فتنوں کی بارش
ابُــو تَــحِــيَّـــه:
فتنوں کی بارش
مائنڈ کنٹرول کے لئے ٹی وی کا استعمال اب ایک سائنس بن چکی ہے اور ٹی وی ایک نہایت طاقتور آلے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے. اس کے شعوری اثرات پر لوگ اکثر لکھتے ہیں مگر غیر شعوری یا لا شعوری اثرات پر ہمارے یہاں بہت کم لکھا گیا ہے حالانکہ اس پر مغرب میں نہایت عمدہ تحقیق ہو رہی ہے. نت نئے طریقے استعمال ہو رہے ہیں. بہت زیادہ تجربات (مجرمانہ یا غیر مجرمانہ ) ہو چکے ہیں.
ہم سب یہ جانتے ہیں کہ انڈین ڈرامے کی prime audience انڈین نہیں ہیں یا بہتر طور پر آپ یوں کہ سکتے ہیں کہ انڈین ڈرامے انڈین کلچر کو بڑھاوا دینے کی نیت سے بنائے جاتے ہیں. ایک خاص قسم کا گیٹ اپ ، لباس ، منگل سوتر، سیندور، ساڑھی اور اسکے ساتھ ساتھ characterization جس میں ایک بھرا پرا خاندان جس میں ساس بہویں ، نندیں ،دیورانیاں ، جیٹھنیاں، بہت سارے کزنز اور تین نسلیں ایک ساتھ رہ رہے ہوں، کی جاتی ہے. یہ انڈیا کہ شہری علاقوں کا کلچر نہیں ہے بلکہ زیادہ مناسب ہوگا اگر ہم یہ کہیں کہ آج کل کی دنیا میں یہ کسی بھی شہر کا کلچر نہیں. اس کا مقصد سواۓ ایک خاص قسم کے پروپگنڈے اور ایک مخصوص قسم کے متوسط طبقے کے ذہن کی توجہ کھینچنے کے اور کچھ نہیں …اور ہمارا مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ وہ اس میں بہت کامیاب ہیں. انڈین ڈرامے نے پاکستان کے متوسط طبقے کی عورتوں اور مردوں کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے. ٥٠٠٠ کروڑ کی مالک ہونے کے باوجود میڈم ہر وقت ایک typical ہندوستانی گیٹ اپ میں رہتی ہیں . کچن میں کھانا بنا رہی ہوتی ہیں اور دروازہ بھی خود ہی جا کر کھولتی ہیں.وجہ صرف یہی ہے کہ متوسط طبقہ کی ناظر خواتین کہیں اسکے مغربی اسٹائل گیٹ اپ کی وجہ سے ذہنی طور پر اس کردار کو مسترد نہ کردے یا یوں کہئے کہ محض ڈرامہ سمجھ کر دیکھتی نہ رہے. آپ شعوری طور پر چاہے کتنا ہی اس ڈرامہ کا ادراک کریں مگر آپکا لاشعور، کردار سے اپنی مماثلت ڈھونڈھ لیتا ہے اور اس کردار کو یوں کہیں کہ گود لے لیتا ہے. یہی وجہ ہے کہ چاہے آپ کہیں بھی ہوں اور کچھ بھی کر رہے ہوں جب ڈرامہ کا ٹائم آتا ہے تو آپ پر بیچینی طاری ہوجاتی ہے اور وقت مقرر پر آپ ٹی وی کے آگے آجاتے ہیں. سونے پہ سہاگہ کہانی کی قلابازیاں آپ کو اپنی گرفت میں رکھتی ہیں. ہر ٥٠ اقساط کے بعد کہانی ایک نیا ٹرن لیتی ہے . گرہستن عورت مافیا باس بن جاتی ہے، مرے ہوے لوگ زندہ ہو کر آجاتے ہیں ، چولھا ہندی کرنے والی عورت جیل پہنچ جاتی ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا ہے جب تک کہ حقیقی زندگی میں بہویں خود ساس نہیں بن جاتیں.
پھر ڈرامہ سے کچھ پیغامات مستقل ملتے رہتے ہیں یعنی کہ تمہاری ماں تمہاری دشمن اور تمہاری بیوی یا محبوبہ تمہاری سب سے زیادہ خیر خواہ . بھائی جائیداد کی وجہ سے دشمن اور دوست تمہارا ہمدرد ، خونی رشتوں میں چالبازیاں وغیرہ اسکے ساتھہ ساتھہ ہر دوسرے تیسرے سین میں پوجا ، ہندو تہواروں کی بےوجہ اور ضرورت سے زیادہ تشہیر اور پروموشن.
(حالانکہ ہمارے یہاں اس کے بر عکس ہے ..ہمارے یہاں داڑھی والا ، نمازی اور دیندار قابل مذمت ہے . اور ہر وہ لڑکی جو مشرقی روایت اور معاشرتی پہ بندیوں کی باغی ہے وہ دراصل ایک حقیقی ہیروئن ہے.( جیو ، ہم اور انڈس ٹی وی اس کام میں سب سے آگے ہیں)
اس نفسیاتی اور تہذیبی بمبارٹمنٹ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ کم از کم آپکو اپنے دین، تہذیب اور معاشرتی روایات سے disoriented ضرور کردیتی ہے. نا پختہ اذہان پر اس چیز کا اثر بہت تباہ کن نکل سکتا ہے. اس کے اثرات یقینی اور دیکھے جاسکتے ہیں. منگل سوتر ، ماتھے پر بندیا اور مانگ میں سیندور اب کہیں کہیں نظر آجاتا ہے. زبان پر اس کے اثرات بہت نمایاں ہیں. بلے باز(بیٹسمین ) ، لینا دینا (تعلق)، چرچا (بحث) اور ان جیسے کی الفاظ ہمارے یہاں کی مخصوص اردو میں آچکے ہیں. (یہاں موضوع زبان کا ارتقا نہیں بلکہ ٹی وی کے اثرات ہیں )….نفسیاتی طور پر اس کے بارے بھیانک نتائج نکلتے ہیں. یہ نا پختہ ذہن کے حقیقت اور فینٹسی میں فرق کرنے کی صلاحیت کو ختم کر دیتا ہے. یہ عدم توازن معاشرتی امراض کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے.طلاق اور جرائم کی شرح میں بے تحاشا اضافہ اس کا بنیادی نتیجہ ہے . حالیہ کچھ سالوں میں جرائم نے ایک وبائی مرض کی صورت لے لی ہے اور دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ وہ لوگ جرائم میں ملوث ہو رہے ہیں جو کہ قطعی طور پر مجرمانہ ذہن یا مجرمانہ نفسیات کے حامل نہیں ہیں. طلاق کی شرح میں خطرناک اضافے کی وجہ بھی بنیادی طور پر ایک خیالی اور ڈرامہ کی دنیا کا لائف اسٹائل ہے جہاں ایک امیر اور ہینڈسم لڑکا ، لڑکی سے شدید محبت کرتا ہے. اس یوٹوپیا میں کسی بھی چیز کی کوئی کمی نہیں. یہ خیالی دنیا جب حقیقت میں نہیں ملتی تو یقینی طور پرتلخیوں اور ناراضگیوں کو جنم دیتی ہے جس کا انجام جرائم یا طلاق کی صورت میں نکلتا ہے. اگر آپ کا کسی ایسے وکیل سے ملاقات ہو جو کہ طلاق کے مقدمات لڑتا ہو تو آپ خود اسکی وجہ اس وکیل سے معلوم کر سکتے ہیں. آپ غور کریں تو میڈیا درحقیقت
Comments
Post a Comment