بھوپال میں مسجد کے موذن کا بہیمانہ قتل

بھوپال میں مسجد کے موذن کا بہیمانہ قتل
مسجد میں گھس کر پے درپے چاقوئوں سے وار
علاقے بھر میں غم وغصے کی لہر 
سخت کشیدگی ،
بھوپال۔ 19؍اپریل: 2018
انسانیت کو حاشیے پر رکھ کر نفرت کا کاروبار کرنے والے بلند ہوتے جارہے ہیں۔ آج بھوپال میں وی آئی پی روڈ پر موجود اکھاڑے والی مسجد (مسجد عالمگیر) کے موذن کو حملہ آوروں نے چاقوئوں سے گود کر قتل کردیا ہے۔ دن دہاڑے ہوئے اس قتل سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ مسجد کے قریب جمع ہوگئے ہیں، موذن پر چاقوئوںسے اتناوار کیا گیا کہ ان کی موت موقع واردات پر ہی ہوگئی ۔موت کی اطلاع ملتے ہی تلیا تھانہ علاقے میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوگئی۔مسلمانوں میں غم وغصے کی لہر پائی جارہی ہے۔ کشیدگی کو دیکھتے ہوئے پولس نے آس پاس کے علاقے میں سخت سیکوریٹی بڑھا دی ہے۔ پولس کو مسجد کے اندر سے موذن صاحب کی خون میں لت پت لاش ملی ہے۔ موذن صاحب کو علاج کےلیے حمیدیہ اسپتال لے جایا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے داخلے سے قبل ہی انہیںمردہ قرار دیا۔ اطلاع کے مطابق 62سالہ موذن محمد نثار مسجد میں کئی برسوں سے خدمات انجام دے رہے تھے اس لیے وہ مسجد میں ہی قیام پذیر تھے اور اذان دیتے تھے۔ جمعرات 19؍اپریل کی صبح ساڑھے دس بجے موذن محمد نثار مسجد کے گیٹ پر کھڑے تھے، جبھی حملہ آور آئے اور ان پر پے درپے وار کرنا شروع کردیا اور ان کا گلا ریت دیا۔ چاقو کا زخم لگنے کے بعد وہ مسجد کے اندر بھاگے تاکہ اندر بیٹھے امام صاحب کو اطلاع دے سکیں لیکن وہ امام صاحب تک نہیں پہنچ پائے اور زخموں کی تاب نہ لاکر گرپڑے۔ آواز سن کر لوگ باہر آئے تو دیکھا کہ موذن صاحب کی لاش خون میں لت پت پڑی تھی ۔ کچھ لوگوں مسجد سے باہر آئے اور پولس کو اطلاع دی، اطلاع ملتے ہی ایس پی اجے سنگھ اور اے ایس پی راجے سنگھ مدھوریا اپنی ٹیم کے ساتھ مسجد پہنچ گئے اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال بھیج دیا ہے مزید تحقیقات جاری ہے۔ اطلاع کے مطابق حافظ محمد نثار مسجد میں اکیلے ہی رہتے تھے ان کے دوبھائی ہیں جو ساتھ ہی رہتے ہیں، اور خاندان میں کوئی نہیں ہے۔ پولس کو قتل کس نے کیا؟ حملہ آور کون تھے؟ وجوہات کا پتہ لگانے کےلیے مستعدی سے جٹ گئی ہے۔ بہیمانہ قتل کے بعد علاقے کے لوگوں نے بتایا کہ موذن نثار احمد صاحب تقریباً چھ سال سے اس مسجد میں اذان دے رہے تھے، اس سے قبل ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا تھا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کی کسی سے ذاتی دشمنی بھی نہیں تھی پھر بھی حملہ آوروں نے انہیں کیوں قتل کردیا؟ پولس کے مطابق موذن صاحب کا قتل چاقو سے گود کرکیاگیا ہے، حالانکہ پی ایم رپورٹ آنے کے بعد ہی قتل کی گتھی سلجھ سکتی ہے۔ پولس نے واردات کے فوراً بعد اطراف میں ناکہ بندی کردی ہے ، سیکوریٹی کے پورے انتظامات کیے گئے ہیں پولس کا کہنا ہے کہ جلد ہی ملزمین کو گرفتار کرلیا جائے، کیوں کہ کچھ سراغ ابتدائی تحقیقات میں حاصل ہوچکے ہیں جس سے پولس حملہ آوروں کو گرفتار کرسکتی ہے۔ پولس نے مقامی لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن وامان کی برقراری کے لیے پولس کا تعاون کریں جلد ہی قاتل کیفر کردار تک پہنچایاجائے گا۔ واضح رہے کہ مسجد میں داخل ہونے کے دو راستے ہیں، پہلا وی آئی پی روڈ اور ایک اقبال میدان کی طرف سے۔ اس بہیمانہ قتل سے مقامی مسلمانوں میں خوف وہراس کا ماحول قائم ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن