*بھگوائی تانڈو اور ہم:*

*بھگوائی تانڈو اور ہم:*

آزادی کے بعد سے ہنوز، وقفہ وقفہ سے انتہا پسندوں اور ملک دشمن عناصروں کی طرف سے بھڑکائے جانے والے فرقہ وارانہ فسادات نے ملک کی بین المذاہب بھائی چارگی کو بری طرح متاثر کیاہے،  اور یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کو مسلسل چوٹیں پہنچائی ہیں،  اور متشدین کی طرف سے گرمائے گئے ماحول نے ہندو مسلم کے عنوان سے، کشیدگی کو روز افزوں کیا ہے ،   اور کئی ایک اقوام کے درمیان منافرت کی  ایسی خلیج حائل کردی ہے جس نے انسانوں کو ایک دوسرے کا جانی دشمن بنادیا،
آزادی کے معًا بعد زبانوں پر حکومت کی طرف سے ستم ڈھایا گیا اور اردو مسلمانوں کی زبان ٹھہری اور ہندی و سنسکرت ہندؤوں کی زبان قرار دے دی گئی،
تہذیب و ثقافت کی ایسی طبقاتی تقسیم و تفریق نے بین المذاہب دراڑ پیدا کرنے کا کام شروع کردیا جس کا ہندوتوا افراد نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اپنی نام نہاد قومیت (ہندوراشٹر)کے متشددانہ افکار و نظریات کو برادران وطن کے خالی الذہن افراد کے دل و دماغ میں اتارنے کی مذموم کوششیں تیز تر کردیں، نتیجتا دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کی پرامن زمیں پر منحوس بھگوائی بادل منڈلانے لگے،
اور بڑی برق رفتاری کے ساتھ شدت پسند اور زہر آلود ذہنیت کے حامل افراد حکومت کے سپورٹ سے ملک میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے لگے اور آہستہ آہستہ ملک کے سماجی، معاشی و اقتصادی اور سیاسی عہدوں پر انہوں نے اپنا ایک اثر پیدا کرلیا یہی وجہ ہے کہ اکیسویں  صدی کی تقریبا 60 ویں دہائی میں جب دو فوجی افسران کے ہاتھوں ایک صندوق لگا جس میں سے ایک ایسا نقشہ برآمد ہوا جس پر پورے ہندوستان کے مسلم اکثریتی علاقہ نشان زد تھے اور مسلم قوم کی تباہی کی مکمل منصوبہ بندی کا پیغام اس میں درج تھا،
اسے کسی طرح ان دونوں جانبازوں نے اپنی جان پر کھیل کر اس وقت کے وزیر اعلی اور وزیر اعظم تک پہنچایا اور انہیں ان کی ناپاک سازشوں سے آگاہ کیا، آر ایس ایس کے عناصر ہر پارٹی اور سسٹم کی ہر برانچ میں موجود ہیں، آر ایس ایس کا عروج ستر سالوں میں ہوا اور اس دورانیہ میں کانگریس ہی برسراقتدار رہی، لیکن کانگریس میں موجود ہندوتوا عناصر نے کبھی سنگھ مخالف پالیسیوں کو آگے بڑھنے نہیں دیا لیکن، اب چونکہ کھلے شواہد منظر پر آگئے تھے اسلیے چاروناچار اس دہشت گرد تنظیم پر دوسری مرتبہ حکومت کی طرف سے پابندی لگی اور اس کے صدر گولوالکر کی گرفتاری کا وارنٹ جاری ہوا لیکن حکومت نے گولوالکر کو فقط اس بہانے سے گرفتار نہیں  کیا کہ کہیں اس سے ملک بھر میں فساد نہ بھڑک اٹھے، اور اس طرح اسے دوبارہ سے اپنی ملک مخالف سرگرمیاں انجام دینے کا موقع فراہم ہوا اس کے بعد ہی سے اس تنظیم کو یہ یقین ہوچلا کہ اب اس کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا اور ان لوگوں نے مزید تندہی سے اپنے شدت پسند نظریات کی ترویج اور اپنی آتنکی کارروائی کو آگے بڑھایا ،
پھر ہندوستان کی زمین نے خونخواری اور خونریزی پر مشتمل  ایک آتنکی دور اپنی آنکھوں سے دیکھا اور چند سالوں میں پے در پے اس تنظیم پر اس کی ملک مخالف سرگرمیوں کی بنا پر تین مرتبہ پابندی لگی لیکن اس سے پہلے دو مرتبہ حکومتی چنگل سے چھوٹنے کے بعد یہ نڈر اور بے خوف ہوچکی تھی اور کاغذی پابندیاں اب ان پر پورے طور پر غیر اثرانداز تھیں ، بلکہ اس کے بعد تو یہ مکمل طریقہ سے تمام تر شعبوں پر حاوی ہوگئے جس کا انہیں خوب فائدہ حاصل ہوا،
ایجنسیوں نے ان کے کرتوتوں پر پردہ ڈال کر بے گناہ مسلمانوں اور نرم چارہ لوگوں کو گرفتار کرنا شروع کردیا اور آنا فانا وہ سارے ثبوت ان کے خلاف اکھٹے کرلیے جس سے ان کو دہشت گرد ثابت کیا جاسکے،
اس پر مستزاد یہ کہ میڈیا ان کا ہمنوا ہوگیا اور ان کی منشا کے مطابق بلند بانگ دعووں کے ساتھ مسلمانوں کو اپنے پلیٹ فارم سے دہشت گرد ثابت کرنے لگا اور اس طرح ملک بھر کے لوگوں کو کافی حد تک یہ بات باور کرانے میں یہ کامیاب رہا کہ جتنی بھی دہشت گرد کاروائیاں ہوتی ہیں ان کے ماسٹر مائنڈز مسلمان ہی ہوتے ہیں،
اسی سبب سے اب تک ہونے والے  کئی بم دھماکوں میں بے گناہ افراد کی ایک بڑی تعداد ایجنسیوں کے ہاتھوں گرفتار کی گئی جبکہ ان دہشت گرد کاروائیوں کو انجام دینے والے ماسٹر مائینڈز کھلے سانڈ کی طرح ملک بھر میں آتنک مچاتے رہے،
لیکن اسی دوران اے ٹی ایس کے ایک جانباز افسر نے اس کیس کو اپنے ہاتھ میں لیا اور اپنے انداز میں اس کی تحقیق و تفتیش شروع کردی اور وہ بہت جلد مجرموں تک پہنچ گئے، اس بیچ بجرنگ دل، شیو سینا اور ہندو مہا سبھا کی طرف سے انہیں دھمکی بھی ملی اور انہیں اس کیس سے دستبردار ہونے کو کہا گیا لیکن اس بے باک و نڈر افسر پر اس کا معمولی سا بھی اثر نہ ہوا، اور بالآخر ان کی بہادری و دلیری نے شدت پسندوں کے ہاتھوں ان کی جان لے لی،
بم بلاسٹ کے ماسٹر مائنڈز نے اس افسر کی شہادت کے بعد چین کا سانس لیا اور حکومت نے اپنی گھنونی سیاست اور فرقہ ورانہ ذہنیت کے ذریعہ ایک ایک کرکے سب کی رہائی کا سامان کیا اور ان کے خلاف سارے دلائل کو بڑی چالاکی سے ختم کرکے اسیمانند، پرگیا ٹھاکر اور کرنل پروہت جیسے کلیدی مجرموں کو باعزت بری کردیا گیا،
*سسٹم میں گھسے ہوئے شدت پسند برہمنی عناصر نے ظالموں کے لیے راہیں ہموار کر رکھی ہیں، سسٹم کے انہی غداروں کی وجہ سے ہی ہمارا ملک جہنم کدہ بنا ہوا ہے*
جیسے کہ حال ہی میں شنبھو لال نامی سفاک ہندوتوا وادی نے ایک مسلمان کو زندہ جلادیا، اس کے بدلے میں تو اسے پھانسی ہونی چاہیے تھی، لیکن افسوس کہ، آر ایس ایس کے کیڑے ایسے مجرموں کی پذیرائی کررہےہیں،
*شمبھولال جیسے ملعون و مردود شخص کی لگام گر موقع سے کس دی جاتی اور اسے یوں بے محابا نہ چھوڑا جاتا گو شاید ادے پور میں ننگی تلواریں اور بے ہودہ نعروں کا واقعہ نہ ہوتا،*
*اور کاسگنج کے لیے ہندوتوا عناصر کے عزائم اس قدر مضبوط نہ ہوتے اور شاید  ہندوستان کی ریاست بہار کی بَہار پر کوئی حرف نہ آتا،*
*اور رام نومی کے نام پر ملک دشمن عناصر کی طرف سے فرقہ وارانہ فسادات کو بھڑ کاکر تانڈو نہ مچایا جاتا*
لیکن افسوس کہ ہر پہلے واقعہ پر حکومت کی چشم پوشی نے دوسرے خونی واقعہ کو جنم دیا اور وہ سب ہوا اور وہ کچھ ہورہا ہے جسے حیوانیت و بربریت سے تعبیر کیا جاسکتا ہے،
یاد رکھیں یہ سب ایک دن میں نہیں ہوا ہے، آر ایس ایس کو یہ پیادے اور دہشتگرد گروہ ۳ یا چار سال میں نہیں ملا ہے، یہ سیاست کی جنگ نہیں ہے، یہ نظریاتی بالادستی کا شدت پسندانہ رخ ہے جو مختلف صورتوں میں اس ملک میں ۲ ہزار سال سے جاری ہے، یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ڈراوڈ قوم کا استحصال کیا، اصل بھارتی قوم کو آریاؤں کے ہاتھوں مروایا، پھر انہیں غلام بنایا، پروہت اور پجاری بن کر علاقائي ہندوستانیوں کو شودر قرار دیا، تو کبھی داس بنایا، ان کی حیثیت ٹھوکروں سے بدتر بتائی گئی اور انہیں کیڑے مکوڑے کی طرح پیسا گیا، یہ مجرم قوم برہمن ہے، اس کا عزم اس کا قبلہ و کعبہ صرف گروہی بالادستی ہے، اور اسی لیے یہ کھیل رچاتی رہتی ہے، اسوقت برہمنوں نے شودروں کو ہندو بناکر اپنی نظریاتی جنگ کا پیاده بنا رکھا ہے، اور ان کی اموال و املاک جھونک کر اپنا تحفظ کررہےہیں، ائے کاش ہم یہ سچائی برادران وطن تک پہنچاتے! تو آزادی کے بعد سے اب تک ہماری قوم ہندوراشٹر کے تخیلاتی قلعہ پر قربان ہونے سے بچ سکتی تھی،
 آزادی کے بعد سے اب تک کی تباہی کا  منظر نامہ، کیا  یہ سوال پیدا نہیں کرتا ہے کہ ہم نے من حیث المجموع اس دوران کیا کیا؟؟؟
کیا آزادی کے بعد سے اب تک کہیں کوئی اقدامی عمل ہمارے طرف سے بھی کیا گیا یا نہیں؟؟؟
اقدام سے صرف نظر،کیا کہیں کوئی ٹھوس دفاعی کارروائی جس کا کچھ اثر حکومت پر ہوا ہو ہماری طرف سے ہوئی ہے؟؟؟
آخر اس کا ذمہ دار ہم کسے  ٹھہرائیں؟؟؟
کیا یہ ہمارے رہبر و رہنماء نہیں سمجھے جاتے؟؟؟ اور ان کی تنظیمیں اور جماعتیں ہماری نمائندگی نہیں کرتیں؟؟؟
تو پھر اس طرح کے سنگین حالات میں بھی کوئی مضبوط اور ٹھوس اقدام کیوں نہیں کیا جاتا؟؟؟
ہم نیتوں پر کلام ہرگز نہیں کرسکتے اور ایسا کرنا یقینًا عاقبت نااندیشی ہی ہوگی، لیکن ستر سالوں میں کیا کھویا؟ کیا پایا؟ پر سوال ضرور ہوگا،
سیاسی ناکامی کے لیے سیاستدان ذمہ دار ہوسکتےہیں، معاشی بدحالی کے لیے ماہرین معاشیات ذمہ دار ٹھہرائے جاسکتے ہیں، اسی طرح ہر میدان میں ناکامی یا نقص پر متعلقہ ذمہ داروں کی گرفت ہوسکتی ہے، تو ملی زبوں حالی کے لئے اس سے متعلقہ افراد سے پوچھ گچھ کیوں نہیں ہوسکتی؟
کیا فقط مذمتی بیانات جاری کرنا، جلسوں کا انعقاد عمل میں لانا اور احتجاجی مظاہروں کا ملک بھر میں کیا جانا پیش آمدہ سنگین حالات سے نبرد آزمائی کے لیے کافی ہیں؟؟؟
طویل المدت اہداف پر مشتمل کوئی روڈمیپ اور وسائل کی فراہمی کے ساتھ ہم مستقل مزاج کیوں نہیں ہوتے؟
ستر سالہ رسمی تجربات نے ثابت کردیا کہ صرف یہ سب کافی نہیں بلکہ ضروری بھی نہیں تو اس کا اب بھی، اسقدر اہتمام چہ معنی دارد؟؟؟
*ایسے ناگفتہ بہ اور پرآشوب حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ مختلف اور متنوع قیادتیں سب سے پہلے تو یکجا ہوا، اور پھر اپنے اندر اقدامی اسپرٹ پیدا کریں، مستقل مزاجی اور موجود وسائل کی فراہمی کے ساتھ اب زمین پر پسینہ بہانے کی ضرورت ہے، اور اس سوہنی دھرتی کے بارے میں اپنی سرد مہری کے رویہ میں تبدیلی لائیں وگرنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہندوستانی حالات کچھ ایسا رخ اختیار کرلیں کہ جس کے بعد سدھار کی غرض سے کی جانے والی بے شمار اور تھکا دینے والی کوششیں بھی بے سود ثابت ہوں۔*

 *نسیم خان: ممبئی*
*کاروانِ امن و انصاف*

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

مولانا عبداللہ کاپودروی کی مختصر سوانح