علم سیاست کیا ہے؟
🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺
*علم سیاست کیا ہے؟*
*علم سیاست کوئی نیا علم نہیں؛ بلکہ یہ وہ علم ہے جو فلسفے کی کتابوں میں پڑھایا جاتا ہے،جیسے کہ میبذی کی فلسفہ پر کوئی بھی کتاب پڑھئے ،تو اس کے اندر فلسفہ کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں:۱۔حمکت نظریہ: جس کے اندر طبعیات،عنصریات،فلکیات اور الہیات شامل ہوتے ہیں۔۲۔حکمت عملیہ:یہی وہ صنف ہے جس کا تعلق سیاست سے ہے،میبذی نے اس کی دو شاخیں نقل کی ہیں،ایک کا نام سیاست مدن،اور دوسرے کا نام تدبیر المنزل ہے،یعنی سیاست دراصل حکمت عملیہ کا ایک حصہ ہے اور اس کا وجود فلسفہ کے وجود کے ساتھ ملحق ہے،جب ہی سے اس پر تحقیقات وتصنیفات بھی جاری ہیں۔جہاں تک سیاست پر پہلے کتاب کی بات ہے،تو ایسا معلوم ہوتا ہے؛ کہ سیاست پر سب سے پہلی کتاب سقراط کے شاگرد افلاطون نے لکھی،جو تقریبا حضرت عیسی مسیح علیہ السلام سے ۴۰۰ سال قبل تھا،اس نے وہ کتاب "جمہوریہ" Republic کے نام سے لکھی جو مکالماتی طرز پر ہے،اسی کو علامہ اقبال نے کہاتھا:*
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
مکالمات افلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں
یہ کتاب سیاست کے موضوع پرخشت اول ہے،اور اسی نے سب سے پہلے"جمہوریہ"کا لفظ استعمال کیا ہے،اس کتاب کے اندر اس نے مطلق العنان حکمرانی کی حمایت کی اور اسی نے اسے برت کر بھی دکھایا،جب کہ اسے اس کی کتاب اور نطریہ کی وجہ سے یونان کے دارالحکومت "ایتھینزیا" کے حاکم نے زہر پینے پر مجبور کیا؛لیکن اس نے تمام مواقع ہونے کے باوجود فرار پانے سے انکار کردیا،اور کہتا رہا کہ حاکم سے میرا معاہدہ ہے وہ جو چاہے کرے میں غداری نہیں کرسکتا۔اس کے بعد اس کے شاگرد خاص ارسطو نے اس فن کو مزید منقح ومزین کیا اور ایک کتاب لکھی جس کا نام "سیاست"Politics رکھا،اس کے علاوہ اس نے سائنس کے اکثر شعبہ کی بنیاد رکھی،جیسے علم طب،علم حیوانات،علم طبقات الارض،علم فلکیات،علم البصریات وغیرہ؛لیکن اندازہ ایسا ہوتا ہے؛کہ فلسفہ اور اظہار اسلوب وغیرہ میں ہمیشہ تبدیلیاں آتی رہیں،چنانچہ ہم تک جو فلسفہ پہونچا وہ میبذی کا ذریعہ یے،وہ ارسطو کا فلسفہ نہیں ہے؛بلکہ درحقیقت فلسفہ کی ایک شاخ بعد میں پیدا ہوئی جس کو "نوافلاطونی"فلسفہ کہتے ہیں،میبذی،ہدیہ سعیدیہ اور صدرا شمس بازغہ کا فلسفہ دراصل "نوافلاطونی" ہے۔
*حقیقت یہ ہے کہ فلسفہ کا پورا علم خام خیالی کے قلعے پر مبنی ہے،کسی بھی فلسفہ کو مسلم تصور کرنا مشکل ہے،ہر ایک نے اپنی وسعت وقدر کے موافق تشریح کی ہے،اور متعدد تصنیفات وتالیفات کی ہیں؛لیکن جب اسلام آیا اور اسلامی تعلیمات نے اپنے گوہر نایاب کاتعارف کرایا، تو اس میں علم سیاست کا گوہر بھی اپنی آب وتاب کے ساتھ موجود تھا،اسی لئے جب مسلمان علماء وماہرین نے اس موضوع پر قلم اٹھایا، تو قرآن وسنت کی روشنی میں بھرپور مواد کے ساتھ اور مسلمات کے ساتھ کام لیا، اور انہوں نے ہی اسے ایک باقاعدہ فن قرار دیتے ہوئے "السياسة الإسلامية"کی بنیاد رکھی،جس کے اندر ابومنصور ماتریدی،امام فخرالدین رازی اور امام غزالی جیسی شخصیات نے خاطر خواہ شہرت پائی ہے*۔(دیکھئے:اسلام اور سیاسی نظریات۔از مفتی تقی عثمانی صاحب مد ظلہ۔ابتدائی بحث)
✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392
04/04/2018
Comments
Post a Comment