*کوبرا پوسٹ اسٹنگ آپریشن*

*کوبرا پوسٹ اسٹنگ آپریشن*

خطرناک بات یہ نہیں ہے کہ ہندوستان کو ہندوراشٹر بنانے کی تیاریاں ہیں، بلکہ راقم سطور کی نظر میں سب سے خطرناک پہلو یہ ہیکہ ہندوستانی معاشرہ ہندوراشٹر کے لیے راستہ دے رہاہے، دانستہ یا نادانستہ ہی سہی لیکن ملکی منظرنامہ جس رخ پر جارہا ہے وہ صرف اور صرف ظلم و تشدد، جھوٹ اور نفرت کو یا تو قبول کرنے والا ہے یا تو برداشت کرنے والا ہے ۔
اب مسئلہ مسلمانوں کا ہی نہیں رہاہے اب تو معاملہ ملک کی سالمیت کا ہوچکاہے، دوہزار سالہ تاریخ پر نظر دوڑاتے ہوئے موجودہ صورتحال کا جائزہ لیجئے، پیروں تلے زمین نکل جائے گی، نظر گہری اور شعور پختہ ہو تو انتہائی درجہ ذلت و بے غیرتی کا احساس کھانے لگے گا، آج ہم دیکھتے وہی ہیں جو دکھایا جاتا ہے، ہم سنتے وہی ہیں جو سنایا جاتاہے، پڑھتے وہی ہیں جو پڑھایا جاتاہے، اور پھر ہم سے غیر محسوس طور پر ہوتا وہی ہے جو دشمن چاہتاہے، نفسیاتی اور تکنیکی وار ستر سال پرانا ہے جو اب اثرانداز ہورہاہے، ہندوتوا سکڑ کر اپنے دشمنوں کو ہی اپنا محافظ بناچکا ہے، یہاں ہم سمجھتے ہیں بڑی کامیابی ہاتھ لگی، مودی حکومت کی بڑی رسوائی ہورہی ہے اور وہاں وہ پردے کے پیچھے بیٹھ کر تالیاں بجاتے ہیں، اسلیے کہ ہم اسکرین اور اسٹیج والے ہیں اور وہ لوگ زمین و سسٹم والے ہیں، سسٹم پورے طور پر ان کے ہاتھوں میں ہیں، زمین پوری طرح ان کے لیے ہموار ہے، چالاکی اور زیرکی کا عالم یہ ہیکہ، مودی، یوگی جیسے بھی صرف مہرے ہیں، اصل گرو گھنٹال تو پس پردہ ہیں، ہزاروں سالہ محنت سے ان لوگوں نے جن کو بدترین ذلت آمیزی کے ساتھ جانور بناکر رکھا تھا، اب انہی شودروں کو ہندو نامی افیم کے نشے میں اپنے طبقاتی سامراج کا محافظ بنالیاہے، یہ منظر جو دنگے فساد اور ذلت و رسوائي کا برپا ہے اس کے لیے ان لوگوں نے جلسے جلوس کا سہارا تھوڑے ہی لیا تھا، یہ لوگ سسٹم کی راہ سے آئے اور آج حکومت چاہے جس کی بھی ہو، قتل و غارت انہی کے اشاروں پر ہوتی ہے، پکڑ دھکڑ اور دھماکے انہی کا کھیل ہوتے ہیں، معیشت و تجارت میں انہی کا طوطی بولتاہے، وہ ہم لوگوں کو اسی حد تک گنجائش دیتےہیں جہاں تک ان کے مفادات متاثر نہ ہوں، ذرا بھی شائبہ ہوا نہیں، کہ پياده کچل کر نکل جاتاہے، اور ہم لکیر پیٹتے رہ جاتےہیں ۔
تاریخی تناظر میں حالات کو تطبیق دینے والوں اور نظر رکھنے والوں کے لیے یہ سفاک صورتحال ہوتی ہے، جس پر دل خون خون ہوجاتا ہے، کیونکہ یہ سب سے بدترین ظلم ہیکہ کمیونٹی کے اذہان ہائی جیک کرلیے جائیں، نفسیاتی وار کر کر کے ان کی نفسیات پر کنٹرول حاصل کرلیا جائے، اور براہ راست حکم دینے کے بجائے مطلوبہ صورتحال پیدا کرکے مطلوبہ اہداف اپنے مخالفین سے ہی حاصل کیے جائیں،
*اس نوع کی تازہ ترین خطرناک انکشافاتی سچائی سے پردہ اٹھایا ہے، کوبرا پوسٹ نامی تحقیقاتی صحافتی کارنر نے* یہ وہ سچائی ہے جس کی داغ بیل آزادی سے قبل رکھی گئی اور یہ وہ سچائی ہے جس نے آزادی سے لیکر اب تک انڈیا کو شعوری سطح پر قید کر رکھا تھا، منو سمرتی کے طبقاتی نظام کی ورکنگ باڈی آر ایس ایس نے آزادی سے پہلے ہی ہندوستان کے بڑے بڑے میڈیا ہاؤز پر قبضہ مکمل کرلیا تھا، اور پھر میڈیا کو ہندوستانیوں کی آنکھ اور کان بناکر اسی کے ذریعے اپنے خونریز اہداف کو پروموٹ کیا، اسکرین پر لالی پاپ دے دے کر پسِ اسکرین ہندوراشٹر کی آہنی اینٹوں کو رکھتے گئے، اور یوں اسکرین اور عوام کی آنکھ مچولی سے فائدہ اٹھا کر ہندوراشٹر کے بت سے شودروں کے ہی ذریعے طبقاتی نظام کا تحفظ کررہےہیں،
*کوبرا پوسٹ کی ٹیم نے میڈیا کے اس خطرناک اور مکروہ چہرے کو سامنے لانے کے لیے ایک اسٹنگ آپریشن کیا، آپریشن 136 کے نام سے جس میں پندرہ سے زائد میڈیا ہاؤز کا فسادی چہرہ بے نقاب ہوا ہے، کوبرا پوسٹ کی ٹیم نے مین اسٹریم میڈیا کے نمائندوں سے ہندوراشٹر کے لیے نفرت سازی کی ڈیلنگ کرنا چاہی جسے بڑے بڑے میڈیا کارنر نے قبول بھی کیا، اور فساد و دنگا پھیلانے کے اپنے سازشی ہتھکنڈوں کو بھی بیان کیا، اور یہ تک بتایا کہ جن علاقوں میں مسلم کم ہوں فسادات وہاں کرائے جائیں، تاکہ اپنے لوگ مار نہ کھائیں، اس طرح کی باتیں انڈیا ٹی وی، دینک جاگرن، امر اجالا، سادھنا پرائیم نیوز، پنجاب کیسری، یو این آئی، ہندی روزنامہ آج، انڈیا واچ، ریڈف ڈاٹ کام، سب ٹی وی، جیسے بڑے بڑے نام شامل ہیں، لیکن اس حساس ترین ایشو پر کیا آپ نے کوئی گونج سنی؟*
یہ ایک ایسی بریکنگ نیوز تھی کہ اس کی بنیاد پر ملک بھر میں ان استحصالی میڈیا ہاؤز کے خلاف تہلکہ ہوناچاہئے تھا، لیکن تہلکہ تو دور کیا آپ نے کوئی شور بھی سنا؟ بڑے بڑے سیکٹر کے بزعم خود سیکولر میڈیائی مجاھدوں کی زبانی کچھ سنا آپ نے؟
کیا ہوا اس سچائی کا؟
کس قدر اس کی قدر ہوئی؟
کوبرا پوسٹ کے جانباز، حرمت صحافت کے پاسبان صحافیوں کی کتنی پذیرائی ہوئی؟
میڈیا کی یلغار کا رونا رونے والے دلتوں اور مسلموں نے اس موقع سے کیا فائدہ اٹھایا؟
ان بکاؤ چینلوں کی منافقت سامنے آنے کے باوجود ان پر کوئی فرق پڑا؟ ان کو دیکھنے سننے اور پڑھنے والوں نے ان کا منہ نوچا ۔؟ نہیں تو آخر کیوں نہیں؟ پریس کاؤنسل اور صحافتی برادری نے اس کا نوٹس کیوں نہیں لیا؟ سیکولر سچائی پر ایوارڈ بانٹنے والے کہاں گم ہوگئے؟ کوبرا پوسٹ والوں کو سچائی پر سچائی کے علمبرداروں نے ہی کیوں چھوڑ دیا؟
اسلئے کہ نام نہاد سچائی والے دوغلے ہیں، اسلیے کہ، ہندوستانی عوامی قیادت کی اکثریت بے شعور ہے، اسلیے کہ پس پردہ ریموٹ والے عیار و سفاک چالباز ہیں، ان کی پالیسی کے مطابق انہوں نے اپنے خلاف حقیقی ایشو کو اپنے ہی خلاف عارضی ایشوز اٹھا کر دبا دیا،
اور ہم ایشوز اور نان ایشوز میں فرق کرنے کی صلاحیتوں سے عاری بےشعوری کی دلدل میں ہیں،
*آئیے اس سچائی کو عام کرتے ہیں، جانباز کوبرا پوسٹ کی ٹیم کو سراہتے ہیں، ہتھیار وہی ہیں ہم چاہیں تو انہیں استعمال کرکے کم از کم اس کوبرا پوسٹ کی جدوجہد کو آگے بڑھا سکتےہیں اور ہندوستانیوں کے ساتھ اس بدترین استحصال کو جس کے ہم خود بھی شکار ہیں وائرل کرسکتے ہیں، اسی ٹارگٹ کو ملحوظ رکھتے ہوئے کاروان امن و انصاف، کی ٹیم نے ٹوئیٹر ٹرینڈ چلانے کا عزم کیا ہے*
ٹوئٹر ٹرینڈ کے ذریعے ہم اس انکشاف کو مین اسٹریم کے منہ پر مار سکتےہیں، انہیں ان کا حقیقی چہرہ دکھا سکتےہیں، اور یہ بتلا سکتےہیں کہ، گرچہ آپ لوگوں نے اپنی اس حقیقت کو چھپایا ہے لیکن در حقیقت، وہ چھپی نہیں ہے، اور عوام بیدار ہے،‌
کوبرا پوسٹ کے اسٹنگ آپریشن کے ذریعے میڈیا کا گھناؤنا چہرہ سامنے لانے کے لیے یہ ٹرینڈ بروز جمعرات، بتاریخ ۱۲ اپریل شام ۵ بجے سے چلایاجائے گا،
ٹرینڈ کا ہیش ٹیگ مقررہ وقت سے ۱ گھنٹہ قبل نشر کیا جائے گا ۔
*سمیع اللّٰہ خان*
جنرل سکریٹری: کاروانِ امن و انصاف
ksamikhann@gmail.com

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن