انوکھا اسکول

   
                    انوکھا اسکول

      برادر محترم حافظ محمد محفوظ فلاحی کی دعوت پر ایک بار پھر ان کے اسکول (الحکمہ پبلک اسکول) کی مجلس منتظمہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے بھوپال حاضری ہوئی _ کہنے کو تو وہ ایک چھوٹا سا اسکول ہے، لیکن وہ اس کے ذریعے ایک بے مثال تجربہ کر رہے ہیں اور اس کے حیرت انگیز نتائج سامنے آرہے ہیں _
      محفوظ صاحب نے جامعۃ الفلاح ، اعظم گڑھ سے اعلی دینی تعلیم حاصل کی ہے ، اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے تاریخ میں ایم اے کیا ہے _ اُس وقت سے ہمارے درمیان گہرے دوستانہ مراسم ہیں _
      محفوظ صاحب نے 20 برس پہلے ایک عجیب تعلیمی تجربہ شروع کیا _ ایک مسجد میں ، جہاں وہ امامت کرتے تھے ، ایک مدرسہ کا آغاز کیا _ اس مدرسے میں داخلہ کے لیے نہ کوئی فیس تھی ، نہ عمر کی قید ، نہ تعلیم کے محدود اوقات _ وہ 24 گھنٹے مدرسے میں موجود رہتے تھے _ جو بھی چاہے اور جب چاہے، ان کے پاس پڑھنے کے لیے آسکتا تھا  _ جو بچے ان کے مدرسے میں آیے انھیں انھوں نے منصوبہ بند طریقے سے تعلیم دی ، پھر ان کا داخلہ ملک کے بعض بڑے مدارس میں کرادیا _ وہاں سے فراغت کے بعد یہ لڑکے ان کے تعلیمی مشن میں شامل ہوگئے  _ مسجد میں باقاعدہ درجات قائم ہوگئے اور منظّم شکل میں مدرسہ چلنے لگا _
       16 برس کے بعد محفوظ صاحب کو خیال ہوا کہ مدرسہ کو مسجد کی حدود سے باہر نکالا جایے اور اسے اسکول کی شکل دی جایے  _ان کے ایک دوست ، جو وقف کی ایک عمارت میں ایک اسکول چلا رہے تھے اور اسکول کی ذاتی عمارت تعمیر ہوجانے کے بعد اسکول کو وہاں منتقل کرنے والے تھے،  وقف کی وہ عمارت بلا معاوضہ ان کے حوالے کردی _ دیکھتے دیکھتے نرسری سے آٹھویں تک کا اسکول چلنے لگا _ ایک دوسرے صاحب بھوپال کے علاقے 'کوہ فضا' میں ایک اسکول چلا رہے تھے ، جو ٹھیک طریقے سے نہیں چل پا رہا تھا ، انھوں نے وہ پورا سیٹ اپ بلا اجرت محفوظ صاحب کے حوالے کردیا کہ وہاں بارہویں تک اسکول چلائیں  _
        محفوظ صاحب نے اپنے تعلیمی منصوبہ کو جامعۃ الحکمۃ کا نام دیا  _ اس وقت اس کے تین کیمپس ہیں :
    1_ الحکمۃ پبلک اسکول (جہاں گیر آباد کیمپس) یہاں نرسری سے آٹھویں تک کی تعلیم کا نظم ہے _
     2_الحکمۃ پبلک اسکول (کوہِ فضا کیمپس) یہاں نرسری سے تیسری کلاس تک، پھر نویں سے بارہویں تک کی تعلیم ہوتی ہے _(درمیانی درجات شروع کرنے ہیں _)
     3_مدرسۃ الحکمۃ (کانچ والی مسجد کیمپس) اس میں مدرسہ چلتا ہے ، بلا قیدِ عمر جو چاہے وہاں آکر تعلیم حاصل کر سکتا ہے  _
      چار برس کے مختصر عرصے میں اس اسکول میں بچوں کی تعداد 500 تک پہنچ گئی ہے  _ اس اسکول کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں جو بچہ بارہویں درجے کا امتحان دیتا ہے اس کی عربی اور دینیات کی استعداد کسی مدرسے میں عالمیت کے مساوی ہوتی ہے _ دینی اور عصری تعلیم کے امتزاج کا یہ ایسا کام یاب تجربہ ہے جس کی نظیر ان دنوں نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہے _
       حیرت ہوتی ہے کہ اتنی تیزی سے ترقی پانے والے اور تین جگہوں پر چلنے والے اس اسکول کا کہیں کوئی بورڈ تک نہیں لگا ہوا ہے _ داخلے کے موقع پر کوئی تشہیری مہم نہیں چلائی جاتی  _  فیس میں رعایت اس حد تک عام ہے کہ آخری درجات کے تمام طلبہ کی فیس معاف کردی گئی _ کورس کی کتابیں، کاپیاں اور اسٹیشنری دوکانوں سے بڑی مقدار میں خریدنے کی وجہ سے اسکول کے منیجمنٹ کو خاصا کمیشن مل جاتا ہے، لیکن وہ انہیں اتنی ہی قیمت میں بچوں کو فراہم کردیتے ہیں _ انس انور ، اشرف علی، انیس احمد کی شکل میں انھیں ایسے معاونین حاصل ہیں جو جنّات کی طرح ہر وقت حاضر باش رہتے ہیں اور اشارہ پاتے ہی کسی بھی کام کے لیے دوڑ پڑتے ہیں _
      ایک عجیب بات میں نے یہ دیکھی کہ محفوظ صاحب نے جامعہ الحکمۃ کے بانی ناظم ہونے کے باوجود اپنے آپ کو ناظم کی حیثیت نہیں دی _ وہ اس میں چند گھنٹے پڑھاتے ہیں اور دوسرے مدرسین کی طرح بس تدریس کا مشاہرہ لیتے ہیں  _ گزشتہ سال منتظمہ نے اسٹاف کے مشاہرہ میں اضافہ کا فیصلہ لیا تھا _آمدنی زیادہ نہ ہوئی تو انھوں نے دیگر معلّمین و معلّمات کو تو اضافہ شدہ مشاہرہ دیا ، لیکن اپنے اور تین قدیم ترین معاونین کے مشاہرہ میں کوئی اضافہ نہ کیا  _
    وہ مخلوط تعلیم کے سخت خلاف ہیں _ چنانچہ انھوں نے چوتھی کلاس سے لڑکوں اور لڑکیوں کے درجات الگ الگ رکھے ہیں _ لڑکوں کو معلّمین پڑھاتے ہیں اور لڑکیوں کو معلّمات _
      اسکول کے 'کوہ فضا' کیمپس میں دو دن رہنا ہوا  _ پہلے دن کو ٹیچرس ٹریننگ کیمپ کی حیثیت دی گئی تھی _ اس میں تمام معلمین اور معلمات شریک ہوئیں _دوسرے دن منتظمہ کی میٹنگ ہوئی _ جامعہ کا ایک دستور تیار کیا گیا اور اس کو منظوری دی گئی _
        محفوظ صاحب کے اسکول کو دیکھ کر پورے اطمینان سے کہا جا سکتا ہے کہ آج کے دور میں بھی، اخلاص اور بے نفسی کے ساتھ، انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں بھی اور انتہائی سادگی کے ساتھ، بغیر ٹیپ ٹاپ اور ظاہری چمک دمک کے کام یابی سے معیاری اسکول چلایا جا سکتا ہے اور امت کے بہی خواہوں اور تعلیم سے دل چسپی رکھنے والوں کا اعتماد حاصل کیا جا سکتا ہے  _

(محمد رضی الاسلام ندوی)

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن