ہندوتو کیا ہے؟
🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺
*ہندوتو کیا ہے؟*
ملک عزیز میں اکثریت ہندوں کی ہے،جو اپنے آپ کو قدیم تہذیب وتمدن اور مذہب وثقافت کا ضامن قرار دیتے ہیں،اور اپنے آپ کو تمام مفاسد سے مبرا،اور انسانیت کا محافظ سمجھتے ہیں؛اگرچہ یہ بات کسی قدر درست ہو؛ لیکن اس کی تہ بتہ دبیز پردوں میں ایسے حقائق و اسرار اور فلسفے و ابہام مرتکز ہیں ؛کہ اس کے رازوں کو وا کرتے کرتے زمانہ گزر جائے،بلکہ سچی بات یہ ہے کہ اسی معمہ کے حل میں صدیاں گزر گئیں اور اب وہ دور آیا ہے؛ کہ اس کی حقیقت کھلی فضا کی طرح بے غبار ہورہی ہے،لیکن افسوس اس فضا میں سانس لینا اور زندگی کا یکساں حقوق رکھنا محال ہے،اس فضا میں ہر کس وناکس اور صاحب عقل و ذی شعور کا دم گھٹ رہا ہے،رگوں میں حرارت اور خون کی روانی بھی جواب دینے کو ہے،ہر سو خوف و ہراس کا عجب ماحول اور روح فرساں و جاں گسل صورت حال پیدا ہوگئی ہے،اور یہ سب محض معدود انگشت افراد کی انانیت،ان کی غیر حقیقی اور دیو مالائی ہندووتو کی برتری کو ثابت کرنے اور اس کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہوئے؛کسی نتیجے کی پرواہ نہ کرنے کاصلہ ہے۔
*ایسے میں یہ جاننا بڑا دلچسپ ہے؛کہ آخر ہندتو کیا ہے؟ ہندوتو لفظ دراصل ہندو سے ماخوذ ہے،سوریہ نارائن را ؤ نے ہندتو کی تعریف ان الفاظ میں کی یے:"وہ کیا عوامل ہیں جنہوں نے اس قوم کو ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ تک باوجود غیر ملکی تسلط کے ایک کئے رکھا،اس کا اپنی قدیم ثقافت،مذہب،روایت اور اپنے آباو اجداد مثلا رشیوں، اچاریوں، شری رام اور شری کرشن پر یقین ہی وہ کلیدی سبب ہے،ان تمام کو ایک لفظ میں سمیٹا جا سکتا ہے اور وہ ہے ہندو پن، ہندوتو"(فکر اسلامی کا ارتقاء ص:۱۷۰ بحوالہ:سوریہ نارائن راو دہلی:۶)،ڈاکٹر اسرار احمد صاحب مرحوم لکھتے ہیں: "۱۸۵۷ء میں ہندوتو نے مستحکم شکل اختیار کرلی،۱۹۶۷ء سے اس کے احیاء کا دور شروع ہوتا ہے،ہندوتو دراصل ہندو دھرم کا وہ فلسفہ ہے جس میں قدامت اور جدیدیت ضم ہوگئی ہیں،اس کے شارحین پرانی کتابوں میں اس کے مطالب تلاش کرتے ہیں اور بیسویں صدی کے ہندو فلاسفر معاصر ہندوستان میں اس کے نفاذ کیلئے راہیں ہموار کرتے نظر آتے ہیں،اس فکر کی تشریح، تعبیر اور تنقید میں تلک،مالویہ، گوکھلے، اروند، ٹیگور،سی آر داس،موتی لال نہرو،گاندھی جی،گرو گولو الکر،دین دیال اپادھیائے اور ڈی بی ٹھینگڑی سب ہی کا کچھ نہ کچھ حصہ دکھائی دیتا ہے"(ہندوتو از:اسرار احمد-ص:۴ تا ۶)*۔
یہی اصل ہندوتو اور یہی اس کی اصل تعریف ہے،مولانا مرحوم نے جن باتوں کی طرف نشاندہی کی وہ سب کی سب ،حرف بحرف صادق ہوتی نظر آرہی ہیں،ہندوتو کے علمبرداروں میں یہ چیزیں ورثہ کے طور منتقل ہورہی ہیں؛بلکہ اسی مقصد کیلئے آر ایس ایس جیسی سنگھی اور مختلف فیہ جماعت کی تشکیل کی گئی تھی،جس نے اس کے قیام (۱۹۲۵ء) سے سالہا سال تک خفیہ سازشوں اور اداروں کے ذریعہ ہندوتو کے نام پر صف بندی کی اور آج حال یہ ہے؛کہ پورا کا پورا ہندوستان زعفرانیت کے رنگ میں رنگا ہوا ہے،امیدیں بر آنے لگیں ہیں؛ بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے؛ کہ اس پیل بد مست کو کوئی روکنے والا نہیں،اس نے ہندوتو کو زعفرانی چوغہ دیدیا اور اب اس کے پس پردہ ملک کو انگریزی اصول وقواعد پر حکومت کرنے اور چپہ چپہ کا حصہ بخرے کردینے کے درپے ہیں؛حالانکہ ہندوتو کی تعریفیں اس کی قطعا اجازت نہیں دیتیں؛لیکن کیا کہیئے طاقت و حکمرانی کا نشہ ہی کچھ اور ہوتا ہے،جس کے سامنے جام سبو بھی پناہ مانگے،جس کے آگے زندگی کی نعمتیں اور زحمتیں بھی ہیچ ہو جاتی ہیں۔
✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.mustafapadarwala.new_sahaafi
Comments
Post a Comment