ہاں میں آصفہ ہوں۔۔۔!
ہاں میں آصفہ ہوں۔۔۔!
نازش ہما قاسمی
ہاں میں آصفہ ہوں، جی جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع کے رسانہ گائوں کی رہنے والی آٹھ سالہ معصوم ومظلوم آصفہ۔۔۔جی وہی آصفہ جسے وحشی درندوں نے اپنی ہوس کا شکار بنایا۔۔۔ہاں میں وہی آصفہ ہوں جسے مندر میں نوچا گیا۔۔۔ہاں! ہاں وہی آصفہ جسے مندر کے مہنت نے تو نشانہ بنایا ہی، میں جس پولس والے کو مسیحا سمجھی کہ وہ مجھے ظالموں سے بچاہی لے گا؛ لیکن وہ پولس والا بھی شیطان کا پجاری نکلا اور اس نے مجھے دم توڑتے وقت اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ ہاں میں وہی آصفہ ہوں جو اپنی پھوپھی اور پھوپھا کے یہاں رہتی تھی؛ کیوں کہ ان کی دو لڑکیاں کسی حادثے میں جاں بحق ہوگئی تھیں؛ اس لیے میری پھوپھی نے مجھے گود لے لیا تھا۔ میرے والد کا نام محمد اختر ہے۔ میرے پھوپھا کا نام یوسف پجوالا ہے اور پھوپھی جان کا نام نسیمہ بی بی ہے۔ میں اور میرے اہل خانہ بکریوں کو ہمالیہ کی وادیوں میں چرانے کا کام کرتے تھے۔ میں بہت باتونی تھی لوگ مجھ سے بہت محبت کرتے تھے۔ چھوٹی تھی۔۔۔نٹ کھٹ تھی۔۔۔شوخ وچنچل تھی۔۔۔اپنے ارد گرد بسنے والے لوگوں کی آنکھوں کا تارا تھی۔ ۔۔وادی میں رہنے والے سبھی مجھ سے بے انتہا پیار ومحبت سے پیش آتے تھے۔ ۔۔۔میں جس علاقے میں رہتی تھی وہ ہندو اکثریت والا علاقہ ہے؛ لیکن کبھی ایسے حالات نہیں آئے تھے کہ لوگ مندروں سے نفرت کریں، مہنتوں سے دور بھاگیں۔ انہیں تو عزت وتکریم کی نگاہوں سے دیکھتے تھے کہ یہ دنیا بے زار لوگ ہیں، اپنے خدا کی پوجا کے لیے کٹیا میں ہی پڑے رہتے ہیں، شب وروز صرف عبادت ہی کرتے ہیں ۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ اب وہ ہندوستان نہیں رہ گیا جہاں محبت وبھائی چارگی کے زمزمے گائے جاتے تھے۔ جہاں بچیوں سے محبت کیاجاتا تھا۔جہاں بچیوں کو ’لکشمی ‘کے روپ میں دیکھا جاتا تھا۔ جہاں بچیوں کے ساتھ پیار ومحبت سے پیش آیا جاتا تھا، جہاں بچیوں کو عزت دی جاتی تھی؛ لیکن ۱۰؍جنوری کی شام مجھے یہ پتہ چلا کہ نہیں اب وہ محبت ہندوستان میں نہیں رہ گئی، یہاں کے لوگ وحشی درندے ہوچکے ہیں۔ یہاں اب آشرموں میں کنیائوں کی عصمتیں تار تار کی جاتی ہیں اور موقع ملتے ہی مندروں میں بھی پجاری لکشمی سمان بیٹیوں کو اپنی ہوس کا شکار بناتے ہیں ۔
ہاں میں وہی آصفہ ہوں جو 10؍جنوری کو ہمالیہ کی وادیوں میں بھیڑ،بکریاں چرا رہی تھی دوپہر کا کھانا گھر جاکر کھائی، پھر اپنی ماں سے کہا کہ میں جنگلوں سے گھوڑوں کو لے کر آتی ہوں؛ لیکن گھوڑے تو لوٹ آئے اور میں نہیں آسکی۔ میں کیوں نہیں آسکی۔۔۔؟ یہ کہانی بڑی درد ناک ہے۔ رونگٹے کھڑی کردینے والی ہے۔ انسانیت شرمندہ ہے۔ ہاں میں وہی آصفہ ہوں جس کی گمشدگی پر میرے اہل خانہ در بدر کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے رہے، مجھے دیوانہ وار ڈھونڈتے رہے؛ لیکن میں زندہ رہتی تب تو آتی۔ آخر کار ۱۷؍جنوری کو میرے والد (پھوپھا) کے پاس ایک فون آیا کہ ’تمہاری لڑکی جنگل میں مردہ حالت میں پائی گئی ہے‘۔ میرے اہل خانہ دوڑتے ہوئے مذکورہ جگہ گئے اور مجھے جگہ جگہ سے پھٹے کپڑے، بریدہ جسم ، وہ جسم جو معصوم تھا، جس نےکوئی گناہ نہیں کیا تھا اسے ظالم درندوں نے نوچ ڈالا تھا۔ میرے والدین (پھوپھاپھوپھی) میری سر کچلی ہوئی لاش اور نوچی کھسوٹی ہوئی مجھ معصوم کلی کو دیکھے تو تڑپ اُٹھے۔ رو رو کر آسمان سر پر اُٹھالیا۔ میری حالت دیکھ کر انہوں نے اندازہ لگا لیا کہ ظالموں نے مجھ معصوم سی ننھی جان کے ساتھ بہت ظلم کیا ہے، درندوں نے میرے ہاتھ پاؤں توڑ ڈالے تھے۔ میرا سر کچل ڈالے تھے۔ مندروں کی حرمت پامال کرتے ہوئے اپنے فرقوں میں مقدس سمجھے جانے والے مہنتوں نے شیطان کو بھی شرمندہ کردیا تھا۔
ہاں میں وہی آصفہ ہوں جسے ایک ہفتے تک ظالموں نے بھوکے پیاسے نشہ آور ادویات کھلا کر رکھا اور اپنی ہوس پوری کرتے رہے۔ ہاں میں وہی آصفہ ہوں جس کی عصمت دری کرنے والوں میں مندر کے پجاری کے علاوہ اسپیشل پولس (ایس پی او) دیپک کھجریا، پولس آفیسر سریندر کمار، رسانا گائوں کا پرویش کمار، اسسٹنٹ سب انسپکٹر آنند دتا، ہیڈ کانسٹبل تلک راج اور محکمہ آبکاری کا ریٹائرڈ افسر سانجی رام شامل تھا۔ ہاں میں وہی آصفہ ہوں جسے سانجی رام کا نابالغ بھتیجہ بہلاپھسلا کر جنگل میں لے گیا اور اس نے اپنے والد کے جانور باندھنے والے شیڈ میں لے جاکر میرے ہاتھ پائوں باندھ دئے ، اس کے بعد اس حرام خور نے مجھ نازک سی کلی کا پاجامہ اتار دیا پھر گردن پکڑ کر مجھے زمین پر گرا دیا، پھر میری اتنی پٹائی کی کہ میں بے ہوش گئی۔ اور جب میں بے ہوش ہوگئی تو اس درندے نے مجھ سے اپنی ہوس پوری کی، پھر مجھے اس شیڈ سے بے ہوشی کی حالت میں اُٹھا کر مندر میں لے آیا اور وہاں مجھے قید کردیا۔ دوسرے دن ۱۱ جنوری کو سانجی رام کے بھتیجے نے اپنے ایک چچا زاد بھائی کو میرٹھ سے بلایا، اس نے فون پر یہ الفاظ کہے کہ’ مجھے ایک لڑکی ملی ہے اگر تجھے اپنی ہوس پوری کرنی ہے تو جلد آجا‘ شیطان کی آواز پر شیطان نے لبیک کہا اور ۱۲ جنوری کو وشال (آکنشا کالج میں بی ایس سی کا طالب علم ہے) رسنا پہنچا اس کے ساتھ پولس افسر دیپک کھجریا سمیت دیگر لوگ مندر میں آئے اور میرے ساتھ انسانیت سوز حرکت کرکے انسانیت کو شرمسار کردیا۔ ہاں میں وہی آصفہ ہوں جو دم توڑ رہی تھی، آخری سانس لے رہی تھی، ظالم درندوں نے مجھے پوری طرح نوچ ڈالا تھا، بس اب مری تب مری سانس کی ڈور ٹوٹنے ہی والی تھی کہ پولس انسپکٹر دیپک کھجریا نے کہا رک جاؤ، مجھے بھی اس معصوم کلی کے جسم سے لطف اندوز ہونے دو اس کی عصمت دری کرنے دو، اس کےبعد اس ظالم وحشی نے میرے ساتھ گھنائونا کام کرکے اپنا منہ کالا کیا اور پھر سبھی شیطانوں نے مجھے دو پتھروں کو بیچ ڈال کر کچل دیا اور میں اس جہنم سے جنت کو پرواز کرگئی۔
ہاں میں وہی آصفہ ہوں جس کی لاش برآمد ہونے کے بعد ہنگامہ ہوا، لوگ سڑکوں پر آکھڑے ہوئے؛ لیکن مجھے نربھیا کی طرح لوگوں کی حمایت حاصل نہ ہوسکی۔ لیکن ریاستی حکومت کی ایما پر یہ کیس کرائم برانچ کو دیا گیا اور عوام کی جانب سے سخت کارروائی کے مطالبہ پر کرائم برانچ نے اس کیس میں پہل کی اور اپنی چارج شیٹ پیش کی۔ میں شکر گزار ہوں کرائم برانچ کے آفیسر رمیش کمار جلا کی کہ انہوں نے ظالم درندوں کو دنیا کے سامنے لاکھڑا کیا اور مجھے انصاف دلانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ میں شکر گزار ہوں اپنی وکیل دیپکا سنگھ راجاوت کی کہ انہوں نے فرقہ پرستوں کی دھمکیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے میرے کیس کی پیروی کی۔ میں شکر گزار ہوں رویش کمار جی کا کہ انہوں نے میرے لیے آواز بلند کی اور لوگ میری حمایت میں مجھے انصاف دلانے کے لیے سڑکوں پر آکھڑے ہوئے؛ لیکن میں یہاں یہ بات کہنا چاہوں گی۔ میں جہنم سے جنت میں تو آگئی ہوں؛ لیکن میں چاہتی ہوں کہ میرے جیسا کسی اور کے ساتھ ایسا نہ ہو۔ نہ کشمیر میں کوئی معصوم تڑپے ، نہ کنیا کماری میں کوئی دوشیزہ وحشی درندوں کی بھینٹ چڑے۔ پورے ہندوستان میں خوش حالی ہو اور بیٹیاں خود کو محفوظ سمجھیں۔ یہاں اب مندروں پر بھروسا نہ کریں۔ پولس والوں پربھروسا نہ کریں کہ وہ آپ کی حفاظت کریں گے، آپ کو انصاف دلائیں گے۔ میرے کیس اور انائو کیس سے واضح ہوگیا ہے کہ کس طرح مجھے پولس نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا او رکس طرح انائو کی متاثرہ کے والد کے ساتھ پولس نے ناروا سلوک کیا۔ یہاں ظالموں کو سیاسی آقائوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میری طرح کوئی اور انسانیت سوز مظالم سے دوچار نہ ہو تو آپ انصاف کے لیے اخیر دم تک لڑتے رہیں۔ سڑکوں پر نکل کر حکومت کو مجبور کردیں کہ وہ ظالموں کو ان کے کیے کی سزا جلد از جلد دے۔ اگر آپ نربھیا معاملے میں ہی عقل وہوش کے ناخن لے لیے ہوتے تو شاید آج میں ان درندوں کی ہوس کا نشانہ نہ بنتی۔ آج میں اپنے گھوڑوں اور بیل بکریوں کے ساتھ ہمالیہ کی سرسبز وشاداب وادی میں کھلھلا رہی ہوتی، اٹھلارہی ہوتی؛ اس لیے آپ ظالم کے ظلم پر خاموشی کی بجائے ان کے خلاف آواز اُٹھائیں ، انہیں سرعام ننگا کریں، ان کے ظلم کے خوف سے چپ نہ رہیں، اُٹھیںمجھے انصاف دلائیں۔ آج اگر ظلم پر خاموش رہے،کچھ نہیں بولے تو یہ ظالم مزید طاقتور ہوجائیں گے ۔۔۔ابھیمیں بھینٹ چڑھی ہوں۔ اناؤ کی دوشیزہ بھینٹ چڑھی ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ کل آپ کی ماں، بہن، بیٹی، بھینٹ چڑھے ۔قبل اس کے کہ ایسا ہو ۔۔۔ظلم کے خلاف کمر بستہ ہوجائے اور مظلوموں کو انصاف دلائیے۔ جمہوری طریقے پر احتجاج کرتے ہوئے حکومت کو مجبور کردیجئے کہ وہ ایسا قانون بنائے جس سے کوئی زانی بچ نہ پائے ۔۔۔یا پھر اسلامی قانون ’رجم ‘کو نافذ کیاجائے تاکہ عرب ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی عصمت دری کے واقعات بالکل ختم ہوجائیں۔۔۔۔اگر ہندوستانی حکومت زنا کے لئے ’رجم ‘کی سزا مقرر کردے تو کسی کی بھی ہمت نہیں ہوگی کہ وہ زنا کرے، زنا کی روک تھام کے لئے اسلام کے قانون "رجم‘‘سے زیادہ مؤثر دنیا کا کوئی بھی قانون نہیں ہوسکتا ۔ اسلئے آپ لوگ حکومت کو ’رجم ‘کا قانون لاگو کرنے کے لئے مجبور کیجئے اور میرے زانی قاتلوں کو سر عام پھانسی پر لٹکوائیے تبھی جاکر مجھے مکمل انصاف ملے گا اور کوئی بھی معصوم کلی دوبارہ مسل کر قتل نہیں کی جائے گی۔۔۔!
۔۔۔منکووووووول۔۔۔
Comments
Post a Comment