مشرق ومغرب کا فرق

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺

            *مشرق ومغرب کا فرق*

    اسلام کا سورج مکہ مکرمہ میں طلوع ہوکر مدینہ منورہ کے افق سے پورے عالم پر بڑے آب وتاب کے ساتھ روشن ہوا،اس کی کرنیں ہر کچی وپکی،خشک وتر اور قریب وبعید کے امتیاز کے بغیر پہونچی،اور جہاں کہیں اس کی شعاعوں نے دستک دی وہاں کی پوری کی پوری فضا معطر ہوگئی،روح وجان سے لیکر جسم وساخت پر بھی گہرا اثر پڑا،ایک خدا کی عبادت،للہیت وخشیت اور دردمند دل، سوز مند فکر،وسیع الصدر پیدا کرنے اور انسانیت کو راہ نجات پر لگانے کی دھن سوار ہوگئی، صنف نازک اور صنف ضعیف کو ان کا حق دیا گیا،شرم وحیا اور پاکدامنی وعفت اور ضمیر وخودداری ،بے کسوں کے ساتھ حسن سلوک اور ستم زدہ کے ساتھ درد وگداز کے کردار نے جنم لیا؛لیکن کیا کہئے؛ کہ طلوع آفتاب پر کوئی ہٹ دھرمی اور عناد و سرکشی کو ترجیح دے،یا کیا کہئے جو تصویر کو حقیقت اور مجسمے کو تحریک پر اولی جانے؟یا کیا کہئے اس چمگادڑ کو جو الٹا لٹک کر اپنے پروں میں سر گاڑ کر سورج کا انکار کرے؟چنانچہ یہی رویہ مغربی ممالک کی طرف سے بھی ظاہر کیا گیا، اور اس میں بہت حد تک ان کی مذاہبانہ دشمنی اور دیرینہ رقابت کا ہاتھ رہا ہے،لہذا اسلام وغیر اسلام کی بنیاد پر مشرق ومغرب میں سمندر سا بعد پایا جانے لگا،جس کا نقشہ مولانا عبدالماجد دریابادی رحمہ اللہ نے بہت خوب کھینچا ہے،رقمطراز ہیں:
   *"مشرق ومغرب کا جو فرق ہے،وہ مشرق ومغرب کا فرق ہے،بعدالمشرقین ہے،جزئیات میں نہیں؛کلیات میں ہے،فروع میں نہیں ؛اصول میں ہے،عرض میں نہیں جبلت و سرشت میں ہے،وہ مادیت میں مست ہے،ہم روحانیت میں غرق (کاش یہ جملہ آج بھیمن وعن صادق ہوتا؟:راقم)،وہ تجارت وثروت کے گھوڑ دوڑ میں سرگرم عمل ہیں، ہم صبر وقناعت کے حجروں میں فقرہ کی کملی لپیٹے ہوئے ہیں، وہ دنیا کے چپہ چپہ سے واقفیت کے دھن میں ہیں،ہمیں اپنے عرفان نفس سے کہاں فرصت،وہ اس پر تلے ہوئے ہیں ؛کہ مادہ کے ایک ایک قانون کو دریافت کرکے رہیں گے،ہم اپنے سفر میں کائنات مادی کو بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں،وہ مادہ کے ایک ایک قانون کو دریافت کرکے اچھل پڑتے ہیں،؛کہ"انسان کا اصل بندر ہے" ہم بد مستی وبے ہوشی میں بھی نعرہ لگاتے ہیں تو یہ کہ "انسان خدا میں گم ہے"*(انشائے ماجدی:۱۰۴)
   مشرق ومغرب کی یہ دوری زمانے کے ساتھ اگرچہ کم ہوئی اور ہورہی ہے؛لیکن آج بھی اس خانہ خراب میں مشرقیت کی زندہ دلی اور مذہب نوازی سے انکار نہیں، اس میں اخلاق واقدار اور تعظیم وکردار خواہ کم سہی ؛لیکن نایاب نہیں ،اس کے برعکس مغربی اخلاق اور معیار زندگی اپنی آخری سانس لے رہی ہے،اس کے نظام حیات کا ڈھانچہ عرصہ ہوا ؛کہ دم تور چکا ہے،اقدار نے دامن چھڑا لیا ہے، مذہب بےزاری کا یہ عالم ہے؛ کہ اسے پراویٹ وذاتی بتلاکر قید وبند کی سزا دے دی گئی ہے، کیتھولک، پروٹسٹنٹ کے نظام سے بغاوت کرتے ہوئے انسان مادہ پرستی و شکم پروی اور خود پسندی و بوالعجبی اور بوالہوسی اور جوع البقر میں اسفل من السافلین بن چکا ہے،اعلی علیین کی خبر اس کے گوش ناتواں تک ازراہے خطا بھی نہیں ٹکراتی اور اگر کبھی کسی انسان دوست یا مذہب پسند نے اپنی پسند کا اظہار بھی کیا، تو اسے منہ کی کھانی پڑی،وہ رسوائیوں اور اپنے وپراویوں کے درمیان سامان مزاق بن کر رہ گیا ،سچ کہا ہے مرحوم اکبر الہ بادی نے:
*مشرقی کو ہے ذوق روحانی*
*مغربی میں ہے میل جسمانی*
کہا منصور نے خدا ہوں میں
ڈارون بولے بوزنہ (بندر) ہوں میں
*ہنس کے کہنےلگے مرے اک دوست*
*"فکر ہر کس بہ قدر ہمت اوست"*

      ✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن