ملک کا مستقبل کیاہوگا؟؟
ملک کا مستقبل کیاہوگا؟؟
محمد افسر علی
بہار میں کئ دنوں سے اکثر "اےٹی ایم"بالکل خالی ہے۔عوام کے سامنے بڑی پریشانیاں ہیں٬ایک طرف تو کسان کا برا حال ہے دوسری طرف عوام بھی اپنے خون پسینے سے کمائے ہوئے پیسے نہیں نکال پارہے ہیں؛دن بھر میں دس مرتبہ "اے ٹی ایم" کاچکر لگانے کے بعد بھی چار ہزار نہیں نکل پارہے ہیں۔
بیچاری عوام "اے ٹی ایم" سے ناامید ہوکر جب بینک کا چکر کاٹتے ہیں بینک کے ملازم ہزاروں بہانے بناتے ہیں کہ ابھی مظفر پور سے کیش آرہا ہے٬کبھی کہاجاتاہے لنک فیلڈ ہے۔
یہ ملک کہاں جارہاہے٬اس کا مستقبل کیاہے٬یہ تو مورخ ہی لکھے گااور سیاسی لیڈران ہی بتائیں گے٬مگر جو صورتحال ہے اس سے یہی اندازہ ہوتاہے کہ ملک کا مستقبل بہت ہی تاریک ہے۔اپوزیشن پارٹی یا تو بے بس اور لاچارہے یا پھر خاموش تماشادیکھ رہی ہے۔
ایک قضیہ حل نہیں ہوتاکہ دوسرا مسئلہ پورے ملک کو ہلادیتاہے٬زانی کو رہا کرنے کےلئے متأثرہ کے والد تک کو جیل میں قتل کردیا جاتا ہے٬جب حکومت سے مطالبہ کیا جاتاہے تو وہ صرف اس جملے پر اکتفاء کرتے ہیں کہ کسی کو بخشا نہیں جائے گا٬حتی کہ وزیر داخلہ بھی ٹویٹ پر اکتفا کرتے ہیں۔
کچھ لوگ سراپا احتجاج ہیں٬ تو کچھ لوگ جذباتی نعرے میں٬مگر حکومت پر کوئ اثر نہیں۔
ایک ہفتے کے اندر کئ مسئلے اٹھائے گئے۔۔۔سلمان خان سے لیکر ۔۔۔مکہ مسجد تک کا مسئلہ٬ جی ہم اس ملک میں اور دور حکومت میں جی رہے ہیں جہاں ہرن کے شکارکرنے پر الیکٹرانک میڈیا سے لیکر عدالت تک اس کے خلاف آواز بلند کرتاہے.وہی زنا بالجبر٬ ہزاروں انسانوں کے قاتلین کو بچانے کےلئے ان کی زبانیں گنگ ہوجاتی ہیں۔
اگر ان سب کو روکنا ہے تو سیاست میں ایک مقام بناناہو گا ۔اور آگے بڑھنا ہوگا تبھی ہندوستان کا مستقبل تابناک اور روشن ہوسکتاہے۔
Comments
Post a Comment