دہلی کے روہنگیایی مسلمانوں کی حالت زار

دہلی کے روہنگیایی مسلمانوں کی حالت زار

ایک عرصے سے روہنگیا کے مظلوم مسلمان دور آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ دہلی میں مقیم روہنگیا کے مظلوم مہاجرین کے ساتھ حال ہی میں ایک اور حادثہ پیش آیا۔ 14 اپریل کو علی الصبح تین بجے ان کے کیمپ میں اتنی خطرناک آتشزدگی ہوئی کے کہ دیکھتے ہی دیکھتے ان کی پوری پناہ گاہ خاکستر ہوگئی۔ اچھی بات یہ ہے کی آگ کی لپٹوں سے کسی بھی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا اور بری بات یہ ہے کہ انسانی جان کے علاوہ جو کچھ بھی تھا وہ آگ کی نذر ہو گیا۔ آج ہیومن ویلفیر فاؤنڈیشن کے وفد کے ہمراہ جائے حادثہ کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا تو دل مغموم ہو گیا۔ ان غریبوں کے پاس کوئی لاکھوں کروڑوں کی پروپر ٹی نہیں تھی، بس مسافرانہ طرز زندگی کا مختصر سامان حیات (سائیکل، کولر، کھانے پکانے کا سامان، کپڑے اور بنیادی ضروریات کا کچھ سامان) تھا، جو کہ پل بھر میں ختم ہو گیا۔ یہ حادثہ کیسے پیش آیا اور کس طرح پیش آیا؟ اس جواب ابھی نہیں مل سکا۔ تحقیقات جاری ہیں، انشائ اللہ ہفتہ دس دن بعد معلوم ہو جائے گا۔

حادثہ کی خبر شہر میں پھیلتے ہی انسانیت سے ہمدردی رکھنے والی تنظیمیں اور افراد ان کی مدد کے لیے دوڑے چلے آئے۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ ملت کی گئی گزری حالت کے بعد بھی اس میں ہمدردری کا جذبہ ابھی ماند نہیں پڑا ہے اورلوگ تن تنہا اور گروپ کی شکلوں میں آرہے ہیں اور اپنی بساط کے مطابق جو کچھ بھی وہ کر سکتے ہیں، اپنے طور پر کر ہے ہیں۔ اور یہ سلسہ مسلسل جاری ہے۔ کوئی ان کے کے لیے کپڑے لا رہا ہے تو کسی نے ان کے لیے کھانے کا انتظام کر دیا ہے۔ کسی نے پانی پلانے کا انتظام اپنے ذمہ لے لیا ہے تو کسی نے دیگر ضروریات کی تکمیل کے لیے اپنے آپ کو ان کی خدمت میں لگا رکھا ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ ان کی ضروریات کا جو بھی سامان ہو ان کو مہیا کر دیا جائے اور ان کو کسی بھی قسم کی کمی نہ ہونے پائے۔

مسلم تنظیموں میں خصوصاً جمیعۃ العلما ہند، جماعت اسلامی ہند اور ہیو مین ویلفیر فاؤنڈیشن وغیرہ پوری مستعدی سے ان کے درمیان امددای کام کا فریضہ انجام دے رہی ہیں۔ یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ کچھ نوجوان بھی وہاں موجود تھے جو ان مظلوموں کے درمیان دوڑ دوڑ کر ان کی ضرورت کا سامان تقسیم کر رہے تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے Department of law کے طالب ہیں۔ سوچیے کہ یہ نوجوان جن کے اندر ہمدردی کا یہ جذبہ جو ابھی دکھائی دے رہا ہے، آگے جب کبھی یہ اونچے مناسب پر فائز ہوں گے تو یقینا ایسے ہی ہمدردی اور اخوت کی مثالیں قائم کریں گے۔ یہ ہر گز ان وکیلوں کی طرح ہوں گے جنھوں نے ایک درندے اور ریپسٹ کے حق میں چکا جام کرکے اور جئے شری رام کے نارے لگا کر اپنی اور ملک کی عزت کو خاک میں ملا دیا۔ یہ جو ابھی کام کر رہے ہیں اس سے تو یہی اندا ہوتا ہے کہ یہ تو ہمیشہ مظلوموں کے حق میں اور ظالموں کے خلاف کھڑے ہوں گے، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔

پناہ گاہ نزر آتش ہونے کے بعد ان مظلوموں کو اسی جگہ سے قریب منتقل کر دیا گیا ہے۔ فی الحال ان کے رہنے کے لیے ٹینٹ لگا دیا گیا ہے۔ چادروں کی مدد سے اس کے اندر چھوٹے چھوٹے کیمپ بنا کر اپنی پانی فملی کے ساتھ اسی میں فی الحال گزارا کر رہے ہیں۔ جو لوگ بھی ان مظلوموں کے لیے اپنا تعاون پیش کرنا چاہتے ہیں، وہ متذکرہ تنظیموں کے نمائندوں سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

(محمد اسعد فلاحی)

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن