امریکی اتحاد کی شام میں کل "پچیس منٹ" کی گئی "جنگ"

✍ *{رأي اليوم}*

*امریکی اتحاد کی شام میں کل "پچیس منٹ" کی گئی "جنگ"*

چند دنوں قبل دنیا کے طاقت ور ترین ممالک کی فہرست کے تین ملکوں نے شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خلافت جنگ چھیڑی، (جس کی گونج مشرق و مغرب میں سنائی دی) اور جو محض پچیس منٹ جاری رہی۔۔۔

اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ ان تینوں ملکوں نے دیکھتے ہی دیکھتے یہ اعلان بھی کر دیا کہ اس جنگ سے ان کے جو اہداف و مقاصد تھے، انھیں ان میں مکمل کام یابی مل گئی ہے اور وہ اس قلیل میعاد و "طویل اہداف" کی جنگ کو مبینہ طور پر جیت چکے ہیں۔۔۔ وہ اہداف، جن کا ابھی پورے طور پر ادراک نہیں ہو سکا ہے۔ چناں چہ برطانوی وزیر اعظم: تھریسا مے کا کہنا ہے کہ: "نہ ہمارا مقصد شام میں نظام کی تبدیلی تھا، اور نہ ہی شام کی خانہ جنگی میں بہ طور ایک فریق شریک ہونا تھا۔۔۔۔" جیسے جوہری اور کیمیائی ہتھیاروں سے کیا جانے والا قتل ہی، حقیقی قتل ہو؛ دوسرے ان گنت طریقوں سے عوام کا قتلِ عام، ان "انصاف پسند" طاقت ور ملکوں کے نزدیک قتل ہی نہ ہو!

ایک ایسی جنگ، جو محض پچیس منٹ جاری رہی، اور جس میں بشار الاسد انتظامیہ، جس کا دعویٰ ہے کہ وہ ان تینوں ملکوں کے حملوں کو ناکام بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے، اور یہ تینوں ممالک، جو اپنے متوقع اہداف کے حصول کا دعویٰ کر رہے ہیں: دونوں کام ہوے ہیں۔
ہم نے تو آج تک ایسی کوئی جنگ نہیں سنی، جس میں دونوں فریق فتح سے ہم کنار ہوے ہوں اور نہ ہی ایسی، جس میں دونوں شکست سے دو چار ہوے ہوں۔۔

مگر یہ عجیب بات ہے کہ جس جنگ کی گونج ہم نے ٹی وی چینلز اور نیوز ایجنسیوں کے ذریعے سنی، اور جس جنگ کی تمام تر سرگرمیاں‌، حتٰی کہ امریکی طیاروں کی اپنے رَن وے پر کی جانے والی ہر نقل و حرکت بھی چینلز براہ راست نشر کر رہے تھے... ایسا لگ رہا تھا کہ چینلز کو اس کی نشریات میں ایک نرالا لطف حاصل ہو رہا تھا یا ان کا اس سے کوئی بہت بڑا مقصد متعلق تھا، اور گویا دنیا بدل ہی جانے والی ہو، بشار الاسد انتظامیہ اور روسی تعاون: دونوں آج ہی کل میں اوندھے منھ گرنے والے ہوں۔۔۔ اور جیسے شامی عوام، جن میں بھوکے بچے، بے بس عورتیں اور نڈھال بزرگ: سبھی تھے، اب تو ایک دو دن میں ہی اس طاغوتی نظام سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا پالیں گے۔۔۔۔ اور جس شامی بحران سے شامی قوم، مسلسل پچھلے سات سال سے لہولہان ہے، چند ہی منٹوں میں حل ہو جائے گا!!

دمشق کے کچھ علاقوں میں جب سے یہ حملے ہوے ہیں، میں انھیں لے کر سخت حیرت میں ہوں۔۔۔۔ ہتھیاروں پر حملے کیے جائیں؛ مگر ان بازوؤں کو چھوڑ دیا جائے، جنھوں نے وہ ہتھیار تھام رکھے ہیں۔ اسلحوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے جائیں؛ مگر ان لوگوں سے بالکل تعرض نہ کیا جائے، جو یہ ہتھیار آزما رہے ہیں۔۔۔ بل کہ یہ تینوں ممالک بڑی عجیب و غریب ڈھٹائی سے کہ رہے ہیں کہ "ان حملوں سے ہمارا ہدف بشار الاسد کا نظام نہ کل تھا، نہ آج ہے۔۔۔۔۔ جیسے یہ جوہری ہتھیار خود بہ خود بن گئے ہوں اور خود بہ خود ہی شامی عوام کے قتل کے لیے استعمال ہو جاتے ہوں۔۔ نیز جیسے تمام تر قصور ان جوہری اسلحوں ہی میں پوشیدہ ہو۔۔ اور بشار الاسد ہر جرم و گناہ سے یک سر بری ہو!!

میں کوئی باریک تجزیہ نگار، بڑا قلم کار یا ماہرِ فن نہیں ہوں۔۔۔ لہذا اگر مان لیتے ہیں کہ پوری دنیا ان حملوں اور کل "پچیس منٹ" تک چلنے والی جنگ کے حقیقی عوامل و مضمرات سمجھتی ہے، جس میں "دونوں فریق کام یاب ہوے ہیں"!۔۔۔ پھر بھی میں تو اس کے خفیہ حقائق کو سمجھنے سے قاصر ہوں اور کئی لوگوں کو دیکھا ہے، جو اس جنگ کے حقائق و عوامل جاننے کی کوشش تک نہیں کر رہے ہیں؛ جیسے انھیں شام کی چند روز قبل کے حالات کا مکمل طور پر علم و ادراک ہے؛ اور اس کی کوئی چیز اب ان سے مخفی نہیں ہے!!

✼✼✼✿✿✿❀❀❀❁❁❁
✍ *استاذِمحترم: مولانا نصیرالدین صاحب قاسمی دامت برکاتہم*
استاذ شعبۂ عربی ادب: مدرسہ خادم الاسلام بھاکری، جودھپور راجستھان

ترجمہ: نیک محمد 9001835816

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن