آل_سعود_کی_حقیقت:#حیران_کن_انکشافات!
#آل_سعود_کی_حقیقت:#حیران_کن_انکشافات! – قندیل
ترجمہ:فاروق طارق
سعودی عرب دنیا کی وہ واحد مملکت ہے جس کا نام کسی خاندان کے نام پر ہے،سعودی عرب پر فرماں روا خاندان آل سعود کا پس منظر کیا ہے؟اس خاندان کے آبا و اجداد کون ہیں؟اس خاندان کا تعلق کیا واقعی عرب کے مشہور خاندان عنزہ سے ہے جیسا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے؟کیا آل سعود حقیقت میں عربی النسل ہیں؟ یا یہ کسی اور خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور کیا ان کے آباو اجداد مسلمان تھے یا ان کا تعلق کسی دوسرے مذہب سے تھا؟یہ وہ تمام سوالات تھے جو تحقیق طلب تھے؛چنانچہ اس تحقیق کا بیڑا محمد ساخر نے اٹھایا،محمد ساخر کی یہ ریسرچ اس کے لیے موت کا پروانہ لے کر آئی اور سعودی حکام نے اپنی اصل حقیقت سامنے آنے پر اس شخص کو سزاے موت دے دی۔
محمد ساخر کی ریسرچ:
851ھ میں قبیلۂ عنزہ کی ایک شاخ آلِ مسالیخ سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے ایک تجارتی کارواں تشکیل دیا، جس کا مقصد عراق سے غذائی اجناس خرید کر انھیں نجد لانا تھا،اس قافلے کا سالار سامی بن مثلول تھا،اس قافلے کا گزر جب بصرہ کے بازار سے ہوا، تو قافلے کے کچھ لوگوں نے اشیاے خوردونوش خریدنے کے لیے بصرہ کے بازار کا رخ کیا،وہاں وہ ایک تاجر کے پاس پہنچے،یہ تاجر یہودی تھا،اس کا نام مردخائی بن ابراہیم بن موسیٰ تھا،خریدو فروخت کے دوران اس تاجر نے ان لوگوں سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟انہوں نے جواب دیا کہ ان کا تعلق عنزہ قبیلے کی ایک شاخ آل مسالیخ سے ہے،یہ نام سننا تھا کہ یہودی کھڑا ہوا اور وہ ان میں سے ہر فرد سے بڑے تپاک کے ساتھ گلے ملا،اس نے بتایا کہ وہ خود اس قبیلے کی شاخ سے تعلق رکھتا ہے؛ لیکن اپنے والد کے عنزہ قبیلے کے بعض افراد سے ایک خاندانی جھگڑے کی وجہ سے اس نے بصرہ میں آکر رہائش اختیار کر لی،اس نے اپنے خادموں کو حکم دیا کہ قافلے والوں کے تمام اونٹوں پر گندم،کھجور اور چاول کی بوریاں لاد دو،یہودی تاجر کے اس رویے نے قافلے والوں کو حیران کر دیا،وہ انتہائی خوش ہوئے کہ عراق میں ان کے ایک خاندان کا فرد مل گیا ہے،جو ان کے رزق کا وسیلہ ہے،انہوں نے اس کی ہر بات پر من و عن یقین کر لیا،اگرچہ وہ تاجر یہودی تھا ؛لیکن چونکہ مسالیخ قبیلے کے لوگوں کو اناج کی شدید ضرورت تھی؛ لہٰذا انہوں نے اس کی مہمان نوازی کو اپنے لیے غنیمت جانا،جب قافلہ واپسی کے لیے رخت سفر باندھ رہا تھا، تو اس نے اہلِ قافلہ سے درخواست کی کہ وہ اگر اسے بھی اپنے ہمراہ لے لیں تو یہ اس کے لیے بڑی خوش بختی ہوگی؛کیونکہ اس کی عرصہ دراز سے خواہش ہے کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے وطن کو دیکھے،نجد پہنچ کر اس نے لوگوں سے راہ و رسم بڑھانا شروع کر دی اور کئی افراد کو اپنی چرب زبانی کی بنا پر اپنے حلقۂ اثر میں لانے میں کامیاب ہوگیا؛لیکن غیر متوقع طور پر اسے وہاں القسیم سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی رہنماشیخ صالح السلمان العبد اللہ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا،اس مذہبی عالم کی تبلیغ کا دائرہ نجد،یمن اور حجاز تک پھیلا ہوا تھا،یہودی کو اس شخص کی مخالفت کی وجہ سے مجبوراً یہ علاقہ چھوڑنا پڑا اور وہ القسیم سے الاحیاء آگیا،یہاں آکر اس نے اپنا نام تبدیل کر دیا اور ’’مردخائی‘‘ سے مرخان بن ابراہیم موسیٰ بن گیا،پھر وہ یہاں سے القطیف کے قریب ایک علاقہ درعیہ میں قیام پذیر ہوگیا،یہاں اس نے مقامی باشندوں میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے ایک من گھڑت کہانی کا سہارا لیا،کہانی یہ تھی کہ رسول اللہؐ کے زمانے میں مسلمانوں اور کفار کے مابین لڑی جانے والی جنگ احد میں ایک کافر کے ہاتھ رسول پاکؐ کی ڈھال لگ گئی،اس کافر نے یہ ڈھال بنو قینقاع کے ہاتھ فروخت کر دی،بنو قینقاع نے اسے ایک بیش بہا خزانہ سمجھتے ہوئے اپنے پاس محفوظ رکھا،یہودی تاجر نے اس علاقے کے بدوؤں کے درمیان اس طرح کی کہانیاں پھیلانا شروع کر دیں،ان من گھڑت کہانیوں کے ذریعے وہ یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ عربوں میں یہودی قبائل کاکتنا اثر ہے اور وہ کس قدر لائقِ احترام ہیں،اس نے اس طریقے سے عرب دیہاتیوں،خانہ بدوشوں،بدوؤں اور سادہ لوح افراد میں اپنا ایک مقام و مرتبہ بنا لیا،آخر اس نے ارادہ کر لیا کہ وہ مستقل طور پر القطیف کے قریب درعیہ قصبے میں قیام کرے گااور اسے اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنائے گا،اس کے خیال میں یہ علاقہ عرب میں بڑی یہودی سلطنت کے قیام کے لیے راہ ہموار کرنے والاتھا،اپنے ان مقاصد کی تکمیل کے لیے اس نے عرب کے صحرائی بدوؤں سے روابط شروع کر دیے،اس نے اپنے آپ کو ان لوگوں کا ملک یعنی بادشاہ کہلوانا شروع کر دیا،اس موقع پر دو قبائل قبیلۂ عجمان اور قبیلۂ بنو خالد اس یہودی کی اصلیت کو جان گئے اور فیصلہ کیا کہ اس فتنے کو یہیں ختم کر دیا جائے،دونوں قبائل نے باہم اس کے مرکز درعیہ پر حملہ کر دیا اور اس قصبے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی،جبکہ مرد خائی جان بچا کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیااور العارض کے نزدیک المالی بید غثیبہ کے نام سے ایک فارم میں پناہ لی یہی العارض آج ریاض کے نام سے جانا جاتا ہے، جو سعودی عرب کا دارالخلافہ ہے،مرد خائی نے اس فارم کے مالک ، جو بہت بڑا زمیندار تھا، سے درخواست کی کہ وہ اسے پنا ہ دے،فارم کا مالک اتنا مہمان نواز تھا کہ اس نے مرد خائی کی درخواست قبول کر لی اور اسے اپنے ہاں پناہ دے دی؛ لیکن مردخائی کو اپنے میزبان کے پاس ٹھہرے ہوئے ایک ماہ ہی گزرا تھا کہ اس نے اپنے محسن اور اس کے اہل خانہ کو قتل کردیا اور بہانہ یہ کیاکہ ان تمام کو چوروں کے ایک گروہ نے قتل کیا ہے،اس کے ساتھ ہی اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس افسوس ناک واقعہ سے قبل اس نے اس زمیندار سے اس کی تمام جائیداد خرید لی تھی،لہٰذا اب اس کا حق بنتا ہے کہ اب وہ یہاں ایک بڑے زمیندار کی حیثیت رہے،مرد خائی نے اس جگہ پر قبضہ جمالینے کے بعد اس کا نام تبدیل کر کے اپنے پرانے کھوئے ہوئے علاقے کے نام پر آل درعیہ رکھااور اس غصب شدہ زمین پر فوراً ہی ایک بڑا مہمان خانہ تعمیر کروایا، جس کا نام اس نے مضافہ رکھا،یہاں رہتے ہوئے اس نے آہستہ آہستہ اپنے مرید ین کا ایک حلقہ بنا لیا، جنہوں نے لوگوں کے درمیان یہ غلط طور پر مشہور کرنا شروع کر دیا کہ مرد خائی ایک مشہور عرب شیخ ہے،کچھ عرصے بعد اس نے اپنے اصل دشمن شیخ صالح سلمان عبداللہ التمیمی کو ایک منصوبے کے تحت قصبہ آل زلافی کی مسجد میں قتل کرا دیا،اس اقدام کے بعد وہ ہر طرف سے مطمئن ہوگیا اور درعیہ کو اپنا مستقل ٹھکانا بنا لیا،درعیہ میں اس نے کئی شادیاں کیں، جن کے نتیجے میں وہ درجنوں بچوں کا باپ بنا،اس نے اپنے ان تمام بیٹے بیٹیوں کے نام خالص عرب ناموں پر رکھے،یہودی مردخائی کی یہ اولاد ایک بڑے عرب خاندان کی شکل اختیار کر گئی،اس خاندان کے لوگوں نے مردخائی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے غیر قانونی طریقے سے لوگوں کی زمینیں ہتھیانا شروع کردیں اور ان کے فارموں پر قبضہ کرنا شروع کردیا،اب یہ اس قدر طاقتور ہوگئے کہ جو کوئی بھی ان کی شر انگیزیوں کے خلاف آواز اٹھاتا اسے قتل کر وا دیتے،یہ اپنے مخالف کو زیر کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتے،اپنے اثرورسوخ کو مزید بڑھانے کے لیے انہوں نے رابعہ عنزہ اور المسالیخ جیسے مشہور عرب قبائل کو اپنی بیٹیاں دیں، مرد خائی کے لاتعداد بیٹوں میں سے ایک بیٹے کا نام المقارن تھا،المقارن کے ہاں پہلا بیٹا پیدا ہوا، جس کا نام محمد رکھا گیا تھا،محمد کے بعد المقارن کے ہاں اس کے دوسرے بیٹے نے جنم لیا جس کا نام سعود رکھا گیا،یہودی مردخائی کے اسی بیٹے کی نسل بعد میں آل سعود کہلائی۔
سعود کی اولاد نے اس کے بعد عرب قبائل کے چیدہ چیدہ افراد کو قتل کرنا شروع کر دیا، ان پر الزام یہ لگایا کہ یہ لوگ قرآنی تعلیمات سے رو گرداں ہوگئے ہیں؛لہٰذا اسلامی قوانین کے تحت یہ مرتد ہیں اور مرتد کی سزا موت ہے،سعودی خاندان یا آل سعود کے اپنے درباریوں کے مطابق اور سعودیوں کے نزدیک اس وقت کے نجد کے تمام لوگ گستاخانِ اسلام تھے؛لہٰذا ان سب کو قتل کر دینا چاہیے،ان کی جائیدادوں کو ضبط کرلینا اور ان کی عورتوں کو لونڈیاں بنا لینا جائز ہے،ان کے نزدیک وہ شخص جو محمد بن عبدالوہاب (اس کے آباؤ اجداد بھی ترکی کے یہودی تھے)کے عقیدے سے متفق نہیں ہے ،وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے،محمد بن عبدالوہاب کی تعلیمات کے مطابق سعودی خاندان کو اس امر کی اجازت تھی کہ وہ اپنے مخالفین کے دیہاتوں کو مسمار کریں،ان کی عورتوں اور بچوں کا قتل عام کریں ،ان کی خواتین کی عصمت دری کریں،حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کر کے ان کے بچوں کے ہاتھ کاٹ دیں اور پھر انہیں جلادیں،اس وحشی خاندان نے مذہب(وہابیت) کے نام پر یہ تمام جرائم کیے،عقیدۂ وہابیت ،جو حقیقت میں ایک یہودی کی تخلیق تھا اور جس کا مقصد مسلمانوں کے اندر انتہا پسندی اور دہشت گردی اور فرقہ واریت کے بیج بونا تھا،اس کے پیرو کاروں نے 1163ہجری سے آج تک قتل و غارت کا ایک بازار گرم کیا ہوا ہے،آل سعود کا اسلامی تاریخ کے ساتھ ایک اور ظلم یہ ہے کہ اس نے حجاز کا نام بھی تبدیل کر کے اپنے خاندانی نام پر سعودی عرب رکھ دیا، گویا یہ تمام خطہ ان کی ذاتی ملکیت ہے اور اس کے باشندے ان کے ذاتی غلام ہیں،اپنے آقاؤں کی خوشنودی کے لئے شب ور وز ایک کیے ہوئے ہیں،سعودی خاندان اس ملک کے تمام قدرتی وسائل کو اپنی ذاتی جائیداد سمجھتے ہیں،اگر کوئی عام شخص اس خاندان کے کسی فرد کے خلاف آواز اٹھائے، تو سر عام اس کا سر قلم کر دیا جاتا ہے،ایک دفعہ ایک سعودی شہزادی نے اپنے مصاحبوں کے ساتھ امریکہ کا دورہ کیا،جہاں فلوریڈا کے ایک ہوٹل میں اس نے90 کمرے بک کرائے، جن کا ایک رات کا کرایہ ایک ملین ڈالر تھا،کیا کوئی سعودی شہری دولت کے اس اسراف پر زبان سے ایک لفظ بھی کہہ سکتا ہے؟اگر کہے گا تو اس کا انجام ہر کوئی جانتا ہے،یعنی کسی چوراہے پر سب کے سامنے جلاد کے ہاتھوں اس کے سر کی تن سے جدائی۔
آل سعود کے یہودی النسل ہونے کے گواہان:
1960ء میں مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے ریڈیو اسٹیشن ’’صوت العرب‘‘ اور یمن کے دارالحکومت صنعا کے ریڈیو اسٹیشن نے اس بات کی تصدیق کی کہ آل سعود کے آباو اجداد یہودی تھے،سعودی بادشاہ شاہ فیصل نے 17 ستمبر1969ء کو واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں تسلیم کیا کہ اس کے آباؤ اجدا د یہودی تھے۔آل سعود کے ایک قانونی مشیرحافظ واہی نے جزیرۃ العرب کے نام سے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ شاہ عبد العزیز السعود (م:1953ء ) نے ایک دفعہ ایک واقعہ سنایا اور کہا کہ ہمارے تمام مخالف قبیلوں کے لیے اس واقعے میں ایک عبرت کا سامان ہے،واقعہ یہ ہے کہ میرے دادا سعود اول نے ایک دفعہ اپنے مخالف قبیلہ مثیر کے کئی افراد کو گرفتار کر لیا اور جب اس قبیلے کے افراد کا ایک گروہ ان کے پاس ان لوگوں کی رہائی کی سفارش لے کر آیا تو اپنے جلادوں کو حکم دیا کہ وہ ان تمام قیدیوں کے سر کاٹ دے،پھر اس نے ان قیدیوں کی سفارش کے لیے آنے والے لوگوں سے کہا کہ میں نے آپ کے لیے ایک عمدہ ضیافت کا اہتمام کیا ہے؛چنانچہ دستر خوان بچھایا گیا اور دستر خوان پر جو طشت رکھے گئے ،ان میں ان قیدیوں کے جسموں کے بھنے ہوئے اعضا اور ان کے اوپر ان قیدیوں کے سروں کو سجا کر رکھا گیا تھا،سعود اول نے سفارش کے لیے آنے والے ان قبائلیوں کو کہا کہ کھانا تناول فرمائیں،قبائیلیوں نے اپنے بھائیوں کا گوشت کھانے سے انکار کر دیا تو انہیں بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا،یہ اور اس طر ح کے کئی مظالم ہیں جو آل سعودنے ان لوگوں کے ساتھ کیے ہیں ،جنہوں نے ان کی ناجائز حکمرانی کے خلاف ذرا بھی آواز اٹھائی۔
حافظ واہی نے اس طرح کا ایک اور واقعہ سنایاکہ جب اسی قبیلے کے سردار فیصل الدرویش کو گرفتار کیا گیا،قبیلے کے سرکردہ شیوخ اپنے سردار کی رہائی کی سفارش لے کر سعود اول کے پاس آئے،بادشاہ نے ان شیوخ کو انہی کی طرح پہلے آنے والے سفارشیوں کے گروہ کی داستان عبرت سنائی اور ان سے کہا کہ تمہارے ساتھ بھی یہی سلوک ہو سکتا ہے،بادشاہ نے فیصل الدرویش کو ان کی سفارش کے باوجود قتل کر دیا اور جب یہ لوگ نماز کی ادائیگی کی تیاری کرنے لگے تو انہیں وضو کے لیے فیصل درویش کا خون پیش کیا گیا۔فیصل درویش کا جرم یہ تھا کہ اس نے عبدالعزیزالسعود کے انگریزوں کے ساتھ اس معاہدے پر تنقید کی تھی، جس کے تحت فلسطین کو یہودیوں کے سپرد کر دیا گیا تھا،سعود اول نے اس معاہدے کے دستاویزات پر دستخط1922ء میںAl-Agerمیں ہونے والی ایک کانفرنس میں کیے تھے،یہ وہ تمام تصدیق شدہ حقائق ہیں، جو صفحاتِ تاریخ پر محفوظ ہیں،آل سعود نے وہابیت کی چھتری تلے جن جرائم کا ارتکاب کیا ہے، وہ دل دہلا دینے والے ہیں،آل سعود لاکھ اپنی اصلیت کو چھپائیں ؛لیکن ان کے یہ جرائم ان کے چہرے سے نقاب اتارنے کے لیے کافی ہیں،ایک نہ ایک دن بہرحال انہیں اس کا حساب دینا ہے۔
Comments
Post a Comment