ترک فلم انڈسٹری پر اسلامی غلبہ

*ترک فلم انڈسٹری پر اسلامی غلبہ*
  _اسماعیل کرخی_

*ترکی میں سیکڑوں ڈارمے بنے جن میں ترکی کی اسلامی ثقافت کو بری طرح مسخ کیا گیا، اور مرد و خواتین کو یورپی تہذیب کے تئیں ہمدرد بنانے کی کوشش کی گئی، اور حیرت انگیز طور پر ان بیہودہ فلموں اور ڈراموں کی دنیا بھر میں پزیرائی ہوئی*

گزشتہ صدی میں بہت سے عالمی نامہ نگاروں  نے یہ بات لکھی تھی کہ اکیسویں صدی مسلمانوں کے عروج کی صدی ہوگی، اور اس بات کا اندازہ مصر کی اخوان المسلمین اور فلسطین کی انفاضائی و انقلابی تحریکوں کے جوش و خروش ترکی میں نجم الدین اربکان کی رفاہ نامی سیاسی تحریک کے غلبہ اور سعودی عرب میں شاہ فیصل اور پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کے اقدامات سے  لگایا گیا تھا، مزید افغانی مسلمانوں کے ہاتھوں  سویت یونین کی بربادی اور عراق کی سیاسی تبدیلیوں کو عالمِ اسلام کے تئیں بطور نیک فال دیکھا گیا، لیکن اکیسویں صدی کی ابتداء ہی مسلمانوں کے تمام حوصلوں کو توڑتے ہوئے ہوئی اور عالمِ اسلام ایک مرتبہ پھر نااُمیدی کے دلدل میں ڈوب گیا، ایسے میں برِ اعظم ایشیاء کے دور کنارے اور یورپ کی سرحدوں سے جڑے ہوے خطہ میں کچھ تبدیلیاں رونما ہونی شروع ہوئیں، اور برسوں سے ہورہی خاموش محنت کا ثمرہ منظرِ عام پر آیا، ترک مسلمانوں کی کوششیں رنگ لائیں اور اُنکی حکمتِ عملی کام کرگئی، وہ حکمتِ عملی بے نام اسلام کی اسلامی تبلیغ و تربیت تھی، یعنی ایک ایسی اسلامی محنت جس میں سرے سے اسلام کا نام ہی نہیں لیا گیا،. اور اس کامیاب حکمتِ عملی کا سہرا رجب طیب اردغان اور عبد اللہ گل کی نئی سیاسی پارٹی جسے انصاف و ترقی کا نام دیا گیا کے سر جاتا ہے، اس جماعت نے انصاف و ترقی کو ہی اپنا نعرہ اور مقصد بنایا اور بڑی تیزی سے اپنے تمام وعدے پورے کئے، نتیجتاً ترکی دنیا کا ایک ترقی یافتہ ملک بن گیا اور معاشی اعتبار سے دنیا کی مضبوط ترین ریاست کی شکل میں ابھر کر سامنے آیا، بری، بحری اور فضائی اسفار کو آسان، سستا اور خوشگوار بنانے میں عالمی طور پر جگہ حاصل کی، عسکری اعتبار سے دنیا کی آٹھویں بڑی طاقت بن گیا.، سائنسی تجربات، الیکٹرونک ایجادات، علاج و معالجہ، اور سیر و سیاحت کے اعتبار سے دنیا بھر میں مشہور ہوگیا، اس کا فطری رد عمل دو طرح سے سامنے آیا ایک یہ کہ اُن کے غیر جانبدار مخالفین جو محض اُنہیں اسلام پسند سمجھ کر ناپسند کرتے تھے اور جانب دار مخالف عوام جو بہر صورت نجم الدین اربکان کے شاگرد رجب اردغان اور انکی پارٹی کی مخالفت کرتے تھے، انکے حامی ہوگئے اور اپنے تمام اختلافات کو بھلا کر انکی پارٹی کے مؤید ہوگئے دوسری طرف طاغوتی اشاروں پر کام کرنے والے اور ترکی میں اسلامیت کو ذبح کرنے والے بھی کھل کر سامنے آگئے، جنہیں بڑی حکمت سے کچلنے کا کام کیا گیا، ۲۰۱۲ کے بعد سے ہی اس پر بڑی تیزی سے کام شروع ہوا، دشمن طاقتوں کے اشاروں پر چلنے والے ججوں کو موقع موقع سے معطل کیا گیا، کرپٹ پولیس افسروں کی گرفت کی گئی، دشمن سرکاری عناصر اور گھس پیٹیوں کو اُنہیں کی بدکرداری کے سبب معزول کیا گیا، اُن تمام اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی فہرست تیار کرلی گئی جو ترک نوجوانوں کے ذہنوں کو گندہ کرنے کا کام انجام دیتے تھے پھر بتدریج اُنکا مواخذہ ہوا، اور اس طرح کے بے شمار اقدامات کے ذریعہ ملک کی تطہیر کا کام انجام دیا جاتا رہا جو ہنوز جاری ہے،. اس سلسلہ کی سب سے اہم کڑی ۱۵ جولائی کی ناکام بغاوت کی کامیاب سرکوبی تھی، جس کے بعد میڈیا سے لیکر ہر طاغوتی سیلز کا پیچھا کیا گیا،..
اس کے بعد ترکی کا ایک آزاد پلیٹ فارم فلم انڈسٹری کا تھا، جس پر اسلام دشمن عناصر کا قبضہ تھا اور اب بھی ہے اور یہ ہر پیلٹ فارم اور ہر طریقہء کار سے زیادہ خطرناک اور مؤثر ہے، اسی دوران ترکی میں سیکڑوں ڈارمے بنے جن میں ترکی کی اسلامی ثقافت کو بری طرح مسخ کیا گیا، مرد و خواتین کو یورپی تہذیب کے تئیں ہمدرد بنانے کی بھر پور کوشش کی گئی، اور حیرت انگیز طور پر ان بیہودہ فلموں اور ڈراموں کی دنیا بھر میں پزیرائی ہوئی، خود پاکستان جسے ترکی کی دوستی کا دعوی ہے میں دسیوں ترکش ڈرامے ڈب کئے گئے، ترکش پارلیمینٹ کے اختیارات بڑے محدود ہیں اس لئے اس طرح کے ڈراموں اور فلموں پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی، چنانچہ نام نہاد جبری سیکولرازم کی آڑ لیکر مسلمانوں خصوصاً نوجوانوں میں بڑھتی اسلام پسندی کے خلاف اس طرح کی اسلام مخالف سرگرمیاں بھی ترکی میں بڑی تیزی سے ہونے لگیں، لہذا ان تمام بدعنوانیوں اور انسانیت سوز جرائم پر مکمل پابندی اور دستور کی تمام خرابیوں کو پاک کرنے کے لئے آق پارٹی نے ناکام بغاوت کے بعد ریفرینڈم کروا دیا جس میں آق پارٹی ۵۱ فیصد سے زائد ووٹ سے کامیاب ہوئی اور ۲۰۱۹ کے الیکشن کے بعد ترکی میں صدر کے اختیارات کو وسعت ملے گی جس سے دستور میں ترمیم کی جاسکے گی، فی الوقت ترکی میں جتنی بھی اسلام مخالف سرگرمیاں ہورہی ہیں اُن پر رجب طیب اردغان اور انکے رفقاء سخت تنقید کرتے ہیں،.

اس وقت ترکش ڈرامے مشرقی ممالک میں بڑی تیزی سے مقبول ہورہے ہیں یا کرواے جارہے ہیں، اور مشرقی عوام اُنہیں ترکی کی محبت میں بڑے ذوق و شوق سے دیکھتے بھی ہیں، ابھی چند سالوں میں کچھ بیہودہ ترین ڈرامے حیرت انگیز طور پر مقبول ہوئے جن میں *معصوم دلہن، چھوٹی سی قیامت، میرا سلطان، کالا پیسہ، عشقِ ممنوع، فریحہ، انتقام، ایک حسینہ ایک دیوانہ اور پیار لفظوں میں کہاں شامل ہیں،* یہ سلسلہ ۲۰۱۲ سے   شروع ہوا اور اب تک جالیس سے زائد ترکش ڈرامے عالمی پیمانے پر نشر کئے جاچکے ہیں، اور ان کی اشاعت میں پاکستان سرِ فہرست ہے،.
ان ڈارموں میں ترکی کی قدیم ثقافت جس پر عرصہ دراز تک پابندی عائد تھی اُس کا کہیں ذکر نہیں، اُسی واہیات قسم کی تہذیب جسے ترک عوام پر جبراً تھوپا گیا تھا کا غلبہ اور اُسی کافرانہ طرزِ زندگی کی عکاسی کی گئی ہے جسکا سرے سے مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں، ان ڈراموں میں جس طرح بے شرمی و بے حیائی کے مناظر دکھاے گئے ہیں اور انہیں جرأت مندی کے ساتھ فروغ دیا گیا ہے وہ ناقابلِ برداشت ہے، بعض ڈارموں میں تو مقدس رشتوں کے درمیان ناجائز تعلقات کا جذبہ بڑی آن بان سے دکھایا گیا ہے، یہ تصور عام کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ نکاح سے پہلے حمل ٹھہرنے میں کوئی قباحت نہیں جبکہ شرم و حیا، تہذیب و ثقافت اور حدود و اقدار کے بڑی بیدردی کے ساتھ پرخچے اُڑاے گئے ہیں. افسوس اس بات کا ہے کہ ترکی حکومت اپنے محدود اختیارات کے سبب ان ڈراموں کو بند نہیں کرسکتی اسی لئے رجب اردغان اور اُنکی پارٹی کے متعدد رہنما وقتاً فوقتاً اس پر سخت نکتہ چینی کرتے رہتے ہیں، لیکن اس ناثور کا مقابلہ کرنے کے لئے اسلام پسندوں نے اسلامی ڈاکومنیٹری فلموں کا سہارا لیا، جس کے خوش کن نتائج سامنے آئے، ابھی گزشتہ سے پیوستہ سال بھی کئی اسلامی تاریخ پر مبنی فلمیں اور ڈرامے بنائے گئے،  پایہء تخت، یونس ایمرے، ناکام بغاوت اور آپریش شاخ زیتون جیسے ڈرامے نشر کئے گئے، اور اس طرح کے دسیوں ڈرامے بناے گئے جن میں ترکی میں اسلام پسندوں کی کوششوں دشمن کی سازشوں کو نشر کیا گیا مزید نوجوان طبقے کے ذہنوں سے  اسلامی عقائد و اعمال تہذیب و ثقافت اور خلافتِ اسلامیہ کے سلسلہ میں غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی کامیاب کوششیں کی گئیں، ایسی متعدد فلمیں اور ڈرامے بناے گئے جن میں یہودیوں کے مظالم اور اُنکی فطرتِ خبیثہ کو واضح کیا گیا، اسی لئے صدر رجب اردغان اپنے عوامی خطبات میں نوجوانانِ ترک کو اس طرح کی اصلاحی تاریخی ڈاکومینڑی فلمیں اور ڈرامے دیکھنے کے مشورے دیا کرتے ہیں،.
یاد رہے ترکی میں آج بھی رجب طیب اردغان کو ووٹ دینے والے تمام لوگ اسلام پسند نہیں ہیں، لیکن وہ کلی طور پر اردغان کے مخالف بھی نہیں ہیں، ووٹ دینے والوں کی اچھی خاصی تعداد اس بات پر یقینی رکھتی ہے کہ مادی ترقی ہی اصل کامیابی لہذا وہ اردغان کو ووٹ دیتے ہیں کہ اردغان کی پارٹی ترکی کو مادی اعتبار سے مضبوط سے مضبوط تر کر رہی ہے، البتہ نئی نسل اردغان سے بے انتہاء متأثر ہے مزید یہ کہ اسلام پسند طبقے کی تعداد میں تیزی سے اضافہ بھی ہورہا ہے جنکی تعداد اب ۵۱ فیصد سے کہیں زیادہ ہوچکی ہے، بقیہ نیوٹرل اور متذبذبین حضرات بھی اردغان ہی کو مسیحا سمجھنے پر مجبور ہیں،. چونکہ اُنہوں نے اس سے قبل بہت سے تلخ تجربات کئے ہیں.
ترکی صدر رجب طیب اردغان اور اُنکے رفقاء کسی ایک میدان کو بھی سرسری طور پر نہیں لیتے، بلکہ اسلام مخالف ہونے والی ہر کاروائی اور کوشش کا پیچھا کرتے ہیں اسی لئے اب ان کا ہدف ترکش فلم انڈسٹری کے سلیبرٹیز ہیں، چنانچہ گزشتہ ہفتہ صدر اردغان نے ترکی کے تمام مشہور و معروف اداکاروں اور اداکاراؤں کی ہمراہی میں شامی سرحد کا سفر کیا، اور اُنکے سامنے شام کے موجوہ حالات اور وہاں پر جاری قتلِ عام کا تذکرہ کرتے ہوئے ترکی کی ذمہ داریوں کو بیان کیا، جس پر مصطفے کمال پاشا کی سیاسی پارٹی کے رہنما نے سخت تنقید کی، جس کے جواب میں رجب اردغان نے کہا کہ ان شاء اللہ ہم سب مل کر ۲۰۱۹ کے الیکشن میں مصطفے کمال کی تحریک کا خاتمہ کردیں گے،..
ان تمام حالات کو دیکھ کر عالمی پیمانے پر اُمید کی جارہی ہے کہ اگلے الیکشن میں رجب اردغان ان تمام بے ہودہ یونٹس کا خاتمہ کر دیں گے جو ترکی میں اسلام و اسلامی تہذیب کے نفاذ کی راہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کھڑی کرتی ہیں اور اگر حالات ساز گار رہے تو دستور میں بھی مناسب ترمیم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے..
*اسماعیل کرخی ندوی*

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

مولانا عبداللہ کاپودروی کی مختصر سوانح