عصمت دری کے واقعے نے ایک بار پھر ہندوستان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا!

✍ *{‌رأي اليوم}*
٣ شعبان المعظم ۱۴۳۹ (جمعہ)

عصمت دری کے واقعے نے ایک بار پھر ہندوستان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا!

اجتماعی عصمت دری کا ناپاک سایہ ہندوستانی سماج سے ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ آئے دن اس طرح کے جرائم ملک کے طول و عرض میں پیش آ رہے ہیں۔۔۔ مگر بہت ہی کم واقعات میڈیا کی تیز نگاہوں میں آ پاتے ہیں؛ جب کہ اکثر واقعات سماجی اسباب کی بنا پر مخفی ہی رہتے ہیں۔۔۔ ایسا ہی واقعہ، جس سے دنیا بھر میں ملک کی بدنامی ہوئی ہے، ایک آٹھ سالہ بچی کے اجتماعی عصمت دری کا شکار ہونے کا واقعہ ہے اور جس نے ملک کے مشرق و مغرب اور شمال و جنوب: ہر جانب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔۔ (مجھے نہ تو اعداد و شمار کی زبان آتی ہے؛ نہ ہی یہ جانتا ہوں کہ ہمارا مہان اور عزیز وطن: ہندوستان، اس شرم ناک واقعے سے سب سے زیادہ دوچار ہونے والے ممالک کی فہرست میں کس مقام پر ہے)۔

غریب کشمیری ماں باپ کی بیٹی، جس کی تصویر آج کل ہندوستان کی سب سے مشہور اور جانی پہچانی بیٹی کی تصویر بن چکی ہے۔۔۔ کوئی آنکھ نہیں تھی جو روئی نہ ہو، کوئی دل نہ تھا، جو لرزا نہ ہو، کوئی قلم نہیں تھا، جو چلا نہ ہو اور کوئی ایسی زبان نہیں تھی، جس نے اس خطرناک اور خون آشام حادثے کو نقل نہ کیا ہو۔۔۔

سوائے صبح و شام کی ہوا کے، جو گھوڑوں کو لاتے لے جاتے وقت اس کو لگ جایا کرتی تھی، کسی اور کے، اس کے جسم کو چھونے کا سوال ہی نہیں۔ بجز سورج کی کرنوں اور چاند کی روشنیوں کے، جو دنیاوی جنت (کشمیر) کی سرزمین پر چلتے پھرتے اس کے چہرے سے مس ہو جایا کرتی تھیں، اب تک کوئی اور اس کے چہرے کے قریب تک نہ جا سکا۔ اور جس کا جسم، سوائے اس کی پیاری ماں کے، کسی آدم ذات نے کبھی کاہے کو دیکھا تھا، جو ماں آج روتی ہے، تو سننے والوں کی رو رو کر ہچکیاں بندھ جاتی ہیں۔

آٹھ سالہ بیٹی: آصفہ۔ جنگل میں اپنے ابو کے مال بردار گھوڑے چرایا کرتی؛ تاکہ اس کے ابو اپنے چھوٹے سے خاندان کی روزی روٹی کا انتظام کر سکیں، جو گرمیوں میں کشمیر کے پہاڑوں میں اور موسمِ سرما میں جموں کے میدانوں میں نہایت تنگ حالی کی زندگی جی رہا تھا؛ نہ کوئی گھر ہے، جہاں رہ سکے، نہ کوئی زمین، جس کی پناہ لے سکے۔

یہ ناچار اور بدنصیب، جنھیں کوئی "خوش نصیب" صاحبِ ثروت منھ نہیں لگاتا۔۔۔۔۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ یہ غریب ان کا مال و متاع چھین لیں گے یا ان کی زمین ہتھیا لیں گے؛ بل کہ صرف اس لیے کہ وہ غریب و نادار ہیں؛ ان کا غریب و بے چارہ ہونا بذاتِ خود اہلِ ثروت کی نگاہ میں ایک بہت بڑا گناہ ہے!

ایک مندر کے پجاری نے اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ اس کی اجتماعی عصمت دری کی۔۔ اور مسلسل آٹھ دن رات تک کرتے رہے۔۔ اس دوران وہ اسے نشہ آور دوائیں کھلاتے رہے، پھر بھاری پتھروں سے مار کر اور چٹان سے کچل کر ہلاک کر دیا۔ اس منحوس "عمل" میں ان کا ساتھ ایک پولس آفیسر نے دیا، جس کی پیاس اس کے شہید ہو جانے کے بعد بھی نہیں بجھی!

یہ لوگ، جو خود کو مندر کے پجاری کہتے تھے، انسان تھے یا بھیڑیے تھے؟ یہ تو بھیڑیوں سے بھی زیادہ خطرناک قسم کے درندے تھے۔ کتوں سے بھی گرے ہوے لوگ تھے۔۔۔ بھیڑیے اپنے شکار کو ایک بار مارتے ہیں؛ جب کہ یہ لوگ تو برف سی سفید فام اور شبنم سی صاف اس ننھی جان کو پورے آٹھ دن تک نوچتے رہے۔۔۔ اور اس کے قتل کر دیے جانے اور پتھروں سے کچل کچل کر ہلاک کر دیے جانے کے بعد ہی ان کی بہیمانہ پیاس بجھ سکی!

"اسے کس جرم کی سزا دی گئی؟" اس کی سادہ منش کشمیری ماں اپنی کپکپاتی آواز سے بس ایک ہی رٹ لگائے ہوے تھی۔۔۔ "انھوں نے میری بیٹی کو کیوں مار دیا؟"، "اس نے ان کا کیا بگاڑا تھا؟"۔۔۔۔ جب بھی میں وہ کلپ سنتا ہوں، آنسوؤں کا نہ تھم سکنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے!!

ممکن ہے اسے نہ پتہ ہو کہ اس کی لختِ جگر کو پورے آٹھ دن تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔۔۔ وہ صرف یہ جانتی ہو کہ اس کی آصفہ کا قتل ہوا ہے؛ مگر ممکن ہے قتل کے سبب سے نابلد ہو۔ وہ کبھی جانے گی بھی نہیں؛ کیوں کہ وہ آخر ایک انسان ہے؛ کوئی بھیڑیا نہیں، جو بھیڑیوں کے کالے کرتوتوں کا درست اندازہ کر سکے۔

❀✿❁✿❂✿✿❅❃❅❆✺✶
✍ *استاذِمحترم: مولانا نصیرالدین صاحب قاسمی‌ دامت برکاتہم*
استاذ شعبۂ عربی ادب: مدرسہ خادم الاسلام بھاکری، جودھپور راجستھان

ترجمہ: نیک محمد 9001835816

millatmedia.com

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن