تمہارا دین تمہارے لئے اور ہمارا دین ہمارے لئے
🌺 *صدائے دل ندائے وقت*
*تمہارا دین تمہارے لئے اور ہمارا دین ہمارے لئے*
اسلام کی تبلیغ واشاعت کا یہ مطلب نہیں؛ کہ کسی پر نگراں ومسلط بن کر دعوت دین اور اس کے قبول کرنے پر مجبور ومحصور کیا جائے،جب کہ قرآن نے نہ کسی کو اس دنیا کا نگران بنایا (غاشية:۲۲)اور نا ہی کسی کو شریعت کے تعلق سے مجبور کیا ہے(بقرہ:۲۵۶)؛بلکہ "بلغوا"کا حکم اصل یے،یہ عین فطرت اور منشائے ربانی کے موافق ہے، کسی بھی چمن کی خوبصورتی و رنگینی اس کے نت نئے رنگ اور رنگہائے رنگ کے شگوفوں اور کلیوں میں ہوتی ہے اور اگر باغبان ایک ہی جنس کے پھولوں سے پورا کا پورا باغ سجا دے؛ خواہ وہ کیورا یا گلاب ہی کیوں نہ ؛ہو تب بھی اس میں حسن اور دلکشی کا وہ توازن نہیں پایا جائے گا،جو مختلف النوع رنگوں میں موزوں ہوتا ہے،انسانی بستی کا بھی یہی عالم یے، مسلمانوں نے کبھی بھی ایسی کوئی کوشش نہیں کی جس کے تحت یہ الزام رکھا جائے؛ کہ اس نے انسانوں کے اس خاصیت پر ضرب لگائی ہو،اگر ایسا ہوتا تو پھر ذمی اور دارالامن ودارالعہد کا وجود نہ ہوتا اور نا ہی قرآن کریم نے اتنی صاف گوئی سے اعلان کیا ہوتا" لكم دينكم ولي دين"(کافرون:۶)۔
*ملک عزیز بھی اسی زمرے اور فرمان ربانی میں شامل ہے،بلکہ بقول استاذی فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مد ظلہ العالیہ اس ملک کا دستور ہی اسی آیت "لكم دينكم ولي دين"پر قائم ہے،یہ ملک کا آئین ہے ،کہ اسے مذہبی تفوق اور برتری یا مذہبی سیاست سے کوئی واسطہ نہ ہو،ہر مذہب کو برابر کا حق دیا جائے،ظلم وبربریت کے خلاف کسی کی مدد ونصرت میں کوئی امتیاز نہ برتا جائے،اور کوئی بھی ایسا قانون و حکم جاری نہ کیا جائے جس کے توسط سے کسی مذہبیت کو شہ ملتی ہو،ہر ایک کو اپنا موقف اختیار کرنے اور اپنے مختار مذہب پر عمل کرنے ؛بلکہ اس کی اشاعت کرنے کی بھی بھرپور اجازت ہو،یہ بات الگ ہے ؛کہ رہ رہ کر ایسے شر پسند عناصر سر اٹھاتے رہے ہیں اور اٹھارہے ہیں، جو ملک کی اسی خاصیت پر من مانی اور من چاہی کرنا چاہتے ہیں، وہ کسی ایک مذہب کا تسلط چاہتے ہیں، اور بقیہ کو گوشہ چشم کی نگاہ سے دیکھتے ہیں یا صاف طور پر کہا جائے تو دوسروں کے خلاف سازشوں کا جال بنتے رہتے ہیں اور ہر ممکن اس کا استیصال کرنے پر آمادہ ہیں۔*
*واقعہ یہ ہے ؛کہ ملک میں اس فضا کو برقرار رکھنے کیلئے اور اپنی کامیابی کی خاطر نہ جانے کتنی جانوں کو گاجر مولی کے مثل کاٹ دینے اور انسانی خون کو پانی سے بھی سستا کردینے اور انسانیت سوز واقعات کے انجام دہی سے بھی گریز نہیں ہے،گزشتہ دنوں آصفہ کا واقعہ دراصل اسی سوچ کی عکاس ہے،اور ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے کہ اس واقعہ کو وہی رنگ دیا جائے،یا کسی بھی حال میں مذہبی جذبات برانگیختہ کرتے ہوئے اسے ہندو مسلم کی شکل دی جائے؛اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے؛ کہ درد مند اور اہل دل و وطن پرست برادران وطن بھی ان کی دوہری اور دو رخی پالیسیوں اور ملک مخالف ہتھ کنڈو سے واقف ہوچکی ہے،اور سر جوڑ کر انسانی پلیٹ فارم پر جمع ہونے لگی ہے،اور ایسا لگتا ہے؛ کہ کوئی انقلاب بپا ہونے کو بےتاب ہو،اور صراحی چھلک جانے اور پیاسی انسانیت کی پیاس بجھا دینے کو ترس رہی ہو،اے اہل دل اور اہل دانش و بینش ! اس موقع کو غنیمت جانئے،تفرقہ کو پنپنے نہ دیجئے اور درست لائحہ عمل کے ساتھ نہ صرف دستور کی بلکہ انسانیت کی حفاظت کیجئے۔واللہ الموفق والمستعان*
✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392
Comments
Post a Comment