الاخوان المسلمون
الاخوان المسلمون
منیر احمد خلیلی
حسن البنا رح کی تحریک 'الاخوان المسلمون' کی تاسیس کو 90 برس ہو گئے ہیں۔ 1928 میں تشکیل پانے والی عالم عرب کی اس بے نظیر تحریک کے پس منظر میں ایک طرف خلافت عثمانیہ کے انہدام پر بلند ہونے والے نوحے تھے جو ترکی ہی میں نہیں بلکہ برصغیر پاک و ہند اور خود مصر میں بلند ہو رہے تھے۔ خلافت کے احیا کی ایک مہین سی کوشش مصر میں ہوئی تھی لیکن اس کوشش کی چنگاری پھوٹتے ہی معدوم ہو گئی تھی۔ اجتماعی نظام کی نشانی کے معدوم ہوتے ہی سیکولر فکر کی یلغار شروع ہو گئی تھی۔ بات خلافت کے وجود و عدم وجود سے گزر کر اسلام کے ایک جامع اور زندگی کے ہر پہلو اور شعبے کو شامل نظام ہونے سے انکار تک چلی گئی تھی۔ 1925 میں الازھر کے ایک شیخ علی عبدالرزاق کی کتاب منصہ شہود پر آئی۔ 'الاسلام و اصول الحکم' کے نام سے شائع ہونے والی اس کتاب میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ دین اور سیاست جدا چیزیں ہیں۔ اجتماعی نظام کو قائم کرنے کے لیے خلافت کے ادارے کو برقرار رکھنے کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ 'ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا' والا ہمارے ہاں پھیلنے والا فلسفہ سیخ علی عبدالرزاق کی اس کتاب کا اساسی فلسفہ تھا۔ تصوف کی طرف مائل اس الازھری شیخ نے اسلام کو رسوم عبادات اور فرد کا ذاتی مسئلہ ثابت کرنے کے لیے گویا قلم توڑ دیا تھا۔ لیکن اسلام کے ایک جامع و شامل نظام ہونے کے حقیقی تصور پر اس حملے کا جواب علمی حلقوں نے بھرپور طور پر دیا تھا۔ الازھر نے شیخ علی عبدالرزاق کی مشیخت منسوخ کر دی تھی۔ اگلے ہی سال یعنی 1926 میں شیخ علامہ محمد الخضر حسین نے جو مصر میں انقلاب کے بعد شیخ الازھر بنے تھے 'نقض کتاب الاسلام و اصول الحکم' کے نام سے معرکہ الارا کتاب لکھی۔ اسی سال 1926 میں مفتی دیار المصر محمد بخیت المطیعی کی کتاب 'حقیقہ الاسلام و اصول الحکم' شائع ہوئی۔ اسی سال عبدالرزاق سنھوری کی کتاب 'اصول الحکم فی الاسلام' آئی۔ پھر محمد الطاہر بن عاشور کی کتاب 'نقد علمی لکتاب الاسلام و اصول الحکم' علمی حلقوں میں پہنچی۔ مگر شیخ علی عبدالرزاق کے دفاع میں سیکولر اور مغرب نواز طبقات خم ٹھونک کر میدان میں اترے ہوئے تھے۔ مجموعی طور پر مصر پر جمود طاری تھا۔ حلقہ ہائے روحانیت و صوفیت اپنی خانقاہوں میں مست تھے۔ مغرب کے اثرات پھیل رہے تھے۔ اہل مغرب جانتے تھے کہ علم و ثقافت اور دانش و فکر میں مصر ہی عرب دنیا کا امام ہے۔ مصر کی نظریاتی جون بدلنے کا مطلب سارے مشرق وسطی کی جون بدل دینے کے مترادف تھی۔ حسن البنا رح ان حقائق کو شدت سے محسوس کر رہے تھے۔ پہلے انہوں نے صوفی و ملا دونوں کے حلقوں میں جا کر انہیں جگانے کی سعی کی۔ ان کے کانوں میں بیداری ک اذانیں دیں ۔ جب ان میں گرمی فکر اور حرارت احساس کی چنگاریاں بجھی ہوئی دیکھیں تو پھر ایک عزم کے ساتھ اٹھے اور الاخوان المسلمون کی بنیاد رکھی۔ اس تنظیم کا امتیاز یہ ہے کہ مضبوط تنظیمی ڈھانچے کے ساتھ اد نے ایک طرف ریاست و سیاست کو اپنی جدوجہد کا میدان بنایا اور دوسری طرف ذہنی تبدیلی کے لیے علم و فکر کے چراغ روشن کیے۔ اہل قلم کا ایک لشکر کھڑا کر دیا جس نے مغرب سے اسلام کے بارے میں آنے والے ہر اعتراض اور سوال کا جواب دیا اور اور ساتھ ہی اقدامی طور پر مغرب کی تہذیب اور اجتماعی نظام کے کھوکھلے پن کو واضح کیا۔ دوسری طرف اپنے متعلقین و متوسلین کی روحانی و باطنی اصلاح و تربیت کا ایک حکیمانہ لائحہ عمل ترتیب دیا۔ گویا اہل تصوف اور موجودہ فکری محاذ پر 'دین فرد کی اصلاح کا نام ہے' کے فلسفے کا بھی مسکت جواب فراہم کیا کہ ایک مومن اپنی اصلاح ہی تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ اپنے سماج اور سیاسی و اجتماعی نظام کو اسلام کی روشنی میں بدلنے کا بھی مکلف ہے۔ اج 90 سال ہو رہے ہیں۔ سرخ و سفید سامراج اور اس کے تابع حکمرانوں، سیاسی گروہوں، صوفیوں اور سلفیوں نے اور الازھر کی مشیخت نے اور لادین میڈیا نے اور اسرائیل نواز لابیوں نے اسے مٹانے کی ساری کوششیں کر دیکھیں۔ 65/66 سال سے یہ تنظیم قانونی طور مصر میں کالعدم ہے، ملازمتوں سے محرومی، کاروبار کی تباہی، جیلوں کی سلاخوں،اذیتوں اور ایذا رسانیوں، پھانسیوں اور قید و بند کی گھٹن کا ہر حربہ آزمایا جا چکا ہے اس وقت بھی اس کے ضعیف العمر اور بیمار مرشد عام محمد بدیع سمیت پوری قیادت اور ہزاروں کارکن جیلوں میں بند ہیں۔ اس کی طرف سے مصر کی گزشتہ 66 سالہ تاریخ میں پہلا منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی بھی پابند سلاسل اور پس دیوار زنداں ہے لیکن اس با صفا اور پر عزیمت جماعت کے استقلال کی دیوار کو منہدم نہیں کیا جا سکا ہے۔ دنیا کے ہر دیندار مسلمان اور اسلام کے غلبے کے لیے سرگرم تنظیم اور گروہ کے لیے اخوان ایک عظیم مثال ہیں۔ اللہ ان کا حامی و ناصر ہو۔ وہی ان کو ابتلا و آزمائش سے نجات بخشنے پر قادر ہے۔ اے اخوان ہماری دعائیں اور نیک تمنائیں تمہارے ساتھ ہیں۔
Comments
Post a Comment