*معصوم حفاظ کرام کی شہادت اور ہماری بے حسی* ...

*معصوم حفاظ کرام کی شہادت اور ہماری بے حسی* ...
*سید أحمد اُنیس ندوی* 
گزشتہ دنوں فرعونی مزاج کی حامل امریکی حکومت نے افغانستان کے ایک ایسے مدرسے پر بمباری کی جہاں طلباء کا جلسہ دستاربندی چل رہا تھا ...
*اس خونی بمباری کے نتیجے میں ۱۰۰ سے زائد معصوم بچے شہید ہو گئے* ...
امریکی حکومت کی یہ ظالمانہ کاروائ کوئ نئ چیز نہیں ہے بلکہ ادھر پچھلے پندرہ-بیس سالوں میں اس ظالم حکومت نے عراق، افغانستان، لیبیا وغیرہ میں پندرہ سے بیس لاکھ انسانوں کو اپنی وحشیانہ بمباری میں ہلاک کیا ہے ... پورے کے پورے شہر کھنڈر بنا دئیے گئے  ...
چند سالوں قبل پشاور میں ایک آرمی اسکول پر حملہ ہوا تھا جس میں اچھی خاصی تعداد میں چھوٹے چھوٹے پھول جیسے بچے شہید ہو گئے تھے ... اُس وقت پوری دنیا نے بشمول علماء کرام کے سب نے اُس حملے کی سخت مذمت کی تھی اور ایسا کرنے والوں کو دنیا کا بدترین دہشتگرد قرار دیا تھا ... *مگر افسوس ہوتا ہے کہ دنیا کے لوگ کتنے دوغلے اور ضمیر فروش اور جانبدار ہیں*،  آج جب مدرسے کے معصوم بچوں کے ساتھ یہ ہوا تو پوری دنیا خاموش ہے ... میڈیا خاموش ہے،  لوگ اندھے،  بہرے اور گونگے ہو چکے ہیں ... انسانیت کا نعرہ لگانے والوں کو سانپ سونگھ گیا ہے،  امن و سلامتی کے دعویدار بِلوں میں گھس گئے ہیں ...... *دانشوران قوم آخر اس مسئلے پر کھل کر کیوں نہیں بولتے ہیں*؟ ؟؟. عالمی برادری سارے قانون و ضابطے بھول چکی ہے ...
*کیا اس لئے کہ وہ مدرسے کے طالب علم تھے  ؟؟؟ کیا اس لئے کہ وہ اس دجالی اور شیطانی تہذیب کو قبول نہیں کر رہے تھے جو اسی امریکہ اور یوروپ نے پوری دنیا میں زہر کی طرح پھیلائ ہے* ؟؟؟
کوئ ایک نہیں ہے جو امریکہ، روس اور اسرائیل کی ان کھلی ہوئ دہشت گردیوں پر صرف زبان ہی کھول سکے  ؟؟؟؟
اور کس کا رونا روئیں  ، اسلام کا نام لینے والے ممالک بھی خاموش ہیں .... *دینی تحریکات بھی بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے سے احتیاط برتتی ہوئ نظر آتی ہیں*  ....
 
عرب ممالک اسی ظالم اور مجرم امریکہ کے ہاتھوں پوری طرح بِک چکے ہیں ... *جزیرة العرب میں وہاں کا فرماں روا اور اُس کی نالائق اور مجرم اولاد اسی امریکہ کی ننگی اور خبیث تہذیب کو عام کرنے کے لئے بے چین ہے* ... اور ان خلیجی ممالک نے اپنی تہذیبی، فکری، سیاسی، معاشی تمام تر پالیسیاں امریکہ کی اسی فرعونی حکومت اور اسرائیل کی دجالی حکومت کی مرضی و منشاء کے مطابق بنانے کی قسمیں کھا لی ہیں .. اور اس کے بقاعدہ عہد و پیمان ہوئے ہیں ...
بے غیرتی کے کس مقام پر پوری دنیا آ گئ ہے  ؟؟؟ *کیا کھلی آنکھوں یہ ظلم اور زیادتی نظر نہیں آ رہی  ؟؟ کیا مقرروں کی زبانیں نہیں رہیں  ؟؟؟ ،  کیا لکھاریوں کے قلم ٹوٹ گئے ہیں؟ ؟؟ کتاب و سنت کے سب سے بڑے دعویدار کون سی آرامگاہ میں ہیں*  ؟؟؟؟
*ٹی.وی. اور موبائل پر محض ڈراموں اور اداکاری کو دیکھ کر ہماری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں  ،،، کیا سینکڑوں پھول جیسے معصوم بچوں کے جسم کے چیتھڑے ہماری آنکھ سے آنسو نہیں نکال پا رہے  ؟؟؟ کیا ایک لمحے کے لئے ہمیں ان کے والدین کا خیال نہیں آ رہا*  ؟؟؟
اگر ایسا ہے تو مان لیجئے کہ ہمارا ضمیر مر چکا ہے  ؟؟ ہمارے دل سے اہل ایمان کی محبت نکل چکی ہے  ؟؟ ہمارے دل میں حفاظ کرام کی قدر باقی نہیں رہی ہے  ؟؟؟
*ہم مرعوب ہیں امریکہ اور اسرائیل سے ... ہم مرعوب ہیں انگریزیت سے ... ہم مرعوب ہیں دنیا کے باطل نظام سے*......
*اور ایسی حالت میں اگر ہم دنیا سے چلے گئے تو ذرا سوچیں ہمارا ٹھکانہ کیا ہوگا*  ؟؟
اب بھی وقت ہے ہم بیدار ہو جائیں ... سب سے پہلے تو الله تعالی سے سچی توبہ کریں،  اور پھر سجدوں میں سر رکھ کر امت مسلمہ کے لئے روئیں اور آنسو بہائیں .... امت کا درد اپنے اندر پیدا کریں ... اور اپنی حیثیت اور سطح سے اس ظلم کے خلاف پورے امن و سکون کے ساتھ اپنا احتجاج درج کرائیں ... *دینی تحریکات کے ذمہ داروں سے دست بستہ گزارش ہے کہ خدارا کوئ لائحہ عمل طے کیجئے اور کھل کر کہئے کہ امریکہ،  روس اوراسرائیل پوری دنیا میں سب سے زیادہ دہشت گردی اور ظلم کو پھیلا رہے ہیں اور بہت سے مسلم ممالک ان کمینی حکومتوں کے ساتھ ملت کا سودا کر رہے ہیں اور بالخصوص آل سعود کے مجرم حکمراں اس میں سر فہرست ہیں* .... 
وما علینا إلا البلاغ ...
*سید أحمد اُنیس ندوی*

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

مولانا عبداللہ کاپودروی کی مختصر سوانح