اور بھی درد ہیں جہاں میں اس درد کے سوا۔۔۔۔۔۔۔۔
اور بھی درد ہیں جہاں میں اس درد کے سوا۔۔۔۔۔۔۔۔
فضل الرحمن
آصفہ کا واقعہ ایک دردناک اور کربناک حقیقت ہے ۔اس واقعہ نے ساری انسانیت کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔اور اس سیے بھیانک حقیقت یہ ہے کہ مجرموں کے ساتھ کچھ لوگ کھڑے نظر آتے ہیں ۔ لیکن سوچنے لائق بات یہ ہے کہ ہندوستان میں کیا صرف یہی ایک اندوہناک واقعہ ہوا ہے۔ کیا نرومودیکا فرار ۔وجئے مالیہ کا فرار۔آئے دن ہو رہے بینک frauds, مسلم خواتین کی حق تلفی۔سرکردہ پارٹی کی بڑھتی غنڈہ گردی۔ملک میں بڑھتی بے روزگاری ۔مہنگائئ ۔غریبی, ملک میں بڑھتی لاقانونیت ۔آئین کی خلاف ورزی ۔انصاف اور عدلیہ کی حوصلہ شکنی۔polarisation, majortarian state کی جانب پیشقدمی ۔minoritiesکے ساتھ زیادتی جیسی ایشوز ہمیں ویسا ہی پریشاں نہیں کرتے جیسا آصفہ کا واقعہ ہے۔پھر صرف ایک عنوان پر سارے بھارت کو کیوں جمع کیا جا رہا ہے ؟ یقینا آصفہ مسلم تھی اس لیے ہمیں اس کا درد محسوس ہوتا ہے ۔لیکن کیا ملک میں ہو رہیے دوسرے واقعات سے مسلمانوں کی یکساں تذلیل نہیں ہو رہی ہے۔پھر صرف ایک ایشو پر توجہ، دیگر ایشوز سے ہٹانے کی چال نہیں ہے ؟ کیا صرف اس ایشو پر سڑکوں پر اتر آنے کی للکار ہماری سیاسی شعور کے فقدان کی علامت نہیں ہے؟ صرف مسلم ایشوز پر بات کرنا اور دیگر موقعوں پر کھل کر سامنے نہ آنا فرقہ واریت نہیں ہے جبکہ ملت اسلامیہ کو تو ساری انسانیت کی بھلائی کے لئے کھڑا کیا گیا ہے۔ کب ہم وقتی سیاست سے اٹھکر اپنے حقیقی رول کے لئے آگے بڑھنگے۔کب ہم صورت حال کا fact Base تجزیہ کرنے کے جانب بڑھنگے۔ ہمیں جذباتی موضوعات اور ہنگامی کاموں سے آگے بڑھ کر ٹھوس اور long term کاموں کی منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔short term goals کے ساتھ ساتھ long term goals بھی طئے کرنے ہونگے ۔ ہمارے تعلیم یافتہ طبقہ کو whats app, face book پر like and dislike سے نکل کر حقائق پر مشتمل مواد تیار کرنے کی جانب متوجہ ہونا چاہیے۔دیگر اقوام کے ساتھ engage ہونے کے راستہ تلاش کرنا چاہیے۔اور ملک میں بڑھتی فرقہ واریت پر بندھ باندھنا چاہیئے ۔معاشی و اخلاقی بحران سے نکلنے کے راستے سجھانا ہوگا۔اس ملک میں اسلام اور مسلمانوں کا صحیح تعارف کرانا ہوگا ساتھ ہی اسلام کسطرح اس ملک کے سلگتے ہوے مسائل کا حل ہے اسے ثابت کرنا ہوگا۔ اپنے وقت اور صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرنا ہوگا ۔اور منظم جدوجہد کرنا ہوگا ۔تبھی ہم اس وقتی جنجال سے نکل سکتے ہیں ورنہ یہی وقتی درد ایک بڑے عارضہ میں تبدیل ہو جائےگا۔اور خدانخواستہ ہماری شناخت, ہماری حقیقت،ہمارے مقصد وجود کے موت کا سبب بنےگا۔۔۔۔
Comments
Post a Comment