بولتے کیوں نہیں، آصفہ کے حق میں؟

*بولتے کیوں نہیں، آصفہ کے حق میں؟*

دل کے بیتاب ٹکڑے صفحات پر کیسے بکھیروں؟ اور کیوں کر بکھیروں؟ اس کے خون ہونے کو کیسے دکھاؤں؟ اور کیوں کر دکھاؤں؟ دلوں کے زخم اور اس کے ناسور ہی زندگی کی علامات ہیں ، انہی کے دم سے کائنات کے نیم مردہ جسم میں زندگی کا خون رواں دواں رہتا ہے، یہی خون جگر ہے جس کی موجودگی دل کو زندہ و تابندہ رکھتی ہے،
گر دل ان زخموں اور ناسور کی آمیزش کے ساتھ خون کی پمپنگ نہ کرے تو سمجھ لینا چاہیے کہ دل مردہ ہے، روح جسم میں ہوتے ہوئے بھی،  اپنی حقیقت سے خالی ہے اور اس بے جان روح کے ساتھ جسم ایک لاش کی مانند ہے۔
کٹھوا کی رہنی والی آصفہ کچھ مہینہ قبل اپنے بچپن کے ساتھ کھیل کود میں مست تھی، وہ بھی دیگر بچوں، بچیوں کی طرح اپنا بچپن انجوائے کررہی تھی،
دل میں طرح طرح کی امنگیں لیے وہ بھی ہواؤں سے باتیں کرنے میں مگن تھی،
وہ چرواہی بچی، اپنی معصومانہ حسن و ادا کے ساتھ فطرت کی ہر چیز سے مخاطب ہوتی اور اسے اپنی بچپن کی کلکاریوں اور اٹھکیلیوں میں شریک کرتی،
*لیکن یہ کیا؟* اچانک کچھ بھیڑیا صفت انسان اس نازک کلی کو اپنی ہوس کا شکار بناتے ہیں،  اور اس کے ساتھ ہر اس وحشیانہ و سنگ دلانہ سلوک کو روا رکھتے ہیں جس کے تصور سے انسانی روح کانپ اٹھے،
ہم نے یہ تو سنا تھا کہ انسان اس وقت حیوان بن جاتا ہے جب شیطان اس پر پوری طرح مسلط ہوجاتا ہے لیکن اس دلدوز اور انسانیت سوز واقعہ کے بعد معلوم ہوا کہ اسے حیوانیت سے بھی  تعبیر کرنا اس کی سنگینی کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہے،
اس بے چاری کے ساتھ ایک بار عصمت دری کے بعد اسے مندر لے جایا جاتا ہے اور وہاں اسے آٹھ دن رکھ کر اس کے ساتھ وہ کچھ کیا جاتا ہے جس کا خیال بھی ایک معمولی شخص کو لرزہ براندام کردے،
اسے وقفہ وقفہ سے خالی پیٹ تین انجیکشن دئیے جاتے ہیں، تین بار اس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری ہوتی ہے حتی کہ جب اس کے جسم سے روح پرواز کرچکی ہوتی ہے تب بھی ایک خبیث، ملعون اور ننگ انسانیت شخص کہتا ہے کہ مجھے ایک مرتبہ اور اپنی خواہش پوری کرنی ہے،
اور اس پر بھی بس نہیں ہوتا بلکہ اس کے بعد اس کے سر پر دو پتھر مارے جاتے ہیں تا کہ اس کی شناخت کو مکمل طور پر مٹایا جاسکے بعدہ اس کی لاش کو اسی زمین پر پھینک دیا جاتا ہے جس سے ابھی کچھ دیر پہلے وہ باتیں کررہی تھی،
وہی آسمان جس پر کچھ دیر پہلے اس کی نظریں تھی وہ بے بسی کے ساتھ اس معصوم نوخیز غنچہ کو مسلا ہوا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا،
یہ فقط ایک واقعہ نہیں ہے جس کا شکار آصفہ ہوئی ہے بلکہ ملک بھر میں اس طرح کی انسانیت سوز حرکتیں روز افزوں ہیں، اور ہر ایک کے پیچھے امن کے ٹھیکیدار کہلائے جانے والے خبیث نیتا اور ملعون پولیس افسران کا ہاتھ ہے،
اترپردیش کے اناؤ میں رہنے والی ایک خاتون کو آئین اور قانون کے آفیشل نمائندے علاقائی ایم ایل اے نے نوچ کھسوٹ ڈالا، جب اس نے انصاف مانگا تو، بدلے میں باپ کی لاش ملی!
یہ جرائم ایکٹیویٹیز جس طرح طاقتور ہوتی جارہی ہیں، اس میں وقتی یا صرف اور صرف بھوکی ذہنیت کارفرما نہیں ہے، یہ ایک طویل المدت زمینی انارکی پھیلانے کے نتائج ہیں، جو نظر آرہے ہیں، اس کی واضح دلیل، مندر کا زنا کے لیے استعمال کرنا اور بھاجپا ایم ایل اے کا اجتماعی زبا میں ملوث پایا جانا ہے، اس کو باقاعدہ اور نظریاتی طور پر بڑھاوا دیا جارہاہے، اس پر، واضح دلیل ان جانوروں کے تئیں ایک مخصوص چھپی ہوئی بھیڑ کا ہمدردی رکھناہے،
یہ گندا اور غلیظ سماج تشکیل دینے کی ایک مذہبی ڈکٹیٹرشپ ہے، آصفہ کے قاتلوں کو بچانے کے لیے بھیڑ نے جس طرح ریلیاں نکالیں، اور پھر اس میں جے شری رام، بھارت ماتا، کی جے جے کار کی گئی، ترنگے لہرائے گئے، ایک ترنگائی نقاب کھسکاتے جائیے آپ آریائی عہد کے پجاریوں اور پروہتوں سے قریب ہوتے جائیں گے، رام کے نام کا اصل بھارتی قوم کو لڑانے اور پسماندہ کرنے کے لیے جو تاریخی استحصال ہوا ہے، وہ بھی کھلتا جائے گا، مندر میں زنا، اور اس کے بچاﺅ میں رام بھکتی صاف پیغام ہیکہ، مزعومہ ہندوراشٹر ایسا ہی ہوگا جیسا کہ ہزاروں سالوں سے شودروں کا بھارت تھا، جس میں ان کی ماں بہنیں پروہتوں کی پیاس کا شکار ہوتی تھیں، یہ جھوٹا اور مکروہ مذہبی گیم انسانیت کو تباہی کی اتاہ دلدل میں دھکیل دے گا، اگر ہم بروقت بیدار نہ ہوئے تو،
ان سب کے ذمہ دار پہلے ہم سب ہیں،
جب سے ہم نے مظلوم کو اس پر ہونے والے ظلم کے ساتھ تنہا چھوڑ دیا، ظالم جرائم پر مزید جری ہوکر پوری طرح حیوان بن گیا ہے،
میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا حق نہ بولنے سے باطل کو بڑھاوا نہیں ملتا؟؟
اگر ہاں تو بولتے کیوں نہیں آصفہ کے لیے؟؟؟
کیوں تمھارے لب حرکت نہیں کرتے اناؤ کی مظلومہ پر؟؟؟
ایک بات یاد رکھو کہ جب بڑے سے بڑا جرم ایک عام سی بات ہوجاے تو ایسے وقت میں انصاف کی آواز بلند کرنے سے بڑا کوئی کام نہیں۔
اسی کے پیش نظر کاروان امن و انصاف کی طرف سے اعلان ہوا ہے کہ وہ بہت جلد ايک دن ایک ہی وقت میں، ایک ساتھ ملک کے سو مقامات سے اس حیوانیت کے خلاف للکارے گی، ضروری ہیکہ اب جبکہ حیوانیت تو ہے ہی اس کو طاقتور اور محفوظ کرنے کے سسٹم میں راستے تلاشے جارہےہیں، اب، *آواز دیجیے کہ: آپ اس حیوانیت کے خلاف ہیں*
نوجوانوں، علما و اسکالرز اور اسٹوڈنٹس اور طلبا سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ کسی کا انتظار نہ کریں آگے، بڑھ کر محاذ پر آئیں، اللّٰہ ہر ضروریات مہیا فرمائیں گے ۔
اس ملک گیر صدا میں شمولیت کے لیے درج ذیل ای میل پر میسیج کریں ۔
ksamikhann@gmail.com

*نسیم خان، ممبئی*
رکن شورٰی: کاروانِ امن و انصاف

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن