ہاں میں سید احمد بخاری ہوں۔۔۔۔!

ہاں میں سید احمد بخاری ہوں۔۔۔۔!
نازش ہما قاسمی
  ہاں! میں سید احمد بخاری ہوں، جی ہاں وہی سید احمد بخاری ہوں جو امام بخاری کے نام سے مشہور ہے ۔۔۔میں جامع مسجد دہلی کا امام ہوں۔۔۔بادشاہت تو ہندوستان سے ختم ہوگئی؛ لیکن پھر بھی میں شاہی امام ہوں۔۔۔ہمارے پردادا سید عبد الغفور شاہ بخاری کو مغل شہنشاہ شاہجہاں کی درخواست پر بخارا کے شاہ نے بخارا، سمرقند سے ہندوستان بھیجا تاکہ دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام بن سکیں۔۔۔انہوں نے 1656میں جامع مسجد میں پہلی نماز کی امامت کی۔ میں 1973 میں نائب شاہی امام بنا اور 2000میں شاہی امام منتخب ہوا ۔۔۔ جب سے میں آج تک شاہی امام ہوں۔۔۔جامع مسجد کی امامت تقریباً چار سو سالوں سے ہماری نسل میں چلی آرہی ہے۔۔اور امید ہے کہ یہ سلسلہ دراز سے درازتر ہوتا ہی جائے گا۔۔۔میں نے اپنے بیٹے شعبان بخاری کو2014میں جانشین مقرر کیا وہ جامع مسجد کے 14؍ویں امام ہیں اور میں 13واں امام ہوں۔۔۔!  میرے والد محترم امام عبداللہ بخاری تقریباً ۵۵ سال تک جامع مسجد کے امام رہے۔ امامت تو ان کے بعد مجھے مل گئی؛ لیکن ان کی کئی صفات میرے اندر نہیں آپائیں۔  مثلاً وہ سیاست سے دور تھے۔۔۔ میں سیاست سے قریب ہوں۔۔۔  انہوں نے قوم کی خدمت کی اور قوم انہیں رہنما تسلیم کرتی تھی، میں بھی قوم کی خدمت مفاد پرستی کی خاطر کرناچاہتا ہوں؛ لیکن میرا  یہ حال ہے کہ قوم مجھے رہنما نہیں تسلیم کرتی ۔۔۔۔اب تو میرا یہ حال ہوگیا ہے کہ چاند کے سلسلے میں بھی قوم میری رائے تسلیم نہیں کرتی۔۔۔۔امارت شرعیہ والوں کو ہی تسلیم کرتی ہے کہ ان کی ہی رائے بہتر ہوگی۔
ہاں! میں وہی امام بخاری ہوں جو گاہے گاہے بیانات دے کر سرخیاں بٹورتا رہتاہوں؛ کیونکہ ایک بڑی جگہ سے وابستہ ہوں۔۔۔میرے والد کا قول تھا کہ میں کسی سیاسی پارٹی کا کارکن بن کر ’’بھونپو‘‘ نہیں بن سکتا؛ لیکن میں الیکشن کے قریب کبھی کانگریس تو کبھی ایس پی تو کبھی بی ایس پی کا ’’بھونپو‘‘ بن کر قوم سے اپیل کرتا ہوں۔
ہاں! میں وہی شاہی امام ہوں جس پر 2014میں نماز مغرب کے دوران تیل کی بوتل پھینک کر جان لیوا حملہ کیاگیا تھا؛ لیکن میں محفوظ رہا۔ ہاں میں وہی امام بخاری ہوں جس نے 2016میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرکے مسلم بچوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ رہائی کا مطالبہ تو محض بہانہ تھا مقصد تو قرب پانا تھا۔۔؛ کیوں کہ اس کے بعد سے ہی ماب لنچنگ کا سلسلہ شروع ہوا اور مسلم بچے رہا کیا ہوتے؛ بلکہ موت کی نیند سلائے جانے لگے۔
ہاں! میں وہی شاہی امام ہوں جس نے حکومت وقت کو للکارتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے صبر کا مزید امتحان نہ لیاجائے۔۔ہاں میں وہی شاہی امام ہوں جو اب بھی رام مندر اور بابری مسجد کا قضیہ کورٹ کے باہر حل کرنے پر یقین رکھتا ہوں۔ ہاں میں وہی شاہی امام بخاری ہوں جس پر اعظم خان نے کہا تھا کہ’’ مسلمانوں میں امام بخاری کی کیا حیثیت ہے وہ اپنے داماد کو تو جتا نہیں پائے ان کی ضمانت تک ضبط ہوگئی، اپنے داماد کی ضمانت ضبط ہونے کے بعد ہی انہیں اپنی حیثیت کا اندازہ لگا لیناچاہئے‘‘۔ اعظم خان نے مجھے یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ ’’میں دہلی کے جامع مسجد علاقے میں ہی خدمات انجام دوں، اور زیادہ سے زیادہ پریشد جتوائوں ‘‘۔ لیکن میں نے ان کا مشورہ نہیں مانا۔۔۔اور قومی خدمات کا جو جذبہ میرے اندر موجزن تھا وہ ٹھاٹھیں مارتا رہا؛ اس لیے میں گاہے گاہے قوم کے لیے بیانات داغ کر انہیں اپنی عظمت کا احساس دلاتا رہتا ہوں۔۔؛ لیکن قوم ہے کہ مجھے مانتی ہی نہیں۔۔۔وہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے قائدین کو مانتی ہے۔ وہ جمعیۃ علما کو رہبر مانتی ہے۔وہ جماعت اسلامی ہند کے ساتھ ہے۔۔۔ وہ رضا اکیڈمی کے ساتھ ہے۔۔۔وہ جمعیت اہل حدیث کے ساتھ ہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ بکھرنے کے بجائے میری حمایت کرتی، مجھے رہبر تسلیم کرتی اور میں ان کا بے لوث خادم بن کر ان کی خدمت کرتا، انہیں آسانیاں وسہولیات دلاتا۔۔۔
ہاں! میں وہی امام بخاری ہوں جس نے ہمیشہ جمہور علماء کی رائے سے اختلاف کیا۔۔۔میں تفرد اپناناچاہتا ہوں۔۔۔جب بھی دیکھتا ہوں کہ جمہور علما کسی کے خلاف ہیں میں ان کے خلاف ہوجاتا ہوں۔۔۔جب بھی ان کی آرا کسی مسئلے میں ایک ہوتی ہے میں ان سے اختلاف کرکے اپنا تفرد قائم کرتا ہوں۔۔۔فی الحال میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے پیچھے پڑا ہوا ہوں۔۔۔میرا کہنا ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ نے عورتوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے، یہ سراسر غیر شرعی ہے۔۔۔یہ ایک بدعت ہے۔۔۔حالانکہ میں روزانہ جامع مسجد میں دیکھتا ہوں کھلے بال۔۔ننگے سر۔۔۔ مسلم وغیر مسلم آدھے کپڑوں میں ملبوس خواتین جامع مسجد میں تفریح کررہی ہوتی ہیں وہ میرے نزدیک غلط نہیں ہے؛ کیوں کہ اس سے آمدنی ہوتی ہے۔۔۔اس سے سرمایہ بڑھتا ہے۔۔۔؛ اس لیے یہ غلط نہیں، اس سے مسجد کی حرمت پامال نہیں ہوتی؛ کیوں کہ جامع مسجد محض مسجد ہی نہیں ایک تفریح گاہ بھی ہے اور میں اسی تفریح گاہ کا امام ہوں، میری حیثیت تو اب آپ سمجھ ہی گئے ہونگے ۔۔۔بورڈ  خواتین کو سڑکوں پر لاکر  اپنی ہزیمت کو چھپانے کی ناکام کوشش کررہا ہے، طلاق ثلاثہ بل کے خلاف خواتین کا استعمال کررہا ہے ۔۔۔بورڈ کو چند لوگوں نے یرغمال بنالیا ہے۔۔ یہ مظاہرے اسلامی شعار کی مکمل خلاف ورزی اور چادر اور چہار دیواری کے سلسلۂ اصول کے منافی ہیں۔۔۔رمضان میں بڑی تعداد میں جامع مسجد کے اندر مسلمان عورتیں افطار کرتی ہیں، مردوں کے ہمراہ یہ بدعت نہیں ہے۔۔۔یہ بے پردگی نہیں ہے۔۔۔؛ لیکن باپردہ خواتین شریعت کی حفاظت میں جو نکل رہی ہیں وہ میرے نزدیک غلط ہے سراسر غلط ہے ایسا نہیں ہوناچاہئے ۔۔۔۔؛کیوں کہ اس سے حکومت کی منشا پوری نہیں ہوگی۔۔۔دنیا جان لے گی کہ مسلم عورتیں طلاق ثلاثہ بل کے خلاف ہیں اور میں یہ نہیں چاہتا کہ دنیا جانے کیوں کہ میں ایک سیاسی امام ہوں۔۔۔اور سیاست میں برسراقتدار طاقت کی ہمنوائی کرنا ہی شاہی امام کا مشغلہ ہے۔۔۔!
۔۔۔منکووووووول۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن