علامہ شبلی مرحوم کی عظمت اور سبق
🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺
*علامہ شبلی مرحوم کی عظمت اور سبق*
*علامہ شبلی نعمانی کی شخصیت کا تعارف کرانا گویا سورج کو دیا دکھانا ہے،جس کے علم کا شہرہ حدود و ثغور کی پابندیوں سے برتر ہو،جو سراپا علم وفضل کا پیکر ہو،جو ہمہ دان اور تاریخ کا بحر بیکراں ہو،نثر کا تاجدار اور نظم کا شہسوار ہو،جس کا قلم مغربی پروپیگنڈوں کو تار عنکبوت کی طرح بکھیر کر رکھ دیتا ہو،جس نے کتب خانہ اسکندریہ کی تحقیق، حقوق الذمیین اور جزیہ کی تحقیق سے ایوان باطل میں طوفاں برپاکردیا ہو،جس نے علم کلام کو ایک نئی رخ دی ہو اور "الندوة" پرچہ کے ذریعے اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں کو منتشر کر کے رکھ دیا ہو،جس کی ہنر مندی خود سے آگے بڑھ کر اپنے جاں نشینوں اور تلامذہ کو مقام ومرتبہ کا ہمالیہ عطا کیا ہو،جس نے ذرہ کو آفتاب بنادیا ہو،جس نے سلیمان کو سلیمان اعظم بنادیا ہو،جس نے سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر انسائیکلوپیڈیا تیار کر کے امت مسلہ پر احسان بے پایاں کیا ہو،جس کے صدقہ طفیل میں (بالواسطہ)سیدی ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ جیسا نابغہ روزگار پیدا ہوا ہو،اور جس نے علم وعمل کے دانشکدہ (دارالعلوم ندوةالعلماء،لکھنوء) کو اپنے خون جگر سے سینچا ہو ؛ایسی تاریخی شخصیت کے متعلق بھلا کونسا قلم،کونسی زبان ہوگی جو کما حقہ اس کا تعارف کرائے!۔*
*بہر حال آپ کا مزاج بہت لطیف،سادہ اور نازک تھا، رقیق القلبی اتنی کہ میر انیس کے مرثیوں پر آنسو کی لڑیاں لگ جاتیں،آپ کسی بھی چیز کا احساس بہت جلد قبول کرتے تھے؛اور اسی جذبات میں اکثر شعر وشاعری بھی کیا کرتے تھے،آپ سخن گو اور سخن فہم کا مرقع تھے،ان کی بعض غزلوں اور امت کی پس ماندگی و زبوں حالی کی نظموں نے؛ خوب داد تحسین حاصل کی ہے؛لیکن ان سب امتیازات میں آپ کا ایک انوکھا امتیاز ؛بلکہ کہنا چاہئے کہ انگوٹھی میں نگ کے مثل یہ تھا ؛کہ آپ تواضع اور اعلی ظرف کے حامل تھے،عالی ظرفی کی بلند ترین مثال سنئے اور غور سے سنئے: ۱۹۱۳ء میں مسجد کانپور کے ایک واقعہ جس کے اندر بچے،بوڑھے پر مشتمل افراد پر فائرنگ کردی گئی تھی اور بہت سے نوجوان شہید ہوگئے تھے،آپ نے اس پر ایک نظم کہی جس کا ایک شعر موزوں یوں تھا۔*
*عجب کیا ہے جو نوخیزوں نے سب سے پہلے جانیں دیں*
*کہ لڑکے ہیں بہت جلد ان کو سو رہنے کی عادت ہے*
اس زمانہ میں ثاقب اکبر الہ بادی ثم لکھنوی کا شمار لکھنو کے اہل زبان میں تھا،جب یہ شعر ان کو سنایا گیا؛تو انہوں نے دوسرے مصرعہ کے متعلق کہا؛ کہ اگر دو ایک الفاط بدل دئے جائیں تو مصرعہ اور چست ہوجائے۔ "لڑکے"کی جگہ "بچے"۔"بہت جلد"کی جگہ "سویرے" اور "سورہنے"کی جگہ "سوجانے" ،مولانا نے بلا تامل اس مشورے کو قبول کیا اور اب مصرعہ یوں ہوگیا:
*کہ بچے ہیں،سویرے ان کو سو جانے کی عادت ہے۔*
"معاصر کی عظمت کا اعتراف بھی کوئی آسان بات نہیں،چہ جائے کہ اس کی اصلاح کو قبول کرلینا،پھر خصوصا جب وہ معاصرین میں بھی اپنے سے چھوٹا ہو، اور شہرت میں بھی کمتر ہو،یہ انصاف پسندی اور یہ عالی ظرفی ہر ایک کے حصہ میں نہیں آتی"(انشائے ماجدی:۲۸۵)۔عصر حاضر میں ایسی عالی ظرفی کا نمونہ نہ کے برابر دیکھنے کو ملتا ہے،البتہ کم ظرفی کے وصف لا ثانی سے ہر کوئی مزین ہے،ہر کنکر ہمالیہ کے خواب وگمان میں جی رہا ہے،ہر ندی کو سمندر کی گہرائی کا زعم ہوچلا ہے،ہر کسی تخم کو برگ وبار اور دیرینہ پود ودرخت کا خیال ہے،یہ واقعہ کسی ایک جماعت یا کسی ایک گروہ کا نہیں؛ بلکہ امت مسلمہ کے مجموعی طبقہ کا ہے،آوا کا آوا اس فتنہ کا شکار ہو چلکا ہے ،اور یہی وجہ یے؛کہ آج مسلمانوں کے اندر حقیقت شناسی کا جوہر مفقود ہے،جس کے بغیر ترقی وعروج کا امکان بھی ممکن نہیں،کیا خوب ہو کہ علامہ شبلی نعمانی مرحوم کی اعلی ظرفی کو توشہ حیات بنایا جائے!
✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392
23/04/2018
Comments
Post a Comment