مسلم لڑکیوں کی تعلیم اور غیر مسلموں سے معاشقے۔۔
مسلم لڑکیوں کی تعلیم اور غیر مسلموں سے معاشقے۔۔
عصرِ حاضر کا ایک سلگتاموضوع، قومِ مسلم کے لیے لمحہ فکریہ
ایک سوال کے جواب میں:
یہ معاملہ بھی ہمارے معاشرے میں ناسور بنا ہوا ہے، میرا تعلق بھی اکثریتی مسلم آبادی والے شہر سے ہے اور یہاں بھی پچھلے چند سالوں سے یہ داستاں شروع ہے،
آپ کو ہو سکتا ہے میری باتیں بنیاد پرست اور قدامت پسند والی لگیں پر تلخ حقیقت یہی ہے۔۔۔
اس کا علاج نہیں اس کا توڑ چاہئے!!
عورت ایک فتنہ ہے، پردے میں رکھنے والی چیز ہے، اور جب عمر فاروق رض نےمستورات کے پردے میں رہنے کو اہمیت دیتے ہوئے یہ اقدام کیا کہ وہ نماز کے لیے مسجد نا آئے، بلکہ گھر کی چاردیواری میں ادا کرے، تو ہم نے کیوں جلیل القدر صحابی رض کے اس قدم کو ٹھکراتے ہوئے عورت کو دنیا کی تعلیم دلانے کے لیے کسی غیر محرم مرد اور غیر محرم محفل کی زینت بنا دیا؟
حقوقِ نسواں اور حقوقِ آزادی کے نام پر اصل میں بے حیائی کو عام کیا گیا،
کیا ضرورت تھی بنتِ فاطمہؓ کی بیٹیوں کو بازار کی زینت بنانے کی؟
کیا ضرورت تھی ہماری بچیوں کو تعلیم کے نام پر بے حیائی کی دنیا کا حصہ بنانے کی؟؟ اور بالائے ستم کہ لڑکیوں کو بڑے بڑے سیل فون دے دیے جاتے ہیں۔۔
آج کتنی لڑکیاں یا ان کے والدین اس لیے انہیں تعلیم دلاتے ہیں کہ ان کا یہ عمل قوم کی خاطر ہو؟ اگر کوئی اس نیت کے ساتھ شروع بھی ہوتا ہے تو کالج کے بے حیا ماحول کے اثر سے اکثریت بے راہ روی کا شکار ہو جاتی ہیں۔۔
میں نے خود دیکھا ہے میری کالج کی مسلم لڑکیوں کے غیر مسلموں کے ساتھ افئیر، اس کا ذمہ دار وہ لڑکی بعد میں اس کے سرپرست پہلے ہیں۔۔
آج جتنے بھی یہ حادثات پیش آ رہے ہیں ان میں 90% کالج میں تعلیم حاصل کرنیوالی لڑکیاں ہیں،
بڑے بڑے سیل فون ان کے سرپرست کیا اسلیے نہیں دیتے کہ وہ سوشل میڈیا پر بے حیائی کے ساتھ سیلفی اپلوڈ کرے؟؟
غیر محرم غیرمسلم لڑکوں سے دوستیاں بنائے؟؟
میں یہ سب امکانی نہیں تجرباتی باتیں بیان کر رہا ہوں، میں نے اس دنیا کا عرصے تک حصہ رہا ہوں پر الحمدلله کارواں سے جڑنے کے بعد صلاحیتیں صحیح رخ پر ہیں۔۔
میں نے یہ بھی دیکھا ہیکہ لڑکی کے گھر والوں کے علم میں ہوتا ہے کہ ان کی بچی کے دوستوں کی فہرست میں کتنے لڑکے غیر مسلم ہیں، پر وہ ماڈرن زندگی کا حصہ سمجھ کر انجوائے کرتے ہیں وہ سب سمجھتے ہیں پر سمجھنا نہیں چاہتے کہ کوئی بھی غیر محرم لڑکا ان کی بچی کے ساتھ بھائی بہن جیسا مقدس رشتہ کبھی نہیں سوچتا ہے،،
میں نے تو یہ صورتحال بھی دیکھی ہے کہ مسلم بھائی اپنی گرل فرینڈ سے اپنی بہنوں کو اور ماں کو ملاتا ہے،
مسلم لڑکیاں اپنے بوائےفرینڈ سے اپنے بھائی اور باپ کو ملاتی ہے!!
میں یہی کہنا چاہونگا کہ صنفِ نازک ناقص العقل ہوتی ہیں، اور بہت سادہ ذہن بھی، انکی تربیت سے انہیں جس سانچے میں ڈھال دو یہ عمر بھر اس سانچے میں ملینگی، تو لڑکیوں کی آوارگی کی ذمہ دار بالکل وہ ہے کہ اس نے کیوں آوارگی کی راہ اپنائی؟
پر اس کے ساتھ وہ چار لوگ بھی ہیں جو اس کی اس غلطی پر اس کے جہنم کے ساتھی بنیں گے،،
1-باپ
2-بھائی
3-شوہر
4بیٹا۔۔۔
آخر حدیث میں عورت کی بربادی کا ذمہ دار صرف عورت کو نا کہتے ہوئے اس کے محرم مردوں کو کیوں کہا گیا؟؟؟
اور اگر کسی غیر محرم لڑکے سے معاشقے کے چکر میں اس لڑکی نے دینِ توحید کو ٹھکرا کر بت پرستی کے دھرم کو اپنا لیا تو ذمہ دار کون ہوگا؟؟
🖋ابو_دجانہ
کاروانِ امن و انصاف
عصرِ حاضر کا ایک سلگتاموضوع، قومِ مسلم کے لیے لمحہ فکریہ
ایک سوال کے جواب میں:
یہ معاملہ بھی ہمارے معاشرے میں ناسور بنا ہوا ہے، میرا تعلق بھی اکثریتی مسلم آبادی والے شہر سے ہے اور یہاں بھی پچھلے چند سالوں سے یہ داستاں شروع ہے،
آپ کو ہو سکتا ہے میری باتیں بنیاد پرست اور قدامت پسند والی لگیں پر تلخ حقیقت یہی ہے۔۔۔
اس کا علاج نہیں اس کا توڑ چاہئے!!
عورت ایک فتنہ ہے، پردے میں رکھنے والی چیز ہے، اور جب عمر فاروق رض نےمستورات کے پردے میں رہنے کو اہمیت دیتے ہوئے یہ اقدام کیا کہ وہ نماز کے لیے مسجد نا آئے، بلکہ گھر کی چاردیواری میں ادا کرے، تو ہم نے کیوں جلیل القدر صحابی رض کے اس قدم کو ٹھکراتے ہوئے عورت کو دنیا کی تعلیم دلانے کے لیے کسی غیر محرم مرد اور غیر محرم محفل کی زینت بنا دیا؟
حقوقِ نسواں اور حقوقِ آزادی کے نام پر اصل میں بے حیائی کو عام کیا گیا،
کیا ضرورت تھی بنتِ فاطمہؓ کی بیٹیوں کو بازار کی زینت بنانے کی؟
کیا ضرورت تھی ہماری بچیوں کو تعلیم کے نام پر بے حیائی کی دنیا کا حصہ بنانے کی؟؟ اور بالائے ستم کہ لڑکیوں کو بڑے بڑے سیل فون دے دیے جاتے ہیں۔۔
آج کتنی لڑکیاں یا ان کے والدین اس لیے انہیں تعلیم دلاتے ہیں کہ ان کا یہ عمل قوم کی خاطر ہو؟ اگر کوئی اس نیت کے ساتھ شروع بھی ہوتا ہے تو کالج کے بے حیا ماحول کے اثر سے اکثریت بے راہ روی کا شکار ہو جاتی ہیں۔۔
میں نے خود دیکھا ہے میری کالج کی مسلم لڑکیوں کے غیر مسلموں کے ساتھ افئیر، اس کا ذمہ دار وہ لڑکی بعد میں اس کے سرپرست پہلے ہیں۔۔
آج جتنے بھی یہ حادثات پیش آ رہے ہیں ان میں 90% کالج میں تعلیم حاصل کرنیوالی لڑکیاں ہیں،
بڑے بڑے سیل فون ان کے سرپرست کیا اسلیے نہیں دیتے کہ وہ سوشل میڈیا پر بے حیائی کے ساتھ سیلفی اپلوڈ کرے؟؟
غیر محرم غیرمسلم لڑکوں سے دوستیاں بنائے؟؟
میں یہ سب امکانی نہیں تجرباتی باتیں بیان کر رہا ہوں، میں نے اس دنیا کا عرصے تک حصہ رہا ہوں پر الحمدلله کارواں سے جڑنے کے بعد صلاحیتیں صحیح رخ پر ہیں۔۔
میں نے یہ بھی دیکھا ہیکہ لڑکی کے گھر والوں کے علم میں ہوتا ہے کہ ان کی بچی کے دوستوں کی فہرست میں کتنے لڑکے غیر مسلم ہیں، پر وہ ماڈرن زندگی کا حصہ سمجھ کر انجوائے کرتے ہیں وہ سب سمجھتے ہیں پر سمجھنا نہیں چاہتے کہ کوئی بھی غیر محرم لڑکا ان کی بچی کے ساتھ بھائی بہن جیسا مقدس رشتہ کبھی نہیں سوچتا ہے،،
میں نے تو یہ صورتحال بھی دیکھی ہے کہ مسلم بھائی اپنی گرل فرینڈ سے اپنی بہنوں کو اور ماں کو ملاتا ہے،
مسلم لڑکیاں اپنے بوائےفرینڈ سے اپنے بھائی اور باپ کو ملاتی ہے!!
میں یہی کہنا چاہونگا کہ صنفِ نازک ناقص العقل ہوتی ہیں، اور بہت سادہ ذہن بھی، انکی تربیت سے انہیں جس سانچے میں ڈھال دو یہ عمر بھر اس سانچے میں ملینگی، تو لڑکیوں کی آوارگی کی ذمہ دار بالکل وہ ہے کہ اس نے کیوں آوارگی کی راہ اپنائی؟
پر اس کے ساتھ وہ چار لوگ بھی ہیں جو اس کی اس غلطی پر اس کے جہنم کے ساتھی بنیں گے،،
1-باپ
2-بھائی
3-شوہر
4بیٹا۔۔۔
آخر حدیث میں عورت کی بربادی کا ذمہ دار صرف عورت کو نا کہتے ہوئے اس کے محرم مردوں کو کیوں کہا گیا؟؟؟
اور اگر کسی غیر محرم لڑکے سے معاشقے کے چکر میں اس لڑکی نے دینِ توحید کو ٹھکرا کر بت پرستی کے دھرم کو اپنا لیا تو ذمہ دار کون ہوگا؟؟
🖋ابو_دجانہ
کاروانِ امن و انصاف
Comments
Post a Comment