سماجی خدمات اور اسلامی تعلیمات

سماجی خدمات اور اسلامی تعلیمات
🖋️شاہد الامینی
سماجی  خدمات کے  اسلامی تصور   کا امتیاز

سماجی خدمات کا عمومی تصور یہ ہیکہ سماج و معاشرہ کی فلاح و بہبود  اور انسانیت کی خدمت کے لئے کام کرنا ، موجودہ زمانہ میں مختلف جماعتیں  سماجی خدمات کا کام کر رہی ہے ،یقینا   سماجی خدمات کی وہ تمام اقسام جو انسانیت دوستی کی بنیاد پر قائم ہو قابل  قدر ہیں ۔لیکن اسلام کے سماجی خدمات کے تصور  کا امتیاز یہ ہیکہ  اسلام نے  سماجی خدمات کا مقصود   رضاء الہی  کو قرار دیا اور یہ تعلیم دی کہ’’  جو لوگ  اپنا مال راہ  خدا میں خرچ کرتے ہیں اور اور جو کچھ انہوں نے خرچ کیا اس پر  احسان نہیں جتلاتے  ان کی جزاء ان کے پروردگار کے ہاں محفوظ ہیں  اور انہیں کوئی خوف ہیں اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں ‘‘(البقرہ ۲۶۲)  سورہ بقرہ کی اس آیت میں اسلامی تصور خدمت کا ایک امتیاز یہ بھی ظاہر ہوتا ہیکہ اس نے فطرت  انسانی  کو جو کہ ہر کام کے پیچھے کوئی نفع یا عوض  طلب کرتی  ہے اسے  رضاء الہی اور اللہ تعالی کی طرف سے جزاء کا تصور عطاء کیا جو اسے  اس عظیم کار خیر کی طرف راغب کرتا ہے۔ ایک امتیاز یہ کہ سماجی خدمات کا اسلامی تصور انسانی بنیادوں پر قائم ہے،بر خلاف بہت سی بلکہ اکثر جماعتوں کے کہ وہ علاقائی،قومی،لسانی مختلف بنیادوں پر قائم ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے   پوری مخلوق کو اللہ کا کنبہ قرار دیا  ،اسلام  نے مذہب و ملت ،رنگ و نسل،ذات پات کی تفریق کے بغیر وسیع انسانی بنیادوں  کو فراہم کیا۔قرآن میں کہا گیا کہ تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی بھلائی کے لئے پیدا کی گئی ہو گویا اسلام نے انسانیت کی بھلائی  ہی  امت محمدیہ کی بعثت کا ایک عظیم ترین مقصد اور امتیاز بتایا۔تیسرا امتیاز یہ کہ اسلام اعتدال پسند مذہب ہے یہ کسی بھی امر میں افراط و تفریط  اور عدم توازن کو بالکل برداشت نہیں کرتا ہے ۔بہت سے مذاہب کی بنیاد اور اس کا کل  وجود ہی خدمت خلق قرار پایا ہےجب کہ اسلام نے اس بے اعتدالی کو بالکل مسترد کر دیا کہ ذاتی  اصلاح  اور معاشرہ کی ترقی کے بہت سے پہلوؤں سے یکسر خالی ہو کر صرف اور صرف خدمت کے کسی ایک شعبہ میں لگ جانے کو  باعث فخر سمجھا جائے  اور اسی کو سب کچھ سمجھ لیا جائے چنانچہ اللہ تبارک و تعالی نے ان کفار کو مخاطب ہو کر جو  حاجیوں کی خدمت کرتے تھے ،اور زندگی  کے دوسرے شعبوں  سے غافل تھے اور اس خدمت ہی کو باعث فخر سمجھتے تھے ان کے اس فعل پر   تنبیہ فرمائی ۔

        حضوراور سماجی خدمات

سماجی خدمات حضورﷺ کی سیرت طیبہ کا ایک اہم  اور روشن باب ہے۔حضور ﷺ نبوت ملنے سے پہلے  ہی سے  سماجی خدمات میں نمایاں مقام رکھتے تھے ۔ حیات طیبہ  کے اس پہلو  کو اجاگر کرنے والے تمام واقعات کا انحصار  تفصیل طلب اور مشکل ہے،یہاں ہم  چند واقعات  کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں۔
(۱)حلف الفضول کا معاہدہ :قاضی سلیمان منصورپوری نے ’’قیام امن و نگرانی حقوق کی انجمن کا انعقاد ‘‘ کے عنوان سے اس معاہدہ کا منشور جو تحریر کیا ہے وہ درج ذیل ہے۔
۱۔ہم ملک سے بے امنی دور کریں گے (۲)ہم مسافروں کی  حفاظت  کیا کریں گے  (۳) ہم غریبوں کی امداد  کرتے رہیں گے  (۴)ہم زبردست کو زیر دست پر ظلم  کرنے سے روکا کریں گے۔(سماجی بہبود اور تعلیمات نبوی  از ڈاکٹر محمد ہمایوں عباس شمس )

(۲) مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات:اللہ کے رسول ﷺ نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات کروائی ۔اس کا مقصد بیان کرتے ہوئے علامہ سہیلی فرماتے ہیں ۔تاکہ ان کے غریب الوطنی کے احساس کو دور کیا جائے  ،اور اپنے اہل و عیال سے جدائی کے وقت ان کی  دلجوئی کی جائے۔اور ایک دوسرے سے ان کو تقویت پہنچائی جائے۔ڈاکٹر نور محمد غفاری نے ’مواخاۃ‘ کو اسلام کے نظام  اجتماعی تکافل کا عملی نمونہ قرار دیتے ہوئے اس کی معاشی اہمیت کے بارے میں لکھا ہے  کہ (۱) مہاجرین کی معاشی کفالت کا سامان ہو گیا ار اس سے متعلقہ معاشی مسائل حل ہو گئے۔(۲)قلیل عرصہ میں مہاجرین کی بنیادی ضروریات زندگی کے اسباب اللہ تعالی نے مہیا کر دئے۔(۴) وقتی بے روزگاری کا علاج تلاش کر لیا گیا (۴)معاشی وسائل کا مناسب استعمال کر لیا گیا ۔۔(سماجی بہبود اور تعلیمات نبوی  از ڈاکٹر محمد ہمایوں عباس شمس )

(۳)اہل صفہ رفاہ عامہ کا ایک عظیم ادارہ : اس ادارہ  میں موجود صحابہ کرام کی ضروریات زندگی پوری کرنا یہ تو  سماجی خدمت ہے ہی لیکن   یہ بات بھی قابل غور ہے کہ وہ صحابہ علوم نبویہ کے حصول میں اپنا وقت خرچ کرتے تھے گویا اس پہلو سے بھی رفاہ عامہ کا کام ہو رہا تھا کہ وہاں معاشرہ کی ترقی کے لئے افراد سازی کا کام ہو رہا تھا ۔

         رفاہ عامہ کے مختلف منصوبے کتب احادیث کی روشنی میں
حقیقت یہ ہیکہ اسلام کے سماجی خدمات کے وسیع نظام  کا احاطہ  مشکل ہے،احادیث مبارکہ میں رفاہ عامہ کے مختلف منصوبوں کی طرف  نشاندہی اور اس کے فضائل کا بیان موجود ہے، جسے محدثین نے مختلف ابواب کے تحت جمع کیا ہے البتہ یہاں  ان ابواب کے عناوین کا جمع کرنا بھی مشکل ہے ۔البتہ ان ابواب کو ان بڑے  عناوین میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
              
               وقف اور رفاہ عامہ

  اپن ملکیت کی کسی چیز  یا اس کے منافع کو مفاد  عامہ  یا کار خیر کے لئے خاص کر دینا  جسے وقف کہتے ہیں ،اسلام نے اس تصور کی بڑی ہمت افزائی کی اور کہا کہ یہ صدقہ جاریہ ہے۔

         زکوۃ و صدقات اور کفارات

زکوۃ ،صدقات اور کفارات کے  اسلامی نظام اور ان کے مصارف پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہیکہ     یہ کفالت اجتماعی کا غیر معمولی نظم ہے،جو ان مختلف نظاموں کا مشترکہ  فائدہ  ہے،البتہ یہ اپنے اندر رفاہ عامہ  اور معاشرہ کے اجتماعی نظام کے مختلف اور کثیر الجہات پہلوؤں کو لئے ہوئے ہیں ۔جن کی تفصیل  اس مختصر سے مضمون میں ممکن نہیں ۔
اس کے علاوہ ،کمزوروں ،یتیموں،مظلوموں کی مدد  ،صلح ،شفاعت ،عیادت وغیرہ بہت سے فلاحی منصوبوں کو  احادیث میں ذکر کیا گیا ہے۔
خلاصہ یہ کہ   اسلام کے پاس سماجی خدمات کا ممتاز تصور  موجود ہے،جس کا  تصور اور مختلف فلاحی منصوبوں کی  رہنمائی  احادیث نبویہ میں موجود ہےاور خود حضور ﷺ اس کا عملی نمونہ اور آئیڈیل ہے۔

Comments

  1. مولانا مصطفی صاحب یہ مضمون مکمل ہے یا ادھورا ؟ مجھے لگ رہا ہے کہ شاید ادھورا ہے

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن