مسلم ماں بیٹی عصمت دری و قتل معاملہ اورنگ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف داخل اپیل سپریم کورٹ میں سماعت کے لیئے قبول

مسلم ماں بیٹی عصمت دری و قتل معاملہ اورنگ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف داخل اپیل سپریم کورٹ میں سماعت کے لیئے قبول

ممبئی10؍ اپریل( پریس ریلیز )مہاراشٹر کے علاقے مراٹھواڑہ کے ضلع بیڑ کے ماجل گاؤں علاقے کے قصبہ چورمبھا میں مسلم ماں اور بیٹی کو عصمت دری کے بعد قتل کردیئے جانے والے معاملے میں ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ سے راحت پانے والے دو غیر مسلموں کے خلاف جمعیۃ علماء کے توسط سے سپریم کورٹ میں د اخل عرضداشت کو آج عدالت نے سماعت کے لیئے قبول کرتے ہو ئے دونوں غیر مسلم ملزمین اور مہاراشٹر حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے ۔ ، یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی ۔
گلزار اعظمی نے بتایا کہ قتل اور عصمت دری کے معاملے میں نچلی عدالت سے پھانسی کی سزا پانے والے دو غیر مسلم کرشنا راؤ ریڈی اور اچرت کچرو چونچے کو گذشتہ سال ۱۴؍ اگست کو ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ کے جسٹس ایس ایس شند ے اور جسٹس کے کے سونونے نے نا کافی ثبوت کی بناء پر پھانسی کی سزا کو معطل کرتے ہوئے انہیں باعزت رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے جس کے بعد علاقے کی عوام خصوصاً مسلمانو ں میں شدیدبے چینی پائی جارہی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ استغاثہ کے مشتبہ رویہ اداکرنے سے ملزمین کو راحت ملی کیونکہ اس نے ہائی کورٹ میں پوری شدت سے بحث نہیں کی نیز اگر سرکاری وکیل ایمانداری سے کام کرتا تو ملزمین کو پھانسی کی سزا سے کوئی بچا نہیں سکتا تھا کیونکہ دونوں ملزموں نے مسلم ماں بیٹی کا ریپ کرنے کے بعد انہیں بے رحمی سے قتل کردیا تھا ۔ 
گلزار اعظمی نے کہا کہ علاقے کے مسلمانوں نے جمعیۃ علماء کے مقامی ذمہ داران سے رابطہ قائم کیا اور جمعیۃ علماء لیگل سیل سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی گذارش کی کیونکہ ریاستی سرکار ملزمین کے خلاف ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے سے ٹال مٹول کا مظاہرہ کررہی تھی جس کے بعد جمعیۃ علماء نے از خود معاملہ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے دونوں ملزموں کی رہائی کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی جس دو ران سپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس وی این رمننا اور جسٹس عبدالنظیر نے دونوں ملزم اور ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا، ایڈوکیٹ گورو اگروال نے جمعیۃ علماء کی جانب سے عدالت میں اپنے دلائل پیش کیئے۔ 
گلزار اعظمی نے مقدمہ کے تعلق سے مزید بتایا کہ ۲۸؍ مئی ۲۰۱۵ء کو ملزموں نے نورجہاں (۵۵) اور پروین (۱۴) کو کھیت میں واقع ان کے گھر میں عصمت دری کرنے کے بعد قتل کردیا تھا جس کے بعد پولس نے مقدمہ قائم کرکے اسپیشل عدالت میں تیزی سے مقدمہ کی سماعت مکمل کرائی جس کے دوران خصوصی جج ایم وی مورالے نے ملزمین کو تعزیرات ہند کی دفعات 376.302 اور پاکسو قانونی کی مختلف دفعات کے تحت قصور پایا تھا اور انہیں پھانسی کی سزا دیئے جانے کا فیصلہ سنایا تھا جس کے بعد ملزمین نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جہاں استغاثہ کے مشتبہ کردار کی وجہ سے ملزمین کو راحت حاصل ہوئی اور انہیں شک کا فائدہ دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے باعزت بری کردیا گیا تھا ۔ .
تادم تحریر ریاستی حکومت نے ملزمین کی رہائی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجو ع نہیں کیا ہے جو اس بات کا اشارہ ہیکہ ریاستی حکومت کی ملی بھگت سے ملزمین کو ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ نے راحت دی تھ

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

مولانا عبداللہ کاپودروی کی مختصر سوانح