سعودی حکومت کی حقیقت

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺

   *سعودی حکومت کی حقیقت*

     *اسلام کی بعثت کا مقصد صرف زاہد وعابد کا پیدا کردینا،فلسفہ اخلاق پر ضخیم تھیوریاں مرتب کردینا یا ظلم واستبداد کے درمیان انصاف پسندی وحق گوئی کی تشہیر کردینا ہی نہیں تھا؛ بلکہ ان تعلیمات کو زمینی حقائق کے ساتھ برت کر، انسانی دنیا کو اس کے خالق حقیقی سے جاملانا اور مذاہب کے جور و ادیان سے نکال کر عدل وانصاف کی کھلی فضا میں کھینچ لاناتھا، اور ایک ایسا نظام قائم کردینا تھا؛ جہاں معروف ہی معروف ہو اور منکرات کو منکر ہی جانا جائے، جس کیلئے لازمی عمل خلافت اسلامی کا قیام اور قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی کا نفاذ تھا،چنانچہ روز اول ہی سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی رخ پر پیش قدمی کی اور تیئیس سالہ مسلسل جد و کد کے بعد ایک خداداد حکومت کی بنیاد ڈالی،جو بعد کے زمانوں میں کبھی اموی، عباسی اور عثمانی کی صورت میں افق انسانی پر گوہر تاباں بن کر دعوت نظارہ دیتی رہی؛لیکن برطانوی،انگلستانی اور اٹلی وروس جیسی استعماری طاقتوں کیلئے یہ ہمیشہ گلے کا پھانس اور آنکھوں میں کانٹے کے مثل چبھتی رہی، نتیجتا  پوری جتن و انتھک کوشش کے بعد اور خصوصا مار آستین کے سہارے ۱۹۲۴ء میں خلافت عثمانیہ کے پرخچے اڑادئے گئے،جس میں عرب کی قومیت پرستی کی غلط فہمی نے نہ صرف اسلام کی حقیقت پر قدغن لگایا؛ بلکہ  اسلام کے نام پر عرب قوم یا کہئیے کہ پوری امت کو بازیچہ یورپ بنادیا،اور ایک اسلامی جسم کو ایک ایسا زخم دیا کہ شاید ہی اس کا مداوا کسی حکیم کے پاس ہو!۔*
    واقعہ یہ ہے ؛کہ اس سلسلہ کی تاریخی کڑیاں اور بہت سے چشم کشا حقائق چشم زدن میں ظاہر ہوچکے ہیں،اور ہورہے ہیں،ایسا محسوس ہوتا ہے؛ کہ بھٹی کی طرح اپنے وجود کا خود پتہ دے رہی ہو،قطر کے خلاف عرب کا بائیکاٹ،شام وعراق اور فلسطین،وغزہ اور پھر اسرائیل کا قیام،سعودی عرب کی دجالیت،اسلام کے نام پر سنیما، فیشن شو کا آغاز، معتدل اسلام کی آڑ میں اسلام بیزاری کی تبلیغ اور محمد بن سلمان کے جاں سوز بیانات درحقیقت ماضی کے مقدمہ کی تفصیل ہیں،جن کا مزید مفصل ہونا باقی ہے،تاریخ اپنے صفحات ایک ایک کر کے الٹ رہی ہے،اور الٹتی ہی جائے گی،اگرچہ کہ سورج کی بلندی میں سایہ کا احساس نہیں ہوتا؛لیکن ہوگا،آج نہیں تو کل ہوگا،یہاں پر ہم ایک اقتباس نقل کرتے ہیں،جسے حاجی امیر احمد صاحب علوی کی "سفر سعادت"(شائع شدہ ۱۹۳۰ء)کے حوالے سے مولانا عبدالماجد دریابادی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے،جو سعودی عرب کی حقیقت پر مبنی ہے:
    *"•••••••یہاں (سعودی عرب) تقریبا ہر جنس انگلستان ہی سے آتی یے،اور تمام دنیائے انسان کی کمائی مکہ کے راستے سے یوروپ پہونچتی ہے،افسوس ہہ کہ یہاں عورتوں کو انگریزی فیشن کی طرف بدرجہ غایت رغبت ہوگئی ہے،برقعہ کسی وقت زینت چھپانے کیلئے تھا،مگر افسوس اب اس کا مقصد زینت دوبالا کرنا ہے ••••••، انگریزی مٹھائیاں،انگریزی بسکٹ بازار میں بھرے پڑے ہیں،سگرٹ وچائے شرط زندگی ہے،گولہ بارود ولایت سے آتا ہے، ڈاک کے ٹکٹ ولایت سے چھب کر آتے ہیں،ریال وقرش لندن سے بن کر آتے ہیں،کپڑا انگلستان سے آتا ہے••••••••••••••••• جدہ میں خطبہ وسکہ سلطان ابن سعود کا ہے،لیکن حکومت درحقیقت برٹش کانسل کرتا ہے،ابن سعود کے لونڈی غلام بھاگ کر انگریزی سفارت خانہ میں پناہ لیتے ہیں،اور کانسل جنرل کو ان جہازات پر سوار کرکے بے تکلف ملک سے باہر نکال دیتا ہے،لیکن ملک الحجاز دم نہیں مار سکتا،کانسل کی اجازت کے بغیر کوئی قافلہ مکہ نہیں جاسکتا ،مگر بادشاہ کو دخل دینے کا اختیار نہیں"*(ملخص:انشائے ماجدی:۲۳۵ تا ۲۳۶)۔
    بالا تحریر پر اگرچہ سالہاسال گزر گئے؛ لیکن آج بھی اس کا حرف حرف آئینہ کی حیثیت رکھتا ہے،بلکہ تصویر تو اب اور بھی صاف ہوچکی ہے،اب شاید ریال پرستی اور شکم پرستی کے سوا کوئی پردہ حائل نہیں، ضرورت اس بات کی ہے؛کہ بروقت اس فتنہ کا تدارک کیا جائے،بیداری کہ مہم چلائی جائے،اسلام کی شفافیت اور قبلہ وکعبہ اور شہر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں سیسہ پلائی دیوار بن کر حب نبوی کا ثبوت پیش کیا جائے،اگر ایسا نہ ہوا تو خدا قادر ہے؛ کہ پھر سے وہ اس شعر کی تشریح کردے:
 ہےعیاں یورش تاتار کےافسانے سے
*پاسبان مل گئے کعبے کو صنم خانہ سے*

    ✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392
15/04/2018

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن