یتیموں کا والی

                       یتیموں کا والی

تحریر مفتی ابولبابہ شاہ منصور

قرآن شریف میں اللہ کے پسندیدہ لوگوں کی ایک صفت بیان فرمائی گئی ہے: ’’ اور وہ اللہ کی محبت کی خاطر مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ ‘‘ (الدھر: 8) 

اس آیت کریمہ میں معاشرے کے تین پسماندہ طبقات کی خدمت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رضا کے کاموں میں سے شمار کیا ہے: (1) مسکین (2) یتیم (3) اسیر۔ 

ترکی کی ایک بڑی رفاہی تنظیم… جو دنیا کے 140 ممالک میں مصروف عمل ہے اور جسے بلامبالغہ و بلاشبہ عالم اسلام کی سب سے بڑی رفاہی تنظیم ہونے کا اعزاز حاصل ہے… نے اس آیت میں بیان کیے گئے مخصوص طبقات کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔ پھر ان میں سے بھی انہوں نے یتیم کو اپنا خصوصی ہدف بنایا۔ یتیم بچوں کو خوراک و لباس اور رہائش کی تین بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ صحت اور تعلیم جیسی دو اہم ضرورتیں بھی فراہم کرنے کا بیڑا اُٹھایا۔ اس کی کئی وجوہات ہیں، جو یہاں اس مطلب سے درج کی جاتی ہیں کہ شاید پاکستان کے اہل خیر اس اہم موضوع کو سمجھ لیں، تو ہمارے ہاں یتیم بچوں سے لاتعلقی و لاپرواہی کے جو نتائج بد ہیں ان سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے۔ نیز جہاں ان کی خدمت تحقیر اور ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرکے کی جاتی ہے، اس کا تدارک کیا جاسکے۔

پہلی وجہ تو یہ ہے کہ پوری دنیا میں مظلومانہ قتل کیے جانے والے افراد میں سے سب سے زیادہ تعداد مسلمان شہداء کے یتیم بچوں کی ہے۔ دنیا میں اس سے پہلے والد یا والدین کی طبعی موت کا جو تناسب تھا، قدرتی حوادثات کی کثرت اور مسلم برادری کے خلاف مہم جوئی میں اضافے… دونوں… وجوہات کی بناء پر مسلم یتیم بچوں کا تناسب بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ غیرمسلم این جی اوز ترس کھاتے ہوئے جن یتیم بچوں کی کفالت کا ذمہ لیتی ہیں، وہ درحقیقت ان بچوں کو زندہ درگور کرنے سے زیادہ سنگین اور المناک ہے۔ جس بچے کا والد اسلام کی خاطر شہید ہوا، اس معصوم کو مرتد بناکر اس کے ذریعے دوسروں کو مرتد بنانے کا کام لیا جاتا ہے، جو خود گوری چمڑی کے مبلغ اس وجہ سے نہیں کرسکتے کہ وہ دور سے پہچان لیے جاتے ہیں۔ 

دوسری وجہ یہ ہے کہ فحاشی کو فروغ دینے والے شقی القلب عناصر ایسے بچوں کی تلاش میں ہوتے ہیں اور وہ وارثوں یا سرپرستوں کا خوف نہ ہونے کے سبب یتیم بچوں کو بلاجھجھک اور بلاخوف و خطر چھوٹی عمر سے مکروہ مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ایسا بچہ یا بچی بعد میں سمجھ دار اور خودمختار ہوجانے کے باوجود اس دلدل سے باہر کی دنیا میں جانا بھی چاہے تو بوجوہ نہیں جاسکتا۔ 

تیسری وجہ منشیات فروش اور چوتھی وجہ اعضاء فروش مافیا ہے۔ یہ ایسے بچوں کی تاک میں رہتے ہیں اور ان پر طویل المیعاد اور صبرآزما سرمایہ کاری کے ذریعے اپنے گھنائونے کاروبار کو چلاتے ہیں۔ 

کچھ لوگ انہیں دہشت گردی یا دوسرے غلط مقاصد میں استعمال کے لیے آئیڈیل سمجھتے ہیں۔ اس طرح وہ مسلمان برادری پر چلائے گئے زہریلے تیر سے بیک وقت دو شکار کرتے ہیں۔ ایک تو بے آسرا معصوم بچے کو گھنائونے کاموں کے لیے استعمال کرنا اور دوسرے مسلمان بچوں پر کیے گئے اس ظلم سے مسلمانوں کو ہی ظالم ثابت کرنا، کیونکہ نام، شکل و صورت اور رنگ و نسل سے تو وہ بے چارہ منشیات یا جسم فروش، دہشت گرد یا کوئی اور… دکھائی تو مسلمان ہی دیتا ہے۔ 

قرآن و حدیث میں یتیم سے حسنِ سلوک اور اس کی تربیت و کفالت کے حوالے سے جو عظیم فضائل آئے ہیں، ہمارے لیے تو وہی کافی تھے، اب قدرتی حادثات کی شکل میں نظر آنے والے زلزلہ و سیلاب اور منصوبہ بند جنگوں کی بنا پر مسلم یتیم بچوں کو جن رذائل کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اس کی بنا پر بہت ضروری ہوگیا ہے کہ مسلم امّہ اس سنگین مسئلے پر توجہ دے جس سے غفلت کی بناء پر ہمیں دو طرفہ ڈسا جارہا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق… جو یتیموں کی پرورش پر خصوصی توجہ دینے والے بین الاقوامی طور پر مشہور ادارے کے ذمہ دار نے راقم کو بتایا… اس وقت دنیا میں 400 ملین یتیم موجود ہیں۔ ان میں سے اکثریت بلکہ غالب اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ (غیرمسلم معاشرے میں تو بن باپ کے بچے زیادہ ہیں) دنیا کا سب سے بڑا مسلم ادارہ اس وقت صرف 90 ہزار یتیم بچوں کی کفالت کرپارہا ہے، جبکہ ’’ورلڈ ویژن‘‘ نامی ایک مغربی این جی اوز 4.2 ملین بچوں کو ’’تربیت‘‘ کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ متذکرہ بالا مسلم رفاہی ادارے نے اپنا سب سے پہلا کفالت یتیم پروگرام 2003ء میں راولپنڈی میں شروع کیا۔ اب اس کے دنیا بھر میں خصوصاً غریب اور پسماندہ مسلم ممالک میں 32 کے قریب ادارے ہیں، جبکہ مزید 15 زیرتعمیر ہیں۔ جبکہ بہت سے یتیم بچوں کو وہ اپنے ادارے میں لانے کے بجائے ان کے گھروں میں رکھ کر کفالت کا نظم بنانے کو ترجیح دیتی ہے تاکہ وہ قدرتی ماحول میں پرورش پاسکے۔ اس ادارے کی تحریک پر اسلامی ممالک کی تنظیم ’’او آئی سی‘‘ نے 15 رمضان کو ’’یتیموں کا عالمی دن‘‘ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

ترکی کی موجودہ حکومت جہاں مسلم امہ کو درپیش دوسرے مسائل کے حل کے لیے مقدور بھر کوشاں ہے وہاں یتیم بچوں کی کفالت کے حوالے سے بھی متحرک اور فعال ہے۔ اللہ ان کو نظربد سے بچائے اور عافیت کے ساتھ کام جاری رکھنے کے وسائل مہیا فرمائے۔ خصوصاً شام کے یتیم بچوں کی کثرت کی بناء پر اور بعض مغربی این جی اوز کی طرف سے انہیں عیسائی مبلغ کے طور پر لے جانے کی کوششیں سامنے آنے کے بعد وہ نہایت محتاط اور سرگرم ہوگئی ہے۔ ان حضرات کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ میرے اور آپ کے آقا (صلی اللہ علیہ وسلم) جن کا لقب ہی ’’یتیموں کا والی‘‘ تھا ان سے لے کر سلطان صلاح الدین ایوبیؒ تک اور امام غزالیؒ سے لے کر حافظ ابن حجرؒ تک تاریخ اسلام کے بڑے بڑے لوگ بچپن میں یتیم تھے، لیکن اللہ نے اپنی قدرت دکھائی اور وہ مسلم معاشرے میں یتامیٰ کی کفالت کی اہمیت اور برکت کا شعور پائے جانے کے سبب تاریخ کے بڑے لوگ بنے، لہٰذا ان کے ہاں یتیموں کی پرورش کے لیے قسماقسم منصوبے زیرغور، زیرعمل اور زیرتشکیل ہیں۔ 

مثلاً ریحان لی شہر میں دو سو کنال پر ایک منصوبہ ہے جس میں بیوہ مائیں اپنے یتیم بچوں کے ساتھ رہیں گی۔ اس منصوبے کی نہایت اعلیٰ، نفیس اور معیاری منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ جسے دیکھ کر ان حضرات کے ذوق و شوق اور عقیدت و محبت کا اندازہ ہوتا ہے۔ بلامبالغہ یہ ہمارے ہاں کے ’’بحریہ ٹائون‘‘ کے پائے کی تعمیر ہے۔ بعض سہولتیں تو اس سے بھی اعلیٰ درجے کی ہیں۔ 

یہ ادارہ تو ابھی زیرتعمیر ہے۔ چند تعمیر شدہ منصوبوں میں جہاں صرف یتیم بچے یا صرف یتیم بچیاں ہیں، ان کا کوئی رشتے دار ساتھ نہیں، میں بھی اس فقیر کو جانے کا موقع ملا۔ تعلیم و تربیت اور طبعی و نفسانی ضروریات کا انتہائی اعلیٰ نظام دیکھ کر انسان حیرت میں مبتلا ہوتا ہے کہ اللہ کسی کو جب خدمت کی سعادت سے نوازتا ہے تو کیسے بے حساب نوازتا ہے۔ ان یتیم بچوں کے لیے عطیات کی فراہمی کی مہم میں پوری ترک قوم کو شریک کرنے کے لیے کئی مہمات ترتیب دی گئی ہیں۔ یہاں میں دو دولچسپ مہمات کا تذکرہ کروں گا جو بذات خود علم و مشاہدہ میں آئیں اور اس عاجز کو پاکستانی برادری کی طرف سے اس میں حقیر سا حصہ لینے کا بھی موقع ملا۔ 

ایک تو یہ کہ تمام سرکاری و غیرسرکاری اسکولوں میں یہ مہم متعارف کروائی گئی… جو ہمارے ہاں بھی نہایت آسانی سے متعارف کروائی جاسکتی ہے… کہ ہر کلاس مل کر کم از کم ایک یتیم بچے کی کفالت کا ذمہ لے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ 30 دن کے اندر کلاس میں رکھے گئے مخصوص ڈبے میں 32 ڈالر تقریباً، تین ہزار پاکستانی روپے کے بقدر سکّے اپنی بچت سے نکال کر ڈالتی رہے۔ جو کلاس یہ فیصلہ کرے، اس کی حوصلہ افزائی کے لیے اسے ایک پورا پیکٹ دیا جاتا ہے جس میں یتیم دوست کی کفالت کے فضائل، ایک دیوارگیر گھڑی اور خوبصورت کیلنڈر (تاکہ بچوں کو تاریخ اور وعدہ یاد رہے) یتیم بچوں کی تصویریں، ریکارڈ، دنیا بھر کے ممالک میں یتیم بچوں کی معلومات اور ان سے ملاقات کا شیڈول وغیرہ بہت کچھ ہوتا ہے۔ کھیل کھیل میں مدد کیسے کی جائے؟ کے عنوان سے کچھ گیم بھی ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ چند بچے ہی نہیں، ان کے ذریعے ان کے خاندان بھی کسی نہ کسی یتیم بچے سے ذہنی طور پر وابستہ ہوجاتے ہیں اور اسے اپنے خاندان کا ایک فرد سمجھتے ہیں۔ اس کلاس کو سال کے آخر میں کارکردگی کے حساب سے ایوارڈ بھی ملتا ہے۔ (باقی صفحہ5پر) اب تک ترکی کے 12 لاکھ بچے اس اپنے اسکولوں کے ذریعے اپنی کلاس اور خاندان کے ساتھ مل کر اس مہم میں شریک ہوچکے ہیں۔ 
کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر ایک طریقہ کی ابتدا یوں ہوئی کہ 15 بچیوں کے ایک گروپ نے گھر سے کھانا پکانے کا سامان لاکر مل کر مزیدار ڈشیں پکائیں اور خواتین کے پارکوں میں اور نمائش میں اسٹال لگانا شروع کیا، اس سے جو نفع آیا وہ اسے ماہانہ بنیادوں پر یتیم کی کفالت کے لیے جمع کرواتی ہیں۔ یہ بھی بڑی دلچسپ مہم ہے اور آہستہ آہستہ پھیل رہی ہے۔ فقیر کے ساتھ گئے ایک مہمان نے متاثر ہوکر ان ترک بچیوں کو آٹا گوندھنے اور کھانا پکانے کا جدید سامان اور تمام ضروریات لینے کے لیے بروقت تمام درکار رقم فراہم کی اور باقاعدہ اس کو مہم بناکر چلانے کے لیے بھی تعاون کیا۔ ترک قوم پاکستان میں 2005ء کے زلزلے اور 2011ء کے سیلاب کے بعد سے تقریباً 1232 یتیم بچوں سمیت چار ہزار بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری اُٹھائے ہوئے ہے اور اپنے ملک میں مشکل حالات اور شام کے مہمان بچوں کی کثرت کے باوجود اس سے دستبردار نہیں ہوئی۔ یہ حضرات صرف کفالت ہی نہیں کرتے، بلکہ بچپن سے یونیورسٹی کے بعد تک… ملازمت دلوانے اور شادی کروانے تک تعاون کرتے ہیں۔ عیدالفطر تحائف اور بقرعید میں قربانی وغیرہ بھی بھیجتے ہیں۔ یتیم بچے کو چوزے، بکری، گائے وغیرہ لے کر دیتے ہیں۔ لیپ ٹاپ اور شہد کے چھتے بھی فراہم کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ ریحانیہ شہر کے پروجیکٹ میں تو ایک یتیم بچے کو ایک درخت دیا گیا ہے جس میں قسماقسم شکل کے گھونسلے تھے۔ اس درخت اور اس میں رہنے والے مہمان پرندوں کی ذمہ داری نبھانے کا مقابلہ بھی ہوگا، انعام بھی ملے گا اور بچپن سے تربیت بھی ہوگی کہ کیسے دوسری مخلوق کا خیال رکھنا ہے۔ یہ پروجیکٹ تو جب شروع ہوگا تو اپنی مثال آپ ہوگا۔ فی الحال کئی ہزار یتیم بچے اس انتظار میں ہیں کہ انہیں کوئی اسپانسر مل جائے تو ترک میزبان جو باوجود کوشش کے ان کے لیے کچھ نہیں کرپارہے، ان کو بھی رجسٹرڈ کرکے گھر جیسے ماحول ان کی خدمت شروع کرسکیں۔ اس کی معلومات سوشل میڈیا میں کئی مرتبہ نشر کی جاچکی ہیں۔ صاحبِ دل حضرات تھوڑی سی کوشش سے اپنے اموال کے بہترین مصرف اور اپنی عمر بعد کے لغزشوں کے کفارے کے آسان طریقے تک پہنچ سکتے ہیں کہ ایسا عطیہ بہترین صدقہ بھی ہے۔ بیماریوں کا علاج بھی اور ناگہانی آفات سے بچائو بھی۔

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن