آصفہ کی آہوں کا کچھ تو مداوا ہو!
🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺
*#آصفہ کی آہوں کا کچھ تو مداوا ہو!*
*مغربیت کی ننگ و عار تہذیب کا طوفان اور فحش لٹریچر و ہیجان کن اور اشتعال انگیز مواد کی بے دریغ فراہمی نے نسل نو کو حیوانیت سے متجاوز کردیا ہے،ان میں انسانی امتیاز کا فقدان سمندر میں کنکر کے مثل گم ہوتا جارہا یے، تو دوسری طرف ملک عزیز کی جانبدارانہ سیاسی پالیسیاں اور زعفرانیت کے عروج نے غوغا مچا رکھا ہے،اپنی خواہشات ومرضیات کی تکمیل کی خاطر کسی بھی حد کو پامال کرنے اور کسی بھی قانون و ضابطہ کی دھجیاں اڑانے کو فطرت ثانی بنا لیا گیا ہے،خود ہندو قوموں میں ادنی ذات پات کے لوگوں پر آفت آن پڑی ہے، تو وہیں بدنام زمانہ اور زمانہ کا ستم زدہ مسلمان؛ چمنستان کا خار تصور کر لیا گیا ہے ،جسے آن کی آن اکھاڑ پھینکنے میں ہی عافیت سمجھی جارہی یے،جس کیلئے ہزل و ابتذال سے بھی گریز بلکہ کہنا چاہئے؛ کہ انسانیت سوز مظالم ڈھانے سے بھی پرہیز نہیں ہے،ملک میں مسلمانوں کیلئے عدل وانصاف تو گویا کوئی "بھولی بسری کہانی" معلوم ہونے لگی ہے،رہے نام نہاد مسلمان جنہیں "صاحب" کی نیاز مندی نصیب ہے،تو وہ اپنے ملکوتی زندگی میں مست ومگن ہیں!۔*
ان دنوں تازہ واقعہ جمو کے کٹھوعہ ضلع میں ایک ۸ سالہ معصوم بچی آصفہ نامی کے ساتھ زیادتی کا ہے،اس داستان پر کاش کوئی قلم الفاظوں کی نہیں؛ بلکہ حقیقت کی عکاسی کرپاتا،یہ ممکن ہی نہیں ایک پھول کو بے دردی سے مسل دئے جانے اور اسے گرد پا بنا دیئے جانےکی داستان بیان ہو؟،اس کا گناہ یہ تھا؛ کہ وہ ذات والوں کے معیار پر کھری نہ اتر سکی،اس کا گناہ یہ تھا؛ کہ وہ ایک غریب مسلم سماج کی ننھی جان تھی، اس کا گناہ یہ تھا؛ کہ اس نے ہندوستان کی زہریلی بھگوا فضا میں سانس لینے کی تمنا کی،یہی وجہ ہے ؛کہ آخر ۱۰/ جنوری ۲۰۱۸ء کو موقع پاکر قوم کے مہذب اور اعلی طبقہ کا تمغہ لئے بیٹھے افراد نے عین عبادت گاہ(مندر) کے سایہ تلے (جہاں روح کے سکون اور جان کے اماں کی دعا کی جاتی ہے) ،میں درندگی و حیوانیت کی حدیں پھلانگی گئیں،منشیات بھی، بجلی کی ہلاکت خیز جھٹکے بھی دئے گئے،ہائے! ظالم تجھے معصوم پر ترس نہ آیا۔
*اس کے بعد "نیم اوپر سے کریلا چڑھا" کی تعبیر پیش کی گئی،مجرم ماسٹر مائنڈ سانچی رام،اس کے بیٹے وشال اور پولس آفیسر دیپک کھجور ہا اور سولہ سال کا اس کا بھتیجا اور اس کا دوست پرمیش کے خلاف جب کاروائی کی کوشش کی گئی اور جب کئی ماہ بعد تحقیق وثبوت کی بنیاص پر مقدمہ دائر کیا جانے لگا، تو نام نہاد "بیٹی بچاو بیٹی پڑھاو"کے علمبردار "بلاتکاری بچاو" تحریک کے ٹھیکیدار بن گئے،وکلاء اور آفیسرز سے لیکر بی،جے ،پی کے اعلی عہدیداران نے مخالفت کی،ریلیاں اور جلوس منعقد کئے گئے،حد تو یہ ہے؛ کہ اسے روکنے کیلئے ہندوستانی جھنڈے کا استعمال کیا گیا،اور باقاعدہ "ترنگا یاترا" کی گئی،جس کی نمائندگی "ہندو ایکتا منچ" کی طرف سے ہورہی تھی۔اسی طرح کا ایک قصہ "اناو،یوپی" کی ایک دوشیزہ کے ساتھ زیادتی کا ہے،جس پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے،اور "چوری اوپر سے سینہ زوری" کی علی الاعلان تشریح کی گئی، چنانچہ لڑکی کے والد کو ہی قید وبند کی بیڑیوں میں ڈال کر موت کے گھاٹ اتاردیا گیا،(The wire)یہ سب کچھ ہوا؛ لیکن مسلمان جو جہاں آرائی و جہاں بینی کی حیثیت رکھتے ہیں،وہ سمندر کے کنارے طوفان کا نظارہ کرنے یا اپنے کسی خاص ہیکل میں ملاء اعلی کی سیر میں مصروف ہیں، خدارا ! جان لیجئے۔۔"ابھی نہیں تو کبھی نہیں" اپنے ضمیر کو جھنجھوڑئیے، اسے جگائے، اسے بتائیے کہ:*
*کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعزاز سخن*
*ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے*
✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392
13/04/2018
Comments
Post a Comment