وہ مرجائے تب عدت گزار کر وہ عورت اپنے سابقہ شوہر سے دوبارہ شادی کرسکتی ہے، گویا دوسرے شوہر سے آزاد ہونے کے عمل میں یہ شرط لگانے کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے کہ دوسرا شوہر طلاق دے کر سابقہ شوہر کے لئے اسے آزاد کردے، دوسری بات یہ ہے کہ پہلے شوہر سے دوبارہ شادی کرنے کے لئے عورت کی مرضی لازمی ہے، اس کی مرضی کے بغیر نکاح نہیں ہوسکتا۔ بتلائیے اس میں غلط کیا ہے، اب رہی یہ شرط کہ عورت دوسرے مرد سے نکاح اور نکاح کے بعد ازواجی تعلقات قائم کئے بغیر پہلے شوہر کے لئے حلال نہیں ہوسکتی، تو یہ بات عورت کے حق میں ہے کہ وہ طلاق کے باوجود باعزت طریقے پر دوسرے مرد کے نکاح میں آرہی ہے اور مرد کے لئے باعث ذلت اور باعث رسوائی ہے کہ اس کی منکوحہ خود اس کی غلطی سے طلاق پاکر دوسرے کے بستر کی زینت بننے جارہی ہے، شریعت کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا، اگر یہ شرط نہ ہو تو مرد عورتوں کو کھلونا بنالیں جیسے عہد جاہلیت میں تھا کہ لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دیتے رہتے تھے اور رجوع کرتے رہتے تھے، یہاں تک کہ عورتیں بار بار کی طلاق اور رجوع سے عاجز آجاتی تھیں، اسلام نے دو مرتبہ رجوع کی اجازت دے کر بار بار رجوع کرنے کا دروازہ بند کردیا ہے، اسی طرح تین طلاق کو اگرچہ شریعت مؤثر مانتی ہے، اور اسے نافذ کرتی ہے، یعنی اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین مرتبہ میں تین، یا ایک ہی بار میں تین طلاقیں دے دے تو وہ تین ہی واقع ہوں گی، اور عورت ہمیشہ کے لئے اس سے جدا ہوجائے گی، تین طلاق کو مؤثر ماننے کے باوجود شریعت اسے ناپسندیدہ عمل قرار دیتی ہے، اب اگر وہ شخص اس ناپسندیدہ عمل کے بعد بھی اس عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے تو شریعت اسے آسانی کے ساتھ اس کی اجازت نہیں دیتی بل کہ اس صورت میں اجازت دیتی ہے کہ پہلے وہ عورت کسی دوسرے سے نکاح کرے اور اس کے ساتھ ازواجی تعلقات قائم کرکے آزاد ہو،اب اگر چاہے تو وہ پہلے شوہر سے رشتۂ زوجیت استوار کرسکتی ہے، حکیم الامت حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے دوسرے شخص سے نکاح کی تین حکمتیں لکھی ہیں (۱) اس بات کا اعلان کہ اب شوہر کا حق مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے (۲) شوہر کی تعزیر اور اس کے فعل شنیع پر تنبیہ (۳) تین طلاقوں کی سنگینی کا اظہار۔ (حجۃ اللہ البالغہ: ۲/۱۳۹)
حلالہ کا جو تصور عام کیا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ ایک مرد کے ساتھ عورت کا نکاح اس شرط کے ساتھ کردیا جاتا ہے کہ وہ اپنی منکوحہ کے ساتھ شب باشی کرکے اسے طلاق دے دے تاکہ پہلا شوہر اس سے نکاح کرلے، یہ صورت کسی بھی طور پر جائز نہیں ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کا نکاح کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے، فرمایا: لعن اللّٰہ المحلل والمحلل لہ۔  ’’حلالہ کرنے والے اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے ان دونوں پر اللہ کی لعنت ہو‘‘ (سنن ابی داؤد، کتاب النکاح، باب التحلیل رقم الحدیث: ۲۰۷۶، سنن الترمذی کتاب النکاح باب فی المحل والمحلل لہ رقم الحدیث ۱۱۱۹) اس سلسلے میں ایک اور واضح حدیث یہ بھی ہے کہ : جاء رجل إلی ابن عمر فسألہ عن رجل طلق امرأتہ ثلاثًا فتزوجہا أخ لہ عن غیر مؤامرۃٍ منہ لیحلہا لأخیہ ہل تحلّ للأوّل؟ قال! لا إلَّا نکاح رغبۃ، کنا نعد ہذا سفاحًا علی عہد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ ’’ایک شخص حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ کے پاس آیا اور اس نے اس شخص کے متعلق سوال کیا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو اس کے بھائی نے اپنے بھائی سے مشورہ کئے بغیر اس عورت سے نکاح کرلیا اس نیت سے کہ وہ عورت اس کے لئے حلال ہوجائے، (سوال یہ تھا) کہ کیا وہ عورت پہلے شوہر کے لئے حلال ہوجائے گی یا نہیں، حضرت ابن عمرؓ نے جواب دیا نہیں، نکاح تو وہ ہے جو رغبت سے کیا جائے، ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس کو زنا سمجھتے تھے‘‘ (المستدرک للحاکم: ۲/۲۱۷، السنن الکبری للبیہقی: ۷/۲۰۸) حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ کی طرف یہ قول بھی منسوب کیا گیا ہے کہ ’’حلالہ کرنے والا مرد وعورت اگرچہ بیس سال تک ایک ساتھ رہیں وہ زنا ہی کرتے رہیں گے‘‘ (المغنی لابن قدامہ: ۱۰/۵۱) حضرت عمر فاروقؓ کا یہ ارشاد بھی حلالہ کی مذمت میں بہت واضح ہے ’’اللہ کی قسم میرے پاس حلالہ کرنے والا اور کروانے والا لایا گیا تو میں دونوں کو سنگسار کردوں گا‘‘ (مصنف عبد الرزاق: ۲/۲۶۵) قرآن کریم کی جس آیت: فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ۔ (البقرۃ: ۲۳۰) کو بنیاد بنا کر حلالہ کی گھٹیا منظر کشی کی جاتی ہے اس کی تفسیر کرتے ہوئے مفتی محمد شفیع عثمانی صاحبؒ لکھتے ہیں: ’’یعنی اگر اس شخص نے تیسری طلاق بھی دے ڈالی جو شرعاً پسندیدہ نہ تھی تو اب نکاح کا معاملہ بالکلیہ ختم ہوگیا، اس کو رجعت کرنے کا کوئی اختیار نہ رہا۔ اور چوں کہ اس نے شرعی حدود سے تجاوز کیا کہ بلا وجہ تیسری طلاق دے دی تو اس کی سزا یہ ہے کہ اب اگر یہ دونوں راضی ہوکر پھر آپس میں دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو اس کے لئے شرط یہ ہے کہ یہ عورت عدت طلاق پوری کرکے کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور حقوق زوجیت ادا کرکے دوسرے شوہر کے ساتھ رہے پھر اگر اتفاق سے وہ دوسرا شوہر بھی طلاق دے دے یا مرجائے تو اس کی عدت پوری کرنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح ہوسکتا ہے۔ (تفسیر معارف القرآن: ۱/۵۵۸)۔
جہاں تک شرط لگا کر حلالہ کی نیت سے نکاح کرنے کا معاملہ ہے یہ صورت تمام علماء اور فقہاء کے نزدیک ناجائز اور حرام ہے، البتہ اس معاملے میں اختلاف یہ ہے کہ ایسا نکاح ہو بھی جائے گا یا نہیں، علامہ ابن قدامہؓ نے امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد ابن حنبلؒ سمیت بہت سے فقہاء کے ناموں کی صراحت کردی ہے جن کے نزدیک ایسا نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا، اور نہ اس صورت میں وہ مطلقہ اپنے پہلے شوہر کے لئے حلال ہوگی، احناف بھی اس نکاح کی حرمت کے قائل ہیں، امام ابویوسفؒ تو صاف طور پر کہتے ہیں کہ حلالہ کی شرط پر نکاح باطل ہے کیوں کہ یہ نکاح مؤقت ہے اور نکاح مؤقت فاسد ہوتا ہے، امام ابوحنیفہؒ اور امام محمدؒ بھی اس نکاح کو مکروہ تحریمی کہتے ہیں، البتہ یہ دونوں حضرات اس نکاح کو صحیح مانتے ہیں، کیوں کہ ان کے نزدیک شرط فاسد سے نکاح فاسد نہیں ہوتا۔ (البحر الرائق: ۴/۵۸، فتح القدیر: ۴/۳۴) عام طور پر دار العلوم دیوبند سمیت ہمارے تمام دارا لافتاء امام ابوحنیفہؒ کے مسلک پر ہی فتوی دیتے ہیں۔
اب جب کہ حلالہ کے معاملے کو لے کر اسلام کو نشانہ بنایا جارہا ہے، ہندوستان کے فقہاء احناف کو چاہئے کہ وہ اس معاملے پر از سر نو غور وفکر کریں، اگر امام مالکؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور امام شافعیؒ کی رائے کو کچھ دیر کے لئے نظر انداز بھی کردیں تب بھی فقہاء احناف میں سے امام ابویوسفؒ کی رائے پر فتوے دئے جاسکتے ہیں، امام ابوحنیفہ ؒ کی رائے کی بنیاد یہ اصول ہے کہ شروط فاسدہ سے عقود فاسد نہیں ہوتے، اگر کسی عقد میں کوئی شرط فاسد لگاتا ہے تو امام صاحبؒ کے نزدیک وہ شرط باطل ہوجاتی ہے اور عقد صحیح ہوجاتا ہے، اہل علم سے سوال یہ ہے کہ کیا اس سلسلے میں حضرت تھانویؒ کی کوششوں کے طرز پر کوئی کوشش ہوسکتی ہے یا نہیں، انہوں نے مفقود الخبر کی بیوی کے متعلق مذہب احناف سے عدول کرکے مالکی مسلک اختیار کرنے کی جو مثال قائم کی ہے موجودہ حالات میں اس سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے، اس لئے نہیں کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر غور ہے بل کہ بہت سے لوگوں نے نکاح حلالہ کو بزنس بنا لیا ہے اور وہ اس عمل میں حرمت اور گناہ کو نظر انداز کرتے ہیں اور نکاح کی صحت کو اصل سمجھتے ہیں، ایسے لوگوں کی ہمت شکنی کے لئے ضروری ہے کہ طلاق کی شرط لگا کر نکاح کرنے والوں کواس کی سنگینی کا احساس کرایا جائے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب اس سلسلے میں امام ابویوسفؒ اور ائمہ ثلاثہؒ کے مسلک کے مطابق فتوے دئے جائیں۔
جب یہ بات واضح ہے کہ حلالہ کا وہ تصور جو میڈیا کے ذریعے عام کیا جارہا ہے یا جو درخواست گزاروں نے عدالت میں پیش کیا ہے وہ اسلام میں ہے ہی نہیں تو ہمیں اس کے دفاع کے لئے عدالت میں پیش ہونا چاہئے یا نہیں؟ اس سوال پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو غور کرنے کی ضرورت ہے، یوں بھی یہ معاملہ تین طلاق کے معاملے سے مختلف ہے، تین طلاق کے متعلق حضرات ائمہ اربعہؒ کا مذہب یہ ہے کہ تینوں طلاقیں واقع ہوں گی اور عورت دائمی طور پر طلاق دینے والے کے لئے حرام ہوجائے گی، اس سلسلے میں صحابۂ کرامؓ کا اجماعی تعامل بھی یہی ہے، جو جمہور کے مسلک کی صحت پر دلالت کرتا ہے،گویا یہ پوری امت کا متفقہ معاملہ ہے، جب کہ حلالہ کی شرط پر کیا گیا نکاح امام ابوحنیفہؒ اور امام محمدؒ کے سوا تمام ائمہ کے یہاں حرام ہے، اس سلسلے میں حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ کی حدیث تو بالکل واضح ہے جس کے متعلق حضرت مولانا تقی عثمانی نے لکھا ہے کہ اس سے شوافع استدلال کرتے ہیں، اور اس کا کوئی جواب میری نظر سے نہیں گزرا، (درس ترمذی: ۳/۱ـ۴۰) بہ ہر حال ان دونوں معاملوں کے فرق پر غور کرتے ہوئے کوئی ایسا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے جس پر عمل کرکے ہم حلالہ کے اس گھناؤنے تصور سے اسلام کی شبیہ کو بے داغ ثابت کرسکتے ہیں۔
nadimulwajidi@gmail.com

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن