آگ حادثے سے بے سہارا ہوئے روہنگیائیوں کے لیے جمعیۃ علماکا سہارا

آگ حادثے سے بے سہارا ہوئے روہنگیائیوں کے لیے جمعیۃ علماکا سہارا
کل بتاریخ 17 مارچ 2018 کو کالندی گنج میں واقع روہنگیائی مہاجرین کی جھونپڑیوں میں لگی آگ کے بعد ہوئے بے سہارا و بے آسرا انتہائی مفلوک الحال لوگوں کے لیے جمعیۃ علمائے ہند کی طرف سے فوری امداد کے طور پر ایک لاکھ چودہ ہزار نقد تقسیم کی گئی۔ جمعیۃ علمائے ہند کا ایک وفد اس کے سکریٹری مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی کی قیادت میں جائے حادثہ پر پہنچا اور متاثرین کے حال احوال پوچھ کر انھیں یہ رقم دی گئی ۔ اور ان کے مستقل ٹھکانے کے لیے زکوٰہ فاونڈیشن کے صدر جناب ظفر محمود صاحب سے ایک طویل میٹنگ کی ، جس میں یہ طے کیا گیا کہ روہنگیایوں کو پھر اسی جگہ تمام حفاطتی اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے رمضان سے پہلے پہلے تک آشیانہ بناکر دیا جائے گا، تاکہ انھیں مکمل تحفظ مل سکے۔
اس سے ایک روز قبل جمعیۃ علمائے دہلی نے بھی ان کے لیے ضروریات حیات کی بنیادی چیزوں کو ان کے درمیان تقسیم کی اور ن کی ڈھارس بندھائی ۔ ایک روہنگیائی سے ملی معلومات کے مطابق تقریبا ڈھائی بجے رات اچانک آگ لگی ، جس سے افراتفری مچ گئی اور سب لوگ اپنی جان ہتھیلی پر لے کر بھاگے۔ اور کھلے آسمان کے نیچے پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ جمعیۃ علمائ کو جیسے ہی اس حادثہ کی اطلاع ملی، فورا  جمعیۃ علمائے دہلی کے صدر مولانا عابد صاحب قاسمی کے زیر قیادت ایک وفد یہاں پہنچا اور آنا فانا ان کے لیے ٹینٹ ، کھانا اور پانی  کا انتظام کیا۔ اس سے اگلے دن جمعیۃ علما دہلی دوبارہ اپنی پوری ٹیم کے ساتھ پہنچی اور متاثرین کے درمیان دو دو کلو نمکین، ایک ایک کلو بسکٹ، ہر ایک فرد کو لنگی، چٹائی، مصلے، تسبیحات، پندرہ پنکھے اتنے  ہی واٹر کولر اور فی فرد دو دو سو روپیے نقد تقسیم کیے۔ اس کے علاوہ  ایک ٹرک کھانے پینے کی اشیا وہاں پر ذخیرہ کردیا گیا ہے تاکہ حسب ضرورت متاثرین انھیں استعمال میں لاسکیں۔
صدر جمعیۃ علما دہلی نے ان کی مزید خدمات کے تعلق سے معلومت دیتے ہوئے بتایا کہ ابھی یہ لوگ کپڑے سے بنے ٹینٹ میں رہ رہے ہیں، جس میں دھوپ کی تپش سے حفاظت نہیں ہوپارہی ہے ، اسی طرح بارش ہوجائے، تو سرچھپانا مشکل ہوجائے گا، اس لیے فوری طور پر ان کے لیے وواٹر پروف ٹینٹ اور پورا کچن سیٹ تیار کرکے انھیں دینے کی کوشش جاری ہے۔
اس وفد میں مرکزی دفتر سے قائد وفد مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی سکریٹری جمعیۃ علمائے ہند کے ہمراہ ، مولانا ابو الحسن سیوانی، جناب حافظ بشیر صاحبان  اور مولانا محمد یاسین قاسمی جہازی تھے، جب کہ دہلی ریاست کے صدر مولانا عابد صاحب قاسمی کے علاوہ  ، مولانا غیور احمد قاسمی، جناب قاری ہارون اسعدی، مولانا اسلام الدین نائب صدر جمعیۃ علما دہلی، مولانا زاہد صدر جمعیۃ علما مشرقی دہلی اور مفتی ہشام الدین ناظم اعلیٰ جمعیۃ علما اوکھلا شریک تھے۔
  جمعیۃ علمائے صوبہ دہلی کی طرف سے مولانا غیور احمد قاسمی صاحب مسلسل یہاں کی حالات  پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ انسانیت کا ثبوت دیتے ہوئے ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف محسوس کرتے ہوئے ، ان کے دکھ درد میں شریک ہونے کے لیے آگے آئیں۔

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن