کیا اردغان ۲۰۱۸ کے انتخابات جیت لیں گے؟
*کیا اردغان ۲۰۱۸ کے انتخابات جیت لیں گے؟*
_اسماعیل کرخی_
جی ہاں! یہ مسئلہ اب عالمی سیاسی مسئلہ بن چکا ہے، یوں تو یہ صرف ترکی کا مسئلہ تھا، لیکن اب نہ صرف مشرقی ممالک بلکہ یورپ، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے تمام اخبارات اس سلسلہ میں اپنی آراء کا اظہار کر رہے ہیں، مغربی ممالک میں یہ خبر بجلی بن کر گری کہ آق پارٹی نے ایک سال قبل ہی الیکشن کروانے کا فیصلہ لیا ہے، اس خبر کی تصدیق کے بعد تمام یورپی اخبارات بشمول وہاں کے سیاسی رہنماؤں نے اپنی بوکھلاہٹ کا پر زور مظاہرہ کیا جو ہنوز جاری ہے، اس سے قطع نظر کہ مغربی دنیا کیا اور کیوں کہہ رہی ہے یہ بات اہم ہے کہ آق پارٹی الیکشن جلد کیوں کروا رہی ہے؟ اور کیا اردغان الیکشن جیت جائیں گے؟
اس سلسلہ میں قارئین کو دو باتیں اپنے ذہن میں رکھنی چاہئے، پہلی یہ کہ ۱۵ جولائی کی ناکام بغاوت کے بعد ترک صدر رجب اردغان نے آئینی اصلاحات کے لئے ریفرینڈم کروا دیا جس میں اُنہیں ۵۱ فیصد سے زائد ووٹ ملے، یعنی ترک عوام کی اکثریت یہ چاہتی ہے کہ پارلیمانی نظام حکومت کی بجاے صدارتی نظامِ حکومت لایا جاے جس کے بعد دستور میں مناسب ترمیم کی جاے، لیکن اس مسئلہ کو لیکر بھی مغربی دنیا نے خوب شور مچایا کہ اردغان صدارتی نظام کی آڑ میں جمہوریت کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں، جبکہ حیرت کی بات یہ ہے کہ رجب طیب اردغان ہی کے دور میں ترکی کی تمام اقلیتیں مضبوط ہوئیں اور اُنہیں آزادی اور ترقی نصیب ہوئی پھر ترکی پہلا ایسا ملک نہیں جہاں صدارتی نظامِ حکومت نافذ کیا جاے گا بلکہ دنیا بھر میں فی الوقت 60 سے زائد ممالک میں یہ نظام قائم ہے، جس میں خود ریاست ہاے متحدہ امریکہ بھی شامل ہے جسے عالمی قیادت کا دعوہ ہے، اور جو نام نہاد قیام امن کی ہر دہشتگردانہ کاروائی کا ذمہ دار ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اردغان ترکی کے اُن قوانین اور اصولوں کو آئین سے حذف کردینا چاہتے ہیں جسے کمال پاشا نے استعماری قوتوں کی مدد سے خلافت کے خاتمہ کے بعد ترک عوام پر جبری طور پر مسلط کیا تھا مزید یہ کہ ۲۰۲۳ تک اردغان ملک شام کو بشار رجیم سے آزاد کروا کر شامی مسلمانوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں تاکہ شامی مسلمان بشار کو شامی عدالت ہی میں سزا دیں، ترک صدر اُن چالیس لاکھ شامی مہاجرین کو اُنکے ملک بحفاظت پہنچانا چاہتے ہیں جن کا سارا خرچ کئی سالوں سے ترک حکومت اُٹھا رہی ہے، اور اس بات کا اظہار خود ترک صدر نے بارہا اپنے خطبات میں کیا ہے، ان دو عوامل کے سبب ریفرینڈم کے بعد ہی ترک سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی اور عالمی پیمانے پر صدر اردغان کے خلاف ماحول بنانے کی ناکام کوششیں کی جانے لگیں، تاکہ ۲۰۱۹ کے الیکشن میں اردغان کو سیاست سے ہٹایا جاسکے، لیکن ظاہر ہے کہ یہ خواب شرمندہ تعبیر ہونے سے رہا. (انشاء اللہ)
اب اگر ہم ترک سیاسی پارٹیوں کی بے چینی دیکھیں تو ایک بات واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ در اصل ۲۰۱۹ کے انتخابات ۲۰۱۸ میں کروانے کا ایک مقصد شاید یہ بھی ہو کہ صدر اردغان اپنے مخالفین کے پروپگنڈوں پر ایک کاری ضرب لگانا چاہتے تھے جس سے اُن کے ہاتھ شل ہوجائیں؟ چونکہ اس فیصلہ کے بعد یہی ہوا بھی، آپ غور کریں کہ الیکشن کو اب صرف دو مہینے رہ گئے ہیں لیکن اب تک ترک عوام کی اکثریت کے مخالفین شش و پنج میں ہیں کہ ہم کس کے ساتھ اتحاد کریں؟ اور صدر کے لئے اُمید وار کسے منتخب کریں؟.
یاد رہے یہ انتخابات ۳ نومبر ۲۰۱۹ میں ہونے تھے لیکن اب 24 جون ۲۰۱۸ میں ہونگے، ترک الیکشن کمیشن کے مطابق صدراتی اتنخابات میں اُمیدوار کی حیثیت سے کھڑا ہونے کے لئے ۱ لاکھ ووٹرز یا کم از کم اسمبلی کے بیس ارکان کی حمایت حاصل ہونا ضروری ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ ۲۰۱۵ کے انتخابات میں صدر رجب اردغان کی انصاف و ترقی پارٹی (AKP) کے 317 ارکان اسمبلی کے لئے منتخب ہوے، جبکہ کمال اتا ترک کی اسلام دشمن جماعت جمہوری خلق پارٹی (CHP) کو صرف 134 سیٹیوں پر کامیابی ملی، اسی طرح الپ ارسلان کی ملی حرکت پارٹی (MHP) نے 40 سیٹوں پر کامیابی درج کرائی، قابلِ غور بات ہے کہ الپ ارسلان نے آئندہ انتخابات کے پیشِ نظر صدر رجب طیب اردغان سے اتحاد کرلیا ہے، جبکہ مصطفی کمال پاشا کے وارث کمال کلیچدار اب تک یہاں وہاں کی خفیہ ملاقاتوں میں سرگرم ہیں، وہ نہ ہی خود کو صدر کے لئے پیش کرنے پر رضا مند ہیں نہ ہی اپنی پارٹی کے کسی دوسرے فرد کو آگے بڑھنے دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے اُنکی پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہی ہے، حالیہ اطلاعات کے مطابق CHP کے 14 سے زائد اسمبلی ارکان خاتون میرال اکشنر (Meral Akşener) کی نو مولود İyi party *اچھی پاڑٹی* (IP) میں شامل ہوگئے ہیں جس کے ساتھ کلیچدار اتحاد کی کوشش کر رہے تھے، لیکن اب یہ کوشش ناکام ہوتی نظر آرہی ہے چونکہ اکشنر خود اپنی ذات کو صدارت کے لئے پیش کرسکتی ہیں، ایک اور چھوٹی سی پارٹی جس نے خلق ڈیموکریٹک پارٹی کے نام پر بیس سیٹیں حاصل کی تھیں اب تک اپنے اُمیدوار کا نام ظاہر نہیں کرسکی ہے، یعنی اب آق پارٹی کے مقابلے میں جمہویت خلق پارٹی ہی سب سے بڑی مخالف جماعت کے طور پر دیکھی جاسکتی ہے لیکن پارٹی اندورنی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے اپنے اُمیدوار پر اتفاق نہیں کرپارہی ہے، اس پر مزے دار بات یہ ہے کہ صدر اردغان کے استاذ نجم الدین اربکان کی اسلام پسند سعادت پارٹی (Felicity Party) جو گزشتہ الیکشن میں مکمل طور پر ناکام ہوئی تھی اب آق پارٹی کے سابق صدر عبداللہ گل کو اردغان کی مخالفت میں بطور اُمیدوار پیش کررہی ہے، اور اپوزیشن سے عبد اللہ گل پر اتفاق کرنے کی مانگ کرہی ہے، یاد رہے سعادت پارٹی کے ممبران ہر الیکشن میں اردغان کے خلاف خوب بیانات دیتے ہیں، اور اپنا مقصد اسلام کا نفاذ بتاتے ہوے خود کو اینٹی اردغانزم کہہ کرپیش کرتے ہیں، بعض تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ یہ سب صرف سیاسی حربے ہیں چونکہ سعادت پارٹی نے خود کو آق پارٹی کی ترقی میں فنا کیا ہے، اور وہ اردغان کو غیر اسلام پسند کہہ کر انکے حامیوں میں اضافہ کرتی ہے، اس وقت بھی بالکل یہی صورتِ حال ہے، اردغان مخالفین کے سامنے سعادت پارٹی اردغان ہی کے دیرینہ دوست عبداللہ گل کو پیش کررہی ہے، اب ظاہر ہے کہ اردغان کے مخالفین جن کی مجموعی تعداد 30 سے 40 فیصد ہے وہ عبداللہ گل جیسے واضح اسلام پسند کو ووٹ کیوں دیں گے؟ چونکہ اردغان کی مخالفت ملائم اسلام پسندی یا سافٹ اسلام ازم کی وجہ سے ہے اب ایک سافٹ اسلام پسند کو چھوڑ کر کٹر اسلام پسند کو ووٹ کیوں دیا جاے گا؟ یعنی یہ کہ سعادت پارٹی اردغان مخالفین کو غیر محسوس طریقہ سے باور کرانا چاہتی ہے کہ تمہارے پاس اردغان کے علاوہ کوئی آپشن نہیں؟ بہر حال سعادت پارٹی کی منشا جو بھی ہو لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اردغان الیکشن جیت لیں گے؟ تو اسکا ایک جواب تو ظاہری اسباب کی بنا پر دیا جاسکتا ہے کہ، بالکل! اس میں کوئی شک نہیں اردغان ہی الیکشن جیتں گے، لیکن ہم اہلِ ایمان ہیں اس لئے ہم تمام اُمیدیں اللہ ہی سے وابسطہ کرتے ہیں اس لئے ہمارا جواب ہے کہ ان شاء اللہ اردغان ضرور الیکشن جیت لیں گے.
_تمام مسلمانوں سے ترک بھائیوں کے لئے دعاے خیر کی درخواست ہے، ان شاء اللہ ترکی کا یہ انتخاب تاریخی بھی ہوگا اور تاریخ ساز بھی_
*شیخ اسماعیل کرخی ندوی*
Comments
Post a Comment