ہاں میں سلمان خان ہوں۔۔۔!
ہاں میں سلمان خان ہوں۔۔۔!
نازش ہما قاسمی
ہاں! میں سلمان خان ہوں، میرا اصل نام عبدالرشید ہے۔ میری پیدائش27دسمبر 1965کو اندور شہر مدھیہ پردیش میں ہوئی ۔ میرے والد سلیم خان مشہور فلم رائٹر ہیں۔ بالی ووڈ میں سلیم جاوید کی جوڑی جو مشہور ہے وہی سلیم میرے والد ہیں۔اور مشہور فلم شعلے کے مصنف ہیں۔ میری والدہ کا نام سشیلا چرک ہے ،ہیلن خان اور سلمیٰ خان میری سوتیلی مائیں ہیں ۔ میرے بھائی ارباز خان، اور سہیل خان ہیں۔ یہ دونوں بھی ہیرو اورہدایت کار اور پروڈیوسر ہیں۔ میری دو بہنیں ہیں ایک الویرا اگنی ہوتری دوسری ارپتا جسےمیرے والد نے گود لیا ہے ۔میری تعلیم سندھیا اسکول گوالیار سے ہوئی ہے جہاں میں اپنے بھائی ارباز خان کے ساتھ پڑھتا تھا، آگے کی پڑھائی ممبئی کے باندرہ میں موجود سینٹ اسٹینس لاس ہائی اسکول باندرہ سے مکمل کیا ۔ میں نے 1988میں فلم ’بیوی ہو تو ایسی‘ سے اپنی اداکاری کی شروعات کی۔ اس فلم سے مجھے خاص رسپانس نہیں ملا اور میں مشہور نہیں ہوا۔ 1989میں ’میں نے پیار کیا‘ فلم بنائی جس سے مجھے شہرت ملی اور اپنی پہچان بنانے کا موقع حاصل ہوا۔ اس فلم پر مجھے فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
ہاں! میں وہی سلمان خان ہوں جس کا شمار بالی ووڈ کے پسندیدہ ترین اداکاروں میں ہوتا ہے، دنیا بھر میں میرے لاکھوں کروڑوں مداح ہیں۔ بالی ووڈ پر جن تین خانوں کا راج ہے ان میں سے ایک میں بھی ہوں۔ ہاں میں وہی سلمان خان ہوں جس کی ایک تنظیم ’’بیئنگ ہیومن‘‘ کے نام سے ہے ، میں اس تنظیم کے ذریعے سے فلاحی کام انجام دیتا ہوں۔ غریب بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرتا ہوں، مالی طور پر کمزور غیر مستحکم افراد کو امداد بہم پہنچاتا ہوں۔ مریضوں کو طبی امداد پہنچاتا ہوں۔ ہاں میں وہی سلمان خان ہوں جس نے سنجے لیلا بھنسالی کی فلم ’ہم دل دے چکے صنم‘ کی شوٹنگ کے دوران ایشوریہ رائے کو دل دے دیا تھا ۔ پھر اس کے بعد کے حالات سے آپ لوگ بخوبی واقف ہیں کہ پیار میں کیا ہوتا ہے اور اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ ہاں میں وہی سلمان خان ہوں جو بالی ووڈ میں نئے چہرے لانچ کرکے اسے مشہور کرتا ہوں۔ ہاں میں وہی سلمان خان ہوں جس کی عمر 52سال ہوچکی ہے؛ لیکن اب تک کنوارا ہوں۔ مجھے کنواروں کا رہنما بھی کہہ سکتے ہیں۔ہاں میں وہی سلمان خان ہوں جس کی عشقیہ داستان کافی طویل ہے۔ مجھے ایشوریہ سے محبت ہوئی، کٹرینہ کی جھیل سی آنکھوں میں غرقاب ہوا، سنگیتا بجلانی کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہوا، رومانیہ کی رول ماڈل لولیا ونتورتک سے آنکھیں لڑائیں۔ سومی سے بھی مجھے پیار ہوا۔ہاں میں وہی سلمان خان ہوں جسے ’دبنگ‘ کہا جاتا ہے۔ جسے ’ٹائیگر‘ کہا جاتا ہے۔ جسے ’سلّو بھائی‘ کہا جاتا ہے۔
ہاں میں وہی سلمان خان ہوں جسے کئی بار سزا ہوئی اور کچھ دنوں کے لیے جیل بھی گیا؛ لیکن ہر بار ضمانت پر رہا ہوتا چلا گیا۔ہاں میں وہی سلمان خان ہوں جسے سینٹرل جیل میں بھی چھ دن تک رہنا پڑا تھا، ہاں میں وہی سلمان خان ہوں جو 18دن تک جودھپور جیل میں رہ چکا ہوں۔ ہاں میں وہی سلمان خان ہوں جسے گزشتہ دنوں کالے ہرن کے شکار کے معاملے میں پانچ سال کی سزا اور دس ہزار روپئے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ ’’ہم ساتھ ساتھ‘‘کی شوٹنگ کے دوران مجھ پر اور میرے ساتھی سیف علی خان، دشنیت سنگھ، تبو، نیلم، سونالی بیندر پر یہ الزام عائد ہوا تھا کہ ہم لوگوں نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کالے ہرن کا شکار 1998 میں کیا ہے۔ کل سماعت کے دوران’’ہم ساتھ ساتھ‘‘کے تمام ساتھیوں کو بری کردیاگیا اور مجھ پر الزام ثابت کرکے جیل کے اندر ڈال دیا گیا۔ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑا جیل جانا تو مقدر تھا جرائم اگر سرزد ہوں گے تو قانون اپنا کام کرے گا ہی، لیکن مجھے افسوس صرف اس پر ہے کہ ہمارےملک ہندوستان میں اگر آپ انسانوں کو مارنے کا ہنر جانتے ہیں۔ انہیں موت کے گھاٹ اتار سکتے ہیں تو آپ کو رہائی مل سکتی ہے۔ ایسی لاکھوں مثالیں آپ کے سامنے ہوں گی جس میں انسانوں کا قاتل آزاد اور کھلے عام گھوم رہا ہے۔ میں نے انسانوں کو نہیں مارا تھا ہاں البتہ ایک بار غلطی سے باندرہ میں 2002 کی ایک رات ممبئی میں شراب پی کر گاڑی چلاتے ہوئے کنٹرول کھو بیٹھا تھا جس سے گاڑی فٹ پاتھ پر چڑھ گئی اور ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے، لیکن دسمبر 2015ء میں ممبئی ہائی کورٹ نے عدم ثبوت کی بنا پر مجھے اس کیس سے بری کردیاتھا۔میرے ڈرائیور کے بیان کے مطابق گاڑی وہ ڈرائیوکررہا تھا میں نہیں؛ اس لیے اس معاملے میں بچ گیا تھا؛ لیکن یہاں کالے ہرن کے شکار معاملے میں الزام ثابت ہوگیا ہے؛ اس لیے میں جیل میں ہوں۔ کل کی رات اے سی و ایئر کنڈیشن میں گزارنے والا سلمان ایک پنکھے میں بسر کرنے پر مجبور تھا۔ ہمارے وکلاء کوشش میں ہیں جلد ہی مجھے رہائی و ضمانت حاصل ہوجائے گی؛ ورنہ لوگوں کا پیسوں پر سے اعتبار اُٹھ جائے گا۔ یہاں اس موقع پر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ قانون کے خلاف کام کرنے والوں کو سزا ہونی ہی چاہئے جس طرح سے مجھے ہوئی ہے۔ بیس سال بعد ہرن کو انصاف ملا ہے۔ اگر اسی طرح بابری مسجد کے قصور واروں کو جیل ہو، ذکیہ جعفری کو انصاف ملے، نجیب کی تڑپتی ماں کو سکون بخشا جائے، اخلاق وپہلو خان کی والدہ کو انصاف ملے۔ نعیم الدین انصاری کے اہل خانہ کو انصاف ملے ، حافظ جنید کو بھی انصاف ملے تو ہندوستانی جمہوریت کا چہرہ پوری دنیا کے سامنے ابھر کر سامنے آئے گا۔ لوگوں کا عدلیہ پر مکمل اعتماد بحال ہوجائے گا۔ عشرت جہاں فرضی مڈبھیڑ کے ذمہ دار تڑی پار کو سزا ہو، گجرات فسادات کے ذمہ داروں کو سزاہو تو یقیناً ہندوستان امن کا گہوارہ بن جائے گا۔ مجھے امید ہے عدالتیں اس جانب بھی توجہ دیں گی ۔ جانوروں کو انصاف پہنچانے کے بعد انسان جو سسک رہے ہیں، عوام جو بلک رہے ہیں۔ انہیں بھی انصاف ملے گا۔ اور ہندوستانی فخر سے عدلیہ کی بالا دستی دیکھ کر جھومتے ہوئے کہہ اُٹھیں گے’’جے ہند۔ جےبھارت ، ہندوستان زندہ باد‘‘۔!!
۔۔۔منکووووووول۔۔۔
Comments
Post a Comment