*بہار فرقہ واریت کی زد میں*


  *بہار فرقہ واریت کی زد میں*

محمد صابر حسین ندوی 🖋️
      *ہندوستان گنگا جمنی تہذیب کی مثال اور یکجہتی کی خو بصورت آئینہ دار ہے؛لیکن چند دہائیوں سے اس کی خوشنما تہذیب فرقہ واریت کی زد میں ہے،شر پسند عناصر مذہب و طبقاتی بنیادوں پر عوام کی معصومیت سے کھلواڑ کرنے اور انہیں زندگی کی نئی نئی دشواریوں میں مبتلا کر کے اقتدار و زمام حکومت پر قابض رہنے کی ناپاک سازشیں کر رہے ہیں،بالخصوص زعفرانیت کے عروج اور ہندوازم یا ہندو احیائیت کے جن نے بوتل سے نکل کر ؛گویا پوری انسانیت کو نگل لینے اور ہندوستان کی عظمت رفتہ پر بد نما داغ لگادینے کے درپے ہے،آئے دن باہمی اشتعال انگیزی اور شر انگیزی کی خبریں گردش کرتی رہتی ہیں،معمولی معمولی باتوں کو نشانہ بنا کر ایک ہیبت ناک ہیولہ کھڑا کردینا اور معاندانہ کارروائی پر آمادہ یوجانا؛عام بات ہوگئی ہے،انہیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے؛ جیسے کوئی صدیوں کا زخم خوردہ جذبہ انتقام میں اپنے زخم تازہ کئے ہوئے ہو اور کسی بھی پل اس کا انتقام لینے کے گھات میں لگا ہوا ہو،اور کسی بھی طرح مد مقابل کو چور چور کردینے پر بضد ہو۔*
     دراصل اس کی حقیقت اس وقت مزید منقح ہو کر سامنے آئی،جب کہ بہار کے ایک گاؤں روسڑا کے گدری بازار کے پاس گزرتی ماتا (یہ یندووں کے ایک خاص "نومی" کا واقعہ ہے)کی مورتی کے دوران کسی مجنون و بد معاش نے چپل پھینک دی،جس کا ملزم ایک مسلم بتلا یا جاتا ہے، اور پھر دوسرے دن اس کا بدلہ لینے کیلئے پوری ہندو قوم جمع ہوگئی،غیض و غضب کا یہ عالم تھا؛کہ انہوں نے مسجد کی بے حرمتی کی ،قرآن کریم اور دیگر کتب دینیہ کو نزر آتش کردیا،بھگوا جھنڈے کو مسجد کی بلندی پر لہرایا گیا اور مدرسہ ضیاء العلوم (شاخ ندوةا لعلماء، لکھنوء) کے ساتھ بد سلوکی کی گئی،حالات نے اتنی سنگینی اختیار کرلی ؛کہ دفعہ ۱۶۶ لگانی پڑی،جس کی رو سے کہیں پر بھی چار اشخاص بیک وقت جمع نہیں ہوسکتے ہیں،خوف وہراس کا ماحول گرم ہے،ہر لمحہ کسی طوفان کا اندیشہ رہتا ہے،اور یہ خدشہ لگا رہتا ہے؛ کہ کہیں وہ بھی اورنگ آباد،بھاگلپور یا دوسری قدم تاریخ نہ دوہرادے،اور یہ خود تاریخ کا ایک سیاہ باب نہ بن جائے۔!
      *واقعہ یہ ہے کہ ہندو مسلم تیوہار اور اس کی مختلف روایات ورسم کا انعقاد ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے،جس میں کبھی کسی مذہبی امور کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی روایت نہیں رہی ہے،قدیم زمانوں میں تو اس کی مثال شاذ کے مانند ہے،آزادی ہند کے بعد اگرچہ یہ دور شروع ہوتا ہے؛ لیکن خاص طور پر آر، ایس،ایس کے عروج اور اسی کے سیاسی جماعت (بی جے پی) کی برتری نے اسے بہت زیادہ ہوا دی ہے،بہار میں نتیش کمار اور لا لو یادو کی متفقہ حکومت تھی اور اسی بنیاد پر گزشتہ انتخابات میں کامیابی بھی ملی تھی؛ لیکن "چلو ہو ادھر کو ہوا کا رخ ہو جدھر کو" کی تعبیر جناب نتیش کمار نے پیش کی، اور پھر دوران اقتدار ہی بی جے پی کا ساتھ اختیار کرلیا، ایسے میں کیونکر بہار کی فضا گرد آلود نہ ہوتی؛چنانچہ زعفرانیت نے رنگ دکھایا اور پورے بہار کو فرقہ واریت کی بھٹی میں جھونک دیا،ضرورت اس بات کی ہے کہ احتساب و احساس سے کام لیا جائے اور ان سیاسی جماعتوں کے خلاف بیداری پیدا کی جائے اور مستقبل کیلئے مناسب لائحہ عمل تیار کیا جائے*۔

    ✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392
30/03/2018

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن