صلیبی اور صہیونی جنگ اب بھی جاری ہے
🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺
*صلیبی اور صہیونی جنگ اب بھی جاری ہے*
*اسلام دو چند عبادات و وظوائف کا نام نہیں؛ بلکہ یہ ایک مکمل نظام حیات اور تہذیب وثقافت ہے،اس کے اندر خدائے وحدہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود( خواہ ظاہری ہو یا باطنی،جلی ہو یا خفی) کی ادنی جھلک بھی گوارا نہیں، اس کے سامنے دنیا کے شاہ و سلطان کی کوئی حیثیت نہیں، مال ودولت کی ریل پیل اور دنیاوی خزانوں کی چمک دھمک بے معنی ہے،طاقت وقوت اور قادر مطلق کہلانے کا حق صرف اسی کی ذات کو ہے،اس کے مد مقابل کسی انسانی نظام و سسٹم اور خود ساختہ معاشرتی ڈھانچہ بے کار وبے بودہ یے،اسلام کی یہی وہ خاصیت ہے جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی اور اہنے محبوب وطن کی جدائیگی،خانہ کعبہ کی محبت اور آباء و اجداد سے دوری اور غریب الوطنی کو برداشت کیا،باوجود اس کے کہ اہل مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا سردار بنانے،اور اپنے دین پر آزادانہ عمل کرنے کی اجازت دیدی تھی،کعبہ میں نماز کی ادائیگی کا پروانہ بھی مل چکا تھا،ساتھ ہی زندگی کی تمام تر آسائشوں اور نعمتوں کو قدموں میں بچھادینے پر رضامندی بھی ہوگئی تھی؛لیکن اسے کوئی نہیں جھٹلا سکتا کہ ایک ہی دل میں نفرت ومحبت جمع نہیں ہو سکتے، ندی یا سمندر کے کنارے آپس میں بغل گیر نہیں ہوسکتے،اسی طرح اسلام کی تکمیل اور آزادی وسطوت کو یہ گوارہ نہیں؛ کہ وہ کسی کے مرہون منت رہے*۔
حقیقت یہ ہے؛اسلام کا یہی وہ فلسفہ اور واقعہ ہے،بنا بریں اس کی دشمنی روز اول ہی سے شیطانیت و دجالیت کے ٹھیکیداروں اور مطلق العناد بادشاہت ،شتر بے مہار سلطنت اور سرمایہ داری کے حریصوں سے رہی،انہوں نے ہر ممکن کوشش کی؛کہ اسلام کی بیخ کنی کردی جائے، اس کا استیصال کر دیا جائے،اور اس کے ماننے والوں کا نام و نشان مٹاکر انہیں غریب الدیار کردیا بائے،اسی حقیقت پر انتیس غزوات اور متعدد سرایا شاہد ہیں،مگر سچ تو یہ ہے ؛کہ جس طرح اسلام کو ابدیت نصیب ہے، اسی طرح اسکے مخالفین اور شرار بولہبی کو بھی دوام ہے،غرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی جنگ وجدل اور میدان کارزار کی سرخی ہمیشہ برقرار رہی،کوئی دور اور کوئی ایسا زمانہ نہین ملتا،جب اسلام اور غیر اسلام کی کشمکش نہ پائی جائے،اسی درمیان اگر سب سے زیادہ نفرت انگیز، متعصب اور کمر توڑ جنگ کا نام نمایا طور پر لیا جاتا ہے، یا لیا جاسکتا ہے،تو وہ صلیبی اور صہیونی سازشوں اور ان کی دجل فریبیوں کا ہے،بلکہ صہیونیوں نے ہی متحدہ طور پر سنہ ۵ یجری میں مدینہ منورہ پر حملہ کیا تھا،اور پھر اس کے بعد انہوں نے ہی صلیبی جنگ کے نام پر تین سو سالہ(1095 تا 1291ء) جنگ لڑی تھی،جس میں فریقین نے بغیر کسی تکان وکسل کے میدان کو لالہ زار کیا،زہے نصیب اکثر و بیشتر مسلمانوں ہی کو فتح نصیب رہی، تاریخ میں صہیونی جنگ کے اندر معدود چند مواقع ہی ملتے ہیں، جب مسلمان کمزور ہوئے،اور شکست و ریخت کا سامنا رہا؛ ورنہ کوئی طاقت انہیں شکست نہ دے سکی یہان تک وہ دست بستہ ہوگئے۔
*واقعہ یہ ہے؛ کہ دشمنوں نے خواہ میدان جنگ میں ناکامیابی برداشت کی؛ لیکن علمی اور عملی راہ میں انہوں جھنڈے گاڑدئے اور تحقیقات و اختراعات کے ذریعہ دنیا اپنی مٹھی میں کرلی اور پھر مستشرقین ،نصاب تعلیم اور فحش لٹریچر و تہذیب کے ذریعہ مسلمانوں کو بہت حد تک شکست فاش دے دی،اور یم اپنے زخموں کی مرہم لگانے اور اسے مندمل کرنے میں ہی رہ گئے؛بلکہ اسی کے ساتھ میدانی زور آزمائی کا دور بھی آیا،چنانچہ عراق،افغانستان اور دیگر بہت سے مسلم ممالک کی تباہی اسی کا نتیجہ ہیں،خود جارج بش نے نائن/الیون کے بعد مذکورہ دونوں ممالک پر حملہ کرتے ہوئے میڈیا کے روبرو اعلان کیا تھاکہ "Crusade war has begun" یعنی صلیبی جنگ پھر سے شروع ہوچکی ہے،افسوس کہ اس دفعہ مسلمان ماضی کی سی حالت میں نہ تھے؛ لہذا وہ چیختے اور چلاتے رہے،اقوام متحدہ کو گہار لگاتے رہے؛ لیکن نادانوں کو اتنی سی بات سمجھ نہ آئی؛ کہ دیرینہ دشمن اپنے دشمن پر قابو پانے کے بعد بخشتا نہیں،اور نا ہی بھیڑیے کبھی بکریوں کے ریوڑ کی حفاظت کیا کرتے ہیں،کاش ہم یہ سمجھ جائیں،اور اپنے اندر سلطان صلاح الدین پیدا کرنے کی کوشش کریں*۔(دیکھئے:صلیبی صہیونی جنگ از:مولانا نور عالم خلیلی امینی)
✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392
Comments
Post a Comment