محمد رسول اللہ ﷺ کا اسلام یا سعودی ولیِ عہد: محمد بن سلمان کا 'اسلام'؟
*محمد رسول اللہ ﷺ کا اسلام یا سعودی ولیِ عہد: محمد بن سلمان کا 'اسلام'؟*
ارشاد خداوندی ہے: "اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ یہ خود ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور تم میں سے جو ان میں سے کسی کو اپنا دوست بنائے گا، وہ انھی میں سے ہے۔ بلاشبہ اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتے"۔
آج کل 'معتدل' اسلام اور شدت پسند اور سخت گیر اسلام کو لے کر بحث گرم ہے؛ جیسے اسلام محض ایک انسانی فلسفہ ہو، جو غلط ہو اور اس میں درستگی کا بھی احتمال ہو یا درست ہو؛ مگر ساتھ ہی خرابی اور غلطی کا اندیشہ ہو۔
اس بحث میں مسلمان، عیسائی، یہودی، ہندو، سیکولر، لبرل، کمیونسٹ، علماء و ملحد: سبھی شریک ہیں۔۔
یہ بحث کوئی ایسی نئی بھی نہیں ہے، جس کی نظیر، فکری نقطہ ہائے نگاہ سے پُر اسلامی تاریخ میں نہ ملتی ہو؛ صحابۂ کرامؓ کے دور سے ہی فکرِ اسلامی میں اختلاف پیدا ہونے شروع ہوگئے تھے، جب مسلمانوں ہی میں کی ایک جماعت دو جلیل القدر صحابہ: حضرت علیؓ بن ابی طالب اور حضرتِ معاویہ بن ابی سفیانؓ کے خلاف کھڑی ہو گئی تھی؛ مگر اس بار کی بحث اگلے اختلافات سے اس طور پر الگ ہے کہ اس بار اس بحث کی سرپرستی ایک ایسا عربی ملک (سعودی عرب) کر رہا ہے، جو اسلام کا واجب الاطاعت مرکز اور مسلمانوں کے لیے اور دیگر تمام مسلم ممالک کے لیے قابلِ تقلید نمونہ سمجھا جاتا رہا ہے۔
کبھی اسلام کے مبادیات اور بنیادی عقائد پر حیرت انگیز مضبوطی اور ثابت قدمی کے لیے مشہور سعودی معاشرے میں 'پرتشدد' اور 'سخت گیر' اسلام کی جگہ 'معتدل' اور 'لبرل' اسلام کو متعارف کرانے کے لیے سعودی عرب کے کردار کی میڈیا و ذرائع ابلاغ کی جانب سے ان دنوں تعریف و توصیف کی مسلسل کی جا رہی کوششیں زوروں پر ہیں۔
کچھ بھی ہو، دشمنانِ اسلام پوری انسانی فکر پر اپنی گرفت قائم کرنے کی کوشش کرنے والے اور پورے سیاسی نظام پر بالادستی قائم کرنے کے لیے سرگرمِ عمل "حقیقی" اسلام اور اس "لبرل" اور "معتدل" اسلام کے درمیان فرق پیدا کر رہے ہیں، جو ایک فرد کی زندگی سے نکل کر ایک سماج کی عمومی زندگی پر بھی اپنا کوئی اثر نہیں چھوڑتا۔۔۔ جسے سیاست سے کوئی مس نہیں، تہذیب و ثقافت اور عملی نظریات سے کوئی سروکار نہیں۔
سعودی ولیِ عہد: محمد بن سلمان جا بہ جا کہتے پھرتے ہیں کہ وہ سعودی عرب کو ایک ایسے دور میں لے جائیں گے، جب سعودی عرب کے اندر پیچیدہ اور سخت گیر اسلام کے لیے کوئی جگہ نہ ہوگی۔۔۔ صرف معتدل اور لبرل اسلام ہوگا۔۔۔ ایسا لگتا ہے، گویا اسلام کی مبادیات اور اس کی بنیادوں کے حقیقی بانی وہی ہیں!
یہ اور ان ایسے لوگ، جن کی عالمِ اسلام اور عالمِ عربی میں کوئی کمی نہیں، اس طرح کی سوچ یہود و نصارٰی سے درآمد کرتے ہیں، جن کے خود کے پاس کوئی ایسا مذہب نہیں، جو انسانیت کی درست خطوط پر رہنمائی کر سکے اور داخلی سیاست و خارجی حکمتِ عملی کے لیے مناسب اور پائیدار بنیاد وضع کر سکے۔
شاید یہ نام نہاد "معتدل" اسلام وہی ہے، جو انھیں سنیما گھر قائم کرنے اور اپنی سرزمین پر دیگر مذاہب کی عبادت گاہیں تعمیر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اور "شدت پسند" اسلام وہی ہے جو انھیں ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی فلمیں رِلیز کرنے کی اجازت نہیں دیتا!!
اے دہریت نوازو! ڈوب مرو! جلد ہی تمھیں سخت ترین ذلت و رسوائی کا مزہ چکھنا پڑے گا ان شاءاللہ؛ کیوں کہ اسلام تو وہ ایک ہی اسلام ہے، جسے ہمارے آقا و مولا: جناب محمد رسول اللہ ﷺ لے کر مبعوث ہوے۔ اب جس نے اسے چھوڑ کر دوسری راہ اختیار کی تو اس کے قبول ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ آخرت میں حقیقی ناکام لوگوں میں سے ہوں گے!
❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀
✍ *استاذِمحترم: مولانا نصیرالدین صاحب قاسمی دامت برکاتہم*
استاذ شعبۂ عربی ادب: مدرسہ خادم الاسلام بھاکری
ترجمہ: نیک محمد 9001835816
Millatmedia.com
Comments
Post a Comment